عالمی رپورٹس پاکستان کے افغانستان سے متعلق مؤقف کی توثیق کرتی ہیں

تحریر: طارق خان ترین

افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی اثرات کے بارے میں پاکستان کا اصولی، مستقل اور دو ٹوک مؤقف اب محض ایک سفارتی دعویٰ یا داخلی بیانیہ نہیں رہا بلکہ اسے بین الاقوامی نگرانی کے معتبر نظاموں، آزاد سیکیورٹی تجزیات، بڑی طاقتوں کے سرکاری اندازوں اور زمینی حقائق کی روشنی میں بتدریج عالمی قبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ 2021 کے بعد خطے میں ابھرنے والی نئی جغرافیائی و تزویراتی صورتِ حال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی کا احیاء نہ تو قیاس آرائی ہے، نہ سیاسی پراپیگنڈا اور نہ ہی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کا حربہ، بلکہ یہ ایک دستاویزی، قابلِ پیمائش اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقیقت ہے جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی، علاقائی استحکام اور عالمی امن سے جڑے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی تازہ رپورٹ، جو اس کے باضابطہ مانیٹرنگ فریم ورک کے تحت جاری کی گئی، افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتِ حال سے متعلق پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی مضبوط اور واضح تائید کرتی ہے۔ رپورٹ میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ 2021 کے بعد افغانستان کی عبوری حکومت کے قیام کے ساتھ متعدد دہشت گرد تنظیموں کو ایک ایسا عملی اور سازگار ماحول میسر آیا جس نے انہیں نہ صرف ازسرِنو منظم ہونے بلکہ سرحد پار کارروائیوں کی صلاحیت بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔ خصوصاً تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان کی سرزمین سے آپریشنل آزادی، لاجسٹک سہولت اور نقل و حرکت کی گنجائش میسر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اس نے پاکستانی سرزمین کے اندر حملوں کی ایک منظم اور تسلسل کے ساتھ جاری مہم کو برقرار رکھا۔ یہ اعتراف کسی یکطرفہ دعوے کا اعادہ نہیں بلکہ ایک عالمی ادارے کے تحت کام کرنے والے نگرانی کے نظام کی باقاعدہ دستاویز ہے۔

رپورٹ میں القاعدہ، بشمول القاعدہ برصغیر، کی افغانستان میں موجودگی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اس تنظیم کو محض ایک علامتی یا منتشر گروہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک “فورس ملٹی پلائر” کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو دیگر عسکری تنظیموں کو تربیت، نظریاتی رہنمائی، آپریشنل مشاورت اور تنظیمی معاونت فراہم کر رہی ہے۔ یہ پہلو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں دہشت گردی اب انفرادی یا الگ تھلگ گروہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک مربوط، نیٹ ورک پر مبنی اور باہم مربوط ڈھانچے میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اسی طرح داعش خراسان (آئی ایس کے پی) کی فعال موجودگی اور اس کے آپریشنل ڈھانچے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جبکہ ٹی ٹی پی، آئی ایس کے پی اور بی ایل اے/فتنہ الہند کے درمیان روابط، مشترکہ تربیتی کیمپ، وسائل کے تبادلے اور مربوط کارروائیوں کی اطلاعات ایک خطرناک اشتراک کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ تمام عناصر مل کر اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغانستان میں طاقت کی نئی ترتیب نے ایک ایسا عسکری ماحولیاتی نظام تشکیل دیا ہے جس کا براہِ راست ہدف پاکستان ہے۔

یہ بین الاقوامی تشخیصات محض تجزیاتی بیانات نہیں بلکہ پاکستان کے اندر پیش آنے والے دردناک واقعات سے براہِ راست مطابقت رکھتی ہیں۔ 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ہونے والا خودکش دھماکہ، جس میں ایک درجن سے زائد افراد شہید ہوئے، اور 6 فروری 2026 کو ایک امام بارگاہ پر حملہ جس میں چالیس افراد جان کی بازی ہار گئے، دونوں کی ذمہ داری ان تنظیموں نے قبول کی جو افغانستان میں موجود اور متحرک ہیں۔ یہ حملے صرف جانی نقصان تک محدود نہیں تھے بلکہ انہوں نے پاکستان کے عدالتی نظام، مذہبی ہم آہنگی اور شہری سلامتی کو نشانہ بنا کر ریاستی ڈھانچے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔ اسی دوران خیبر پختونخوا میں ایک انسدادِ دہشت گردی آپریشن کے دوران ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو اہلکار خودکش دھماکے میں شہید ہوئے جبکہ پانچ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ یہ واقعات اس جاری غیر روایتی جنگ کا حصہ ہیں جو شہری مراکز، سیکیورٹی فورسز اور مذہبی مقامات کو ہدف بنا کر خوف، تقسیم اور بداعتمادی کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر مبنی ہے۔

بین الاقوامی توثیق صرف اقوامِ متحدہ تک محدود نہیں رہی۔ روسی فیڈریشن کی وزارتِ خارجہ نے اپنے اندازے میں واضح کیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 ہزار سے 23 ہزار کے درمیان جنگجو سرگرم ہیں، جن میں نصف سے زیادہ غیر ملکی عناصر شامل ہیں۔ اس جائزے میں داعش خراسان، ٹی ٹی پی اور القاعدہ کو مرکزی کرداروں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے، جبکہ اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک بڑی عالمی طاقت کی جانب سے اس نوعیت کی سرکاری تشخیص پاکستان کے اس مؤقف کو مزید تقویت دیتی ہے کہ افغانستان دوبارہ بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں بیرونی سیکیورٹی تجزیات نے پاکستان کے اندر سرگرم بعض مسلح گروہوں کی نوعیت میں تبدیلی کی بھی نشاندہی کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق ڈائریکٹر برائے مواصلات جو بُوچینو کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) ایک نام نہاد علیحدگی پسند تنظیم سے تبدیل ہو کر جدید دہشت گرد نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے، جو خودکش حملوں، ٹرین ہائی جیکنگ، مربوط کثیر مقامی حملوں اور اسٹریٹجک تنصیبات پر یلغار جیسے حربے استعمال کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس تنظیم کے طریقہ کار روایتی قوم پرست تحریکوں کے بجائے بین الاقوامی دہشت گرد نیٹ ورکس سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں، خصوصاً جب شہریوں اور معاشی ڈھانچے کو دانستہ نشانہ بنایا جائے۔ یہ تبدیلی اس بات کی عکاس ہے کہ مختلف گروہ اب ایک وسیع تر غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے تحت باہم مربوط انداز میں سرگرم ہیں۔

پاکستان کا ردِعمل متوازن، قانونی اور دفاعی نوعیت کا رہا ہے۔ افغانستان کے اندر موجود سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جو اس مسلسل ناکامی کے پس منظر میں کیا گیا جس کے تحت افغان عبوری حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں مؤثر اقدامات نہ کر سکی۔ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت حقِ دفاع کے اصول کے مطابق تھیں اور ان کا مقصد اشتعال انگیزی نہیں بلکہ فوری خطرات کا سدباب تھا۔ پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا ہدف تصادم نہیں بلکہ احتساب، اور کشیدگی نہیں بلکہ سرحد پار دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔

پاکستان مسلسل اس امر پر زور دیتا آیا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہ، جنہیں داخلی طور پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان قرار دیا گیا ہے، بیرونی سرپرستی کے تحت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں شواہد اور انٹیلی جنس دستاویزات عالمی برادری کے ساتھ شیئر کی جا چکی ہیں۔ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں، مالی معاونت، اسلحے کی ترسیل اور معلوماتی جنگ کے امتزاج نے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی عدم استحکام کا ڈھانچہ تشکیل دیا ہے، جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان کا بنیادی مؤقف خودمختاری، عدم مداخلت، علاقائی سالمیت اور بین الاقوامی ذمہ داری کے اصولوں پر مبنی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ تعمیری سفارت کاری، کابل کے ساتھ بامعنی روابط، انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں کی پاسداری اور بین الاقوامی معاہدات پر عملدرآمد کی حمایت کی ہے۔ تاہم، خودمختاری کا تقاضا یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ اگر ایک ریاست اپنی سرزمین کو دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہتی ہے تو متاثرہ ریاست کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ وہ بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہ کر اقدامات کرے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹس، بڑی طاقتوں کے سرکاری اندازے، آزاد تجزیات اور پاکستان کے اندر پیش آنے والے واقعات کا مجموعی وزن اس امر کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے خدشات وقتی یا مبالغہ آمیز نہیں تھے بلکہ ایک ابھرتی ہوئی سیکیورٹی حقیقت کی پیشگی نشاندہی تھے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی اعتراف کو مربوط عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے، دہشت گرد تنظیموں کے مالی و عسکری ڈھانچوں کو توڑا جائے، سرحد پار پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جائے اور خطے میں ذمہ دارانہ ریاستی رویے کو فروغ دیا جائے۔

پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ، اپنی علاقائی سالمیت کے دفاع اور جنوبی و وسطی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے حقائق کا بڑھتا ہوا اعتراف نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی سفارتی توثیق ہے بلکہ یہ ایک تاریخی موقع بھی ہے کہ علاقائی سیکیورٹی تعاون کو شفافیت، احتساب اور مشترکہ ذمہ داری کی بنیاد پر ازسرِنو ترتیب دیا جائے۔ امن اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردی کے ڈھانچوں کو ختم کیا جائے، معاہدوں کی پاسداری یقینی بنائی جائے اور کسی بھی ریاست کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکا جائے۔ یہی جنوبی ایشیا کے محفوظ اور مستحکم مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *