عقیل کریم ڈھیڈی کا دعویٰ تلخ حقائق

تحریر۔نظام الدین

​ایران و توران کی مسلسل سنسنی خیز خبروں سے فرصت مل چکی ہو تو اپنے ملک پاکستان کے حالات پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ کچھ سیاست دان اور صحافی غالباً یہی چاہتے ہیں کہ ملک میں افراتفری کا ماحول برقرار رہے تاکہ اس کی آڑ میں “مافیاز” کے مفادات کو تحفظ ملتا رہے اور عوام کو مہنگائی کے عالمی بحران کا لالی پاپ دے کر بہلایا جاتا رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں مہنگائی اب محض ایک معاشی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ عام آدمی کی بقا کا مسئلہ بن چکی ہے۔
​پاکستان کا معاشی انجن اور شہ رگ کہلانے والا شہر “کراچی” اب آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے۔ ایسے مخدوش حالات اور انتظامی بحران کے تناظر میں معروف بزنس ٹائیکون عقیل کریم ڈھیڈی کا یہ دعویٰ کہ “کراچی مجھے دیں، میں 90 دن میں ایسی پالیسی بناؤں گا کہ سارے مسائل حل ہو جائیں گے” بظاہر بہت پُر امید نظر آتا ہے۔ ایک ماہرِ معیشت اور تاجر کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو 90 دن کا یہ منصوبہ ممکنہ طور پر ان پالیسیوں پر مشتمل ہو سکتا ہے جو روایتی بیوروکریسی کے بجائے “بزنس ماڈل” پر مبنی ہوں؛ مگر اس شہر کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں مسئلہ اب صرف “ضرورت” کا نہیں رہا، بلکہ “لالچ” اور “ہوس” اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں قارون کا خزانہ بھی کم پڑ جائے۔ ​کراچی محض ایک شہر نہیں، ایک پوری دنیا ہے؛ جہاں ملک بھر کی ثقافتیں، زبانیں اور خواب یکجا ہوتے ہیں۔ مگر حیرت اس بات پر ہے کہ اتنی معاشی طاقت رکھنے والا شہر مسائل کے اندھیروں میں کیوں گھرا ہوا ہے؟ سوال یہ نہیں کہ کراچی کے مسائل کیا ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ یہ مسائل ختم کیوں نہیں ہوتے؟
​اکثر لوگ حکومتوں کو نااہل قرار دیتے ہیں، کچھ انتظامیہ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں اور کچھ سیاست دانوں کو۔ مگر مسئلے کی گہرائی میں جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کا اصل مسئلہ صرف حکمران نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جس کی ہر سطح پر ایک طاقتور “مافیا” کھڑا ہے۔ یہ مافیا صرف زمینوں تک محدود نہیں۔ یہاں پانی کا مافیا ہے، ٹرانسپورٹ کا مافیا ہے، کچرا اٹھانے کے ٹھیکوں کا مافیا ہے اور پارکنگ مافیا ہے۔ یہاں تک کہ ترقیاتی منصوبوں کے پیچھے بھی مفادات کے ایسے جال بچھے ہیں جنہیں توڑنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ​ان گروہوں کے مفادات اس قدر جڑیں پکڑ چکے ہیں کہ ان کے سامنے قانون بھی بے بس دکھائی دیتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان مافیاز کے منہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب کسی گروہ کو برسوں تک غیر قانونی فوائد ملتے رہیں تو وہ اسے اپنا حق سمجھنے لگتا ہے۔ پھر چاہے اس کے سامنے خزانہ ہی کیوں نہ رکھ دیا جائے، اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی کیونکہ اب یہ صرف پیسے کا نہیں بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور کنٹرول کا معاملہ بن چکا ہے۔
​کراچی کی تاریخ میں اصلاحات کے وعدے بارہا ہوئے۔ صوبہ سندھ میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی بھی شہر کو بدلنے کے دعوے کرتی رہی ہے۔ دوسری طرف عقیل کریم ڈھیڈی جیسی شخصیات کا یہ کہنا ہے کہ اگر شہر چند ماہ کے لیے ان کے حوالے کر دیا جائے تو وہ اس کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔ مگر حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ کراچی کا مسئلہ کسی ایک فرد یا ایک حکومت کے بس کی بات نہیں رہا۔ یہاں ایک ایسا متوازی اور غیر رسمی “طاقت کا ڈھانچہ” بن چکا ہے جو ریاستی نظام کے اندر اور باہر، دونوں جگہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کوئی اصلاح کی کوشش ہوتی ہے، کہیں نہ کہیں سے مزاحمت کھڑی کر دی جاتی ہے۔ ​دنیا کے بڑے شہروں کی تاریخ دیکھیں تو وہاں بھی مسائل تھے، مگر وہاں ریاست نے بلا امتیاز قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی عزم نے سنگاپور، دبئی اور استنبول جیسے شہروں کو ترقی کے بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ دبئی کو عالمی معیار تک پہنچنے میں 25 سال لگے، سنگاپور کو 20 سال اور استنبول نے 15 سال میں اپنا انفراسٹرکچر بدلا۔ کراچی کی آبادی اور گھمبیر مسائل کو دیکھتے ہوئے 10 سے 12 سال کی مدت ایک حقیقت پسندانہ وقت ہو سکتا ہے۔
​کراچی میں وسائل کی کمی نہیں۔ یہاں بندرگاہ ہے، صنعت ہے، تجارت ہے اور سب سے بڑھ کر محنتی افرادی قوت ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ شہر کا نظم و نسق مفادات کے ایسے چنگل میں پھنس چکا ہے جہاں ہر اصلاح کسی نہ کسی طاقتور گروہ کے مفاد پر ضرب لگاتی ہے۔ اسی لیے کراچی کا مسئلہ اب انتظامی سے زیادہ ایک “اخلاقی بحران” بن چکا ہے۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا اور ریاستی ادارے کسی دباؤ کے بغیر کام نہیں کریں گے، تب تک مسائل کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ ​کراچی کو ٹھیک کرنے کے لیے صرف سڑکیں بنانے یا کچرا اٹھانے سے زیادہ اس “نظام” کو جڑوں سے صاف کرنے کی ضرورت ہے جس میں کرپشن کے ناسور گہرے ہو چکے ہیں۔ یہ ایک کٹھن راستہ ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ سوال اب بھی وہی ہے؟ کیا ہم واقعی کراچی کو بدلنا چاہتے ہیں؟ یا ہم اس بوسیدہ نظام کے ساتھ جینا سیکھ چکے ہیں؟ جس میں یہ شہر آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *