خاندانی نظام: اسلامی معاشرے کی آخری دفاعی دیوار

ایک اسلامی معاشرے میں جب آئے روز ایسے واقعات رونما ہوں جو دین، اخلاق اور انسانیت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہوں تو دل بے اختیار سوال کرتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جسے قرآن نے خیرِ امت قرار دیا تھا، جس کی بنیاد حیا، عزت، احترامِ باہمی اور مضبوط خاندانی اقدار پر رکھی گئی تھی؟ آج کے حالات دیکھ کر یہ سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جس نے ہمارے معاشرے کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے جہاں رشتے کمزور اور انسان تنہا ہوتا جا رہا ہے۔

اکثر ان واقعات کا سارا بوجھ موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بلاشبہ جدید ٹیکنالوجی نے بہت سے نئے مسائل پیدا کیے ہیں، مگر ہر خرابی کا ذمہ دار صرف موبائل یا سوشل میڈیا کو قرار دینا نہ صرف حقیقت سے فرار ہے بلکہ اصل مسئلے پر پردہ ڈالنے کے مترادف بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی ٹیکنالوجی ایک مضبوط خاندانی نظام کے سائے میں استعمال ہو تو کیا اس کے نتائج اتنے ہی خطرناک ہوں گے؟ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ وہ سماجی خلا ہے جو خاندانی نظام کے کمزور پڑنے سے پیدا ہوا ہے۔

اسلامی معاشرے کی بنیاد خاندان پر رکھی گئی ہے۔ خاندان محض چند افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نظام ہے جہاں نسلوں کی اخلاقی، ذہنی اور روحانی پرورش ہوتی ہے۔ والدین کی شفقت، بزرگوں کی دعائیں، چچا تایا اور خالہ پھوپھی کی نصیحتیں، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جو فرد کو خود بخود حدود میں رکھتا ہے۔ مشترکہ خاندان میں پرورش پانے والا انسان جانتا ہے کہ اس کے ہر عمل کا اثر صرف اس پر نہیں بلکہ پورے خاندان پر پڑتا ہے، یہی احساسِ ذمہ داری اسے بے راہ روی سے روکتا ہے۔

بدقسمتی سے جدیدیت اور ماڈرن ازم کے نام پر ہم نے اسی خاندانی نظام کو فرسودہ قرار دے دیا۔ پرائیویسی اور آزادی کے خوش نما نعروں کے پیچھے دراصل تنہائی کو فروغ دیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں، میاں بیوی کے درمیان مکالمہ کمزور ہو چکا ہے، بچے موبائل اسکرین سے تربیت لے رہے ہیں اور بزرگ یا تو نظر انداز ہو رہے ہیں یا ایک کمرے تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ یہ وہ تنہائی ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکیلا پن عورت اور مرد دونوں کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ جب انسان تنہا ہو جاتا ہے تو اس کے لیے غلط اور درست کے درمیان فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تنہائی میں وسوسے جنم لیتے ہیں، جذباتی خلا غلط تعلقات کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور انسان ایسے فیصلے کر بیٹھتا ہے جن پر بعد میں خود بھی پچھتاتا ہے۔ اسلام نے اسی لیے اجتماعیت کو فروغ دیا، تنہائی کو ناپسند کیا اور خاندان، محلے اور مسجد جیسے اداروں کو مضبوط بنانے کی تلقین کی۔

خاندانی نظام کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ فرد پر جبر مسلط کر دیا جائے یا اس کی ذاتی آزادی سلب کر لی جائے، بلکہ اس کا اصل مقصد محبت بھری موجودگی اور اخلاقی نگرانی ہے۔ دادا دادی کی شفقت، چچا تایا کی سرپرستی اور گھر کی خواتین کی نظرِ تربیت ایک ایسا مضبوط حصار بن جاتی ہے جس میں رہتے ہوئے انسان خود کو محفوظ بھی محسوس کرتا ہے اور جواب دہ بھی۔ ایسے گھروں میں پرورش پانے والے افراد کم ہی بے مہار ہوتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیچھے ایک پورا خاندان کھڑا ہے۔

سوشل میڈیا کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ بذاتِ خود نہ اچھا ہے اور نہ برا، بلکہ ایک ذریعہ ہے جس کا استعمال ماحول طے کرتا ہے۔ مضبوط خاندانی پس منظر رکھنے والا نوجوان سوشل میڈیا کو علم، آگہی اور مثبت اظہار کے لیے استعمال کرتا ہے، جبکہ خاندانی سہارا نہ رکھنے والا نوجوان اسی پلیٹ فارم پر توجہ کا بھوکا بن جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی اقدار کھو بیٹھتا ہے۔ یوں اصل مسئلہ اسکرین نہیں بلکہ وہ خالی پن ہے جو گھر کے اندر پیدا ہو چکا ہے۔

اسلام نے عورت کو خاندان کے مرکز کی حیثیت دی ہے، مگر جدید معاشرہ اسے آہستہ آہستہ تنہا کر رہا ہے۔ جب عورت مشترکہ خاندان سے کٹ جاتی ہے، شوہر کی مصروفیات میں گم ہو جاتی ہے اور ماں باپ کی قربت سے محروم ہو جاتی ہے تو وہ جذباتی طور پر کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی کمزوری کئی معاشرتی المیوں کی بنیاد بن جاتی ہے۔ اگر گھر میں بزرگ خواتین اور خاندان کا مضبوط سہارا موجود ہو تو عورت نہ صرف خود محفوظ رہتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی بہترین تربیت بھی کر سکتی ہے۔

اگر ہم واقعی اپنے معاشرے کو اخلاقی تباہی اور جنگل بننے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں خاندانی نظام کو دوبارہ مضبوط کرنا ہوگا۔ ہمیں بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے رحمت جاننا ہوگا، بچوں کی تربیت موبائل کے حوالے کرنے کے بجائے خود کرنی ہوگی اور مغرب کی اندھی تقلید چھوڑ کر اپنی دینی اور معاشرتی اقدار کو اپنانا ہوگا۔ آزادی اور بے راہ روی کے درمیان فرق کو سمجھنا اور سمجھانا ہوگا۔
یہ ذمہ داری کسی ایک فرد، حکومت یا ادارے پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک ہم اپنے گھروں کو مضبوط نہیں کریں گے، تب تک معاشرہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خود احتسابی کریں اور خاندانی نظام کو وہ مقام واپس دیں جو اسلام نے اسے عطا کیا تھا، کیونکہ اسی میں ہماری بقا، عزت اور اجتماعی سلامتی پوشیدہ ہے۔

اگر ہم واقعی معاشرے کو تباہی اور جنگل بننے سے روکنا چاہتے ہیں تو ہمیں مشترکہ خاندانی نظام کو دوبارہ فروغ دینا ہوگا۔ بزرگوں کو بوجھ نہیں، رحمت سمجھنا ہوگا۔ بچوں کی تربیت اسکرین نہیں، انسان کریں
مغرب کی اندھی تقلید چھوڑ کر اپنی اقدار اپنانی ہوں گی۔ آزادی اور بے راہ روی میں فرق سمجھانا ہوگا۔ یہ سب کسی حکومت یا ادارے کا نہیں، ہم سب کا مشترکہ فرض ہے۔

یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، خود احتسابی کا ہے۔ اگر ہم نے خاندانی نظام کو دوبارہ مضبوط نہ کیا تو آنے والی نسلیں نہ ہمیں معاف کریں گی اور نہ ہی تاریخ۔

آئیے!
دادا دادی کو گھر کی زینت بنائیں، چچا تایا کو سرپرست سمجھیں، اور خاندان کو دوبارہ وہ مقام دیں جو اسلام نے اسے عطا کیا ہے۔
اسی میں ہماری بقا، عزت اور سلامتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *