پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ۔۔۔ ڈاکٹر احمد ندیم وڈاکٹر عبدالمتین۔۔۔ اصلاح، رہنمائی اور انسان دوستی کا ایک مثبت چہرہ

پاکستان خصوصاً پنجاب کے معاشرے میں عمومی طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جتنا بڑا عہدہ، اتنے زیادہ اختیارات، اور اتنی ہی سختی یا تکبر۔ اکثر لوگ یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ طاقت اور اختیار رکھنے والے افراد عوام کے ساتھ غیر مناسب، تحکمانہ یا بعض اوقات توہین آمیز رویہ اختیار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ انسان کی عزت و توقیر اس کی انسانیت سے زیادہ اس کے عہدے، دولت یا حیثیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
لیکن بعض ادارے اور بعض لوگ اس عمومی تاثر کو غلط ثابت کر دیتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ Punjab Healthcare Commission کے ساتھ کچھ ایسا ہی رہا۔
مجھے بغیر کسی تعارف یا سفارش کے پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ڈاکٹر احمد ندیم اور ڈاکٹر عبدالمتین پر مشتمل ایک ٹیم سے واسطہ پڑا۔ ابتدا ہی سے ان کا انداز انتہائی مہذب، شائستہ اور پیشہ ورانہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنا مکمل تعارف کروایا بلکہ پوری ٹیم کا بھی باقاعدہ تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد انتہائی احترام کے ساتھ یہ درخواست کی کہ وہ متعلقہ ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹ کا وزٹ اور انسپیکشن کرنا چاہتے ہیں۔
ٹیم کے اراکین نے ادارے میں داخل ہوتے ہی خوش اخلاقی اور مثبت انداز کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کسی قسم کی سختی، دھونس یا تحقیر آمیز رویہ اختیار نہیں کیا بلکہ نہایت سنجیدگی اور پروفیشنل انداز میں تمام امور کا جائزہ لیا۔ جہاں جہاں انہیں بہتری کی ضرورت محسوس ہوئی، وہاں رہنمائی بھی فراہم کی۔ انہوں نے صرف خامیوں کی نشاندہی نہیں کی بلکہ یہ بھی بتایا کہ ان مسائل کو بہتر طریقے سے کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔
انسپیکشن کے بعد انہوں نے ایک باقاعدہ خط جاری کیا جس میں Minimum Service Delivery Standards (MSDS) کے مطابق اُن تمام نکات کی نشاندہی کی گئی جو مطلوبہ معیار سے کم تھے۔ ساتھ ہی ایک ماہ کا مناسب وقت دیا گیا تاکہ ان امور کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ انداز کسی سزا دینے والے ادارے کا نہیں بلکہ اصلاح، رہنمائی اور بہتری لانے والے ادارے کا تھا۔
حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ایک لمحے کے لیے بھی ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اختیار رکھنے والے افراد کسی برتری یا غرور کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ وہ چاہتے تو سخت لہجہ، دفتری رعب یا تھانیدارانہ انداز بھی اختیار کر سکتے تھے، لیکن انہوں نے انسانیت، شائستگی اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کو ترجیح دی۔
میرا یہ ماننا ہے کہ صبح سے شام تک مختلف قسم کے اداروں، رویوں اور مزاج رکھنے والے لوگوں سے واسطہ پڑنے کے باوجود اگر کوئی ٹیم اپنا اخلاق، تحمل اور احترام برقرار رکھتی ہے تو یقیناً اس کے پیچھے ایک مضبوط تربیتی نظام اور اعلیٰ قیادت موجود ہوتی ہے۔
میں خاص طور پر ڈاکٹر عبدالمتین، ڈاکٹر احمد ندیم اور ان کی پوری ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اپنے طرزِ عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایک ریگولیٹری ادارہ بھی خوف کی علامت بننے کے بجائے اصلاح، رہنمائی اور اعتماد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Punjab Healthcare Commission کا بنیادی مقصد صرف قوانین کا نفاذ نہیں بلکہ پنجاب بھر میں صحت کے نظام کو بہتر بنانا، مریضوں کے حقوق کا تحفظ کرنا، اور ہیلتھ کیئر اداروں کو معیاری خدمات فراہم کرنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے کہ ہر مریض کو محفوظ، باوقار اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں۔
اسی طرح ہیلتھ کیئر اسٹیبلشمنٹس کے بھی کچھ حقوق اور فرائض ہیں۔ ان کا حق ہے کہ ان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے، انہیں رہنمائی فراہم کی جائے، اور بہتری کے لیے مناسب وقت اور مواقع دیے جائیں۔ جبکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں کو محفوظ ماحول، معیاری علاج، صفائی، تربیت یافتہ عملہ اور اخلاقی طبی خدمات فراہم کریں۔
دوسری طرف مریضوں کے بھی بنیادی حقوق ہیں، جن میں عزت کے ساتھ علاج، رازداری، درست معلومات، محفوظ طبی سہولیات اور شکایت درج کروانے کا حق شامل ہے۔ ایک مہذب اور ترقی یافتہ صحت کا نظام اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب مریض، ڈاکٹر، عملہ اور ریگولیٹری ادارے سب اپنی اپنی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں۔
میرا ذاتی تجربہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اگر ڈاکٹر احمد ندیم اور ڈاکٹر عبدالمتین کی طرح تمام دیگر اداروں میں موجود افسران و اہلکار وں میں اختیار کے ساتھ اخلاق، انسانیت اور پیشہ ورانہ تربیت شامل ہو جائے تو ادارے خوف کی علامت نہیں بلکہ اعتماد، اصلاح اور بہتری کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی یہ ٹیم یقیناً اسی مثبت سوچ کی عکاس ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *