تحریر: محمد منصور ممتاز
صحت کا شعبہ کسی بھی معاشرے کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہوتا ہے، اور جب اس شعبے میں شفافیت، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کیا جائے تو اس کے اثرات براہِ راست عوامی فلاح پر مرتب ہوتے ہیں۔ پنجاب میں اسی وژن کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سرکاری ہسپتالوں کے مالی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سنجیدہ کوششیں جاری ہیں۔
اسی سلسلے کی ایک نمایاں کڑی کے طور پر صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جدید ڈیجیٹل ہسپتال پیمنٹس سسٹم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ یہ اقدام نہ صرف ایک انتظامی بہتری ہے بلکہ صحت کے نظام میں شفافیت اور احتساب کے فروغ کی جانب ایک عملی قدم بھی ہے۔
تقریب میں مختلف اہم شخصیات کی موجودگی اس امر کی عکاس تھی کہ یہ منصوبہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے۔ چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ ڈاکٹر فرقد عالمگیر، سپیشل سیکرٹری ڈویلپمنٹ احمد کمال مان، سی ای او پروفیسر ڈاکٹر بلال محی الدین، ایم ایس ڈاکٹر عامر رفیق بٹ، ڈائریکٹر پی آئی ٹی بی نوشین فیاض اور بینک آف پنجاب کے افسران سمیت فیکلٹی ممبران کی شرکت نے اس اقدام کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔
صوبائی وزیر صحت نے اس موقع پر ڈیجیٹل سسٹم کے مختلف کاؤنٹرز کا خود دورہ کیا اور نظام کا عملی جائزہ لیا۔ ان کا یہ عمل اس بات کا واضح پیغام دیتا ہے کہ حکومت نہ صرف پالیسی سازی تک محدود ہے بلکہ اس کے نفاذ اور مؤثر عملدرآمد پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ شفافیت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہوں نے اس نظام کو مستقبل کی ضرورت قرار دیا۔
اپنے خطاب میں خواجہ سلمان رفیق نے واضح کیا کہ یہ تمام اقدامات مریم نواز شریف کے وژن کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ٹیچنگ ہسپتالوں کے مالی معاملات کو مکمل طور پر شفاف بنانا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے عظمت محمود کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے کاوشوں کو بھی سراہا، جو اس تبدیلی کے پیچھے ایک اہم قوت کے طور پر سامنے آئی ہیں۔
یہ جدید ڈیجیٹل پیمنٹس سسٹم کئی حوالوں سے انقلابی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ مالی بے ضابطگیوں کے امکانات کو کم کرے گا، تو دوسری جانب مریضوں کے لیے سہولیات میں بہتری لائے گا۔ ہسپتال انتظامیہ کو مالی امور کی مؤثر نگرانی میسر آئے گی، جس سے وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس ماڈل کو صرف ایک ہسپتال تک محدود نہیں رکھا جا رہا، بلکہ دیگر سرکاری ہسپتالوں میں بھی اسے مرحلہ وار متعارف کروانے کا منصوبہ ہے۔ یہ حکمت عملی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات کو وقتی نہیں بلکہ پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہے۔
بلاشبہ، ڈیجیٹلائزیشن صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک سوچ ہے۔۔۔
ایسی سوچ جو شفافیت، احتساب اور کارکردگی کو یکجا کرتی ہے۔ اگر اس سمت میں تسلسل برقرار رکھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب سرکاری ہسپتال بھی جدید، مؤثر اور عوام دوست اداروں کی صورت میں سامنے آئیں گے۔
یہ اقدام اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ جب نیت، وژن اور عمل یکجا ہو جائیں تو نظام میں مثبت تبدیلی ناگزیر ہو جاتی ہے۔