آہ گورنر ہاؤس؟

تحریر۔نظام الدین

​پاکستان کی سیاست میں منصب اور شخصیات کا آنا جانا ایک معمول کا عمل ہے، لیکن تاریخ ہمیشہ ان معدودے چند چہروں کو یاد رکھتی ہے جو اپنے طرزِ عمل سے برسوں پرانی روایات کی کایا پلٹ دیتے ہیں۔ سندھ کے موجودہ گورنر کامران خان ٹیسوری کے حوالے سے ان دنوں سیاسی حلقوں میں یہ بحث درپیش ہے کہ آیا وہ اس منصب پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔ قیاس آرائیوں کے اس تلاطم میں اصل سوال یہ نہیں کہ قرعۂ فال کس کے نام نکلے گا، بلکہ تذبذب اس امر پر ہے کہ کیا گورنر ہاؤس کا بدلا ہوا کردار بھی برقرار رہ پائے گا؟
تاریخی اعتبار سے سندھ کا گورنر ہاؤس ایک ایسی پرشکوہ مگر ہیبت ناک عمارت تصور کی جاتی تھی جس کے گرد اونچی دیواریں اور سنگینوں کا پہرہ تھا۔ یہ عمارت محض اقتدار کی ایک خاموش علامت تھی جہاں عام شہری کا داخلہ ایک خوابِ پریشاں سے کم نہ تھا۔ خاموش راہداریوں اور پروٹوکول کے حصار نے حکمران اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج پیدا کر رکھی تھی۔ تاہم، کامران ٹیسوری نے اس مسند پر بیٹھتے ہی ایک غیر روایتی اور جرات مندانہ راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے ان آہنی دروازوں کو “عوام” کے لیے کھول دیا جن پر کبھی پہرے ہوا کرتا تھا اسے ​جدید علوم اور فلاحِ عامہ کا گہوارہ بنا دیا گورنر ہاؤس صرف رسمی ضیافتوں اور پروٹوکول کا مرکز نہیں رہا تھا بلکہ اسے ایک فعال تعلیمی اور فلاحی ادارے میں بدل دیا گیا تھا۔ نوجوانوں کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) کے جدید ترین کورسز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، میٹاورس اور ویب 3.0 جیسے پروگراموں کا آغاز ایک ایسا انقلابی قدم ہے جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ ساتھ مستحقین کے لیے راشن کی فراہمی اور عوامی شکایات کے فی الفور ازالے کے لیے “گھنٹی” اور ہیلپ لائن کا قیام اس منصب کو عوامی خدمت کے قریب لے آیا ہے۔
​ایک قابلِ ذکر پہلو ان منصوبوں کی مالی اعانت کا ہے۔ یہ دعویٰ زبان زدِ عام ہے کہ ان وسیع تر سرگرمیوں کے اخراجات سرکاری خزانے کے بجائے ذاتی وسائل اور مخیر حضرات کے تعاون سے پورے کیے جا رہے ہیں۔ اگر یہ حقیقت ہے تو یہ پاکستانی سیاست میں ایک درخشاں مثال ہے، کیونکہ یہاں عام طور پر سرکاری عہدیدار قومی بجٹ کے دائرے سے باہر قدم رکھنے کے عادی نہیں رہے۔
اب مقتدر حلقوں میں یہ سوال شدت سے گونج رہا ہے کہ اگر سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں گورنر تبدیل ہوتا ہے، تو کیا یہ عوامی روایات بھی دم توڑ دیں گی؟ کیا نیا آنے والا شخص بھی اسی جوش و جذبے کے ساتھ اس تاریخی عمارت کو عوامی سرگرمیوں کا محور بنائے رکھے گا، یا پھر یہ عظیم الشان عمارت دوبارہ اسی پرانے نوآبادیاتی انداز میں بند دروازوں اور بے جان رسمی تقریبات تک محدود ہو کر رہ جائے گی؟
​پاکستان کا اصل المیہ عہدوں کی تبدیلی نہیں بلکہ “طرزِ حکمرانی” کا فقدان ہے۔ اگر سرکاری ادارے عوام کے لیے اپنی بانہیں کھول دیں، اگر نوجوانوں کو ان کی دہلیز پر مواقع میسر آئیں اور اگر مقتدر طبقہ اپنے منصب کو طاقت کے بجائے خدمت کا وسیلہ سمجھے، تو شاید عوام کا ٹوٹا ہوا اعتماد بحال ہو سکے۔ لیکن اگر سب کچھ محض سیاسی مصلحتوں اور ریوڑیوں کی تقسیم تک ہی محدود رہا، تو عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی۔
​آنے والے ایام میں سیاست دان تو یہ طے کر لیں گے کہ سندھ کا اگلا گورنر کون ہوگا، مگر تاریخ کا بے لاگ فیصلہ اس بنیاد پر ہوگا کہ آیا گورنر ہاؤس “عوام کی پناہ گاہ” بن پایا یا دوبارہ اقتدار کی ایک سرد اور خاموش علامت بن کر رہ گیا۔
​”وہ عمارت جہاں کبھی عام آدمی کا سایہ پڑنا بھی محال تھا، آج وہاں ہزاروں نوجوان اپنے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔”اس وقت 50 ہزار سے زائد نوجوان گورنر ہاؤس میں آئی ٹی ٹیسٹ دے چکے ہیں۔ ان کی امیدیں اس تسلسل سے جڑی ہوئی ہیں۔ کیا عوام اس تبدیلی کو پسند کر رہے ہیں “پہلی بار کراچی کے شہریوں کو محسوس ہوا کہ ریڈ زون کی یہ عمارت ان کے لیے اجنبی نہیں رہی تھی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *