معاشرے میں بعض جملے محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہ عوامی احساسات کی مکمل ترجمانی بن جاتے ہیں۔ آج کل ایک ایسا ہی جملہ زبان زدِ عام ہے کہ “خودکُشی یا سود رب نے حرام کیا ہے تو جینا حکمرانوں نے حرام کیا ہے”۔ یہ فقرہ دراصل اس گھٹن، بے بسی اور معاشی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے جس سے عام آدمی گزر رہا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پنجاب حکومت نے حالیہ عرصے میں متعدد ترقیاتی اور فلاحی منصوبے شروع کیے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی بہتری، صحت و تعلیم کے شعبوں میں اقدامات، اور سماجی بہبود کے پروگرامز—یہ سب ایسے کام ہیں جنہیں سنجیدگی سے سراہا جانا چاہیے۔ منصوبہ بندی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت ایک واضح سمت میں آگے بڑھتی دکھائی دیتی ہے اور اس کا مقصد عوامی سہولیات میں اضافہ اور نظام کی بہتری ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ترقی عام آدمی تک اسی شکل میں پہنچ رہی ہے جس کی اسے ضرورت ہے؟
یہاں آ کر بات رکتی نہیں بلکہ ایک تلخ موڑ لیتی ہے۔ پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ وہ عنصر ہے جس نے تمام ترقیاتی بیانیے کو پسِ منظر میں دھکیل دیا ہے۔ کیونکہ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف ٹینکی بھرنے تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے—سبزی سے لے کر آٹے تک، کرایوں سے لے کر روزمرہ استعمال کی ہر شے تک۔
آج ایک مزدور، ایک ملازم، ایک چھوٹا دکاندار—سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں: گزارا کیسے ہو؟
یہی وہ مقام ہے جہاں عوام کے دل کی آواز اس تلخ جملے کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ لوگ یہ ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اگرچہ مذہب نے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے، مگر موجودہ حالات میں زندگی خود ایک مشکل ترین امتحان بن چکی ہے۔ یہ الفاظ دراصل بغاوت نہیں بلکہ بے بسی کی انتہا ہیں۔
حکومت کے لیے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے ترقیاتی ایجنڈے کو عوامی ریلیف کے ساتھ ہم آہنگ کرے۔ سڑکیں بنانا، منصوبے شروع کرنا اور ڈیجیٹل نظام متعارف کروانا یقیناً اہم ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ عام آدمی کی جیب پر بوجھ کم کیا جائے۔ پٹرول کی قیمتوں میں استحکام، مہنگائی پر قابو اور بنیادی اشیاء کی دستیابی—یہ وہ عوامل ہیں جو براہِ راست عوام کی زندگی بدل سکتے ہیں۔
اگر ترقی کے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی میں آسانی نہ آئے تو عوام کے لیے یہ ترقی محض خبروں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا شہری ترقی کو تسلیم کرتے ہوئے بھی مطمئن نظر نہیں آتا۔
وقت کا تقاضا ہے کہ پالیسی ساز اس تضاد کو سمجھیں۔ ایک طرف ترقی کی رفتار اور دوسری طرف عوام کی مشکلات—ان دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہی اصل حکمرانی کا امتحان ہے۔ کیونکہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ صرف منصوبے نہیں بلکہ عوام کا سکون اور اطمینان ہوتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر حکمران واقعی عوامی خدمت کے دعویدار ہیں تو انہیں اس جملے کے پیچھے چھپی فریاد کو سننا ہوگا۔ کیونکہ جب عوام جینا مشکل محسوس کرنے لگیں تو ترقی کے تمام دعوے اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں۔
خودکُشی یا سود رب نے حرام کیا ہے تو جینا حکمرانوں نے حرام کیا ہے ؟؟؟