تحریر۔نظام الدین
دنیا میں کچھ ایسے عالمی نظام موجود ہیں جو ابتدا میں ریاست اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کے لیے تشکیل دیے گئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ مزدوروں اور ملازمت پیشہ افراد کے حقوق اور مفادات سے جوڑ دیے گئے۔ پینشن فنڈ بھی ایسا ہی ایک نظام ہے، جسے آج عام افراد اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ جب دنیا میں سوشلسٹ تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں، اسی زمانے میں جرمنی میں بھی مزدور تحریکیں عروج پر تھیں۔ اس پس منظر میں جرمنی کے چانسلر اوٹو فان بسمارک نے 1889 میں پینشن کا قانون متعارف کروایا۔ یہ نظام محض فلاحی جذبے کے تحت نہیں، سیاسی اور سماجی ضروریات کے پیشِ نظر نافذ کیا گیا تھا۔ دراصل اس کا مقصد مزدوروں کو ریاست کے قریب لانا اور ابھرتی ہوئی انقلابی تحریکوں کو کمزور کرنا تھا۔ حکومت یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ ریاست اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے، تاکہ بغاوت اور انتشار کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ اس دور میں پینشن صرف 70 سال کی عمر کے بعد دی جاتی تھی، اور اس کے لیے مزدور، آجر اور حکومت تینوں حصہ ڈالتے تھے۔ یہی نظام بعد ازاں دنیا بھر کے سوشل سیکیورٹی ماڈلز کی بنیاد بنا، اور آج تقریباً ہر ملک میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ مگر اس کے ساتھ ایک عجیب تضاد بھی جڑا ہوا ہے۔ ایک طرف انسان اپنی بڑھاپے کی سلامتی کے لیے پینشن فنڈ میں سرمایہ جمع کرتا ہے، اور دوسری طرف یہی سرمایہ عالمی معیشت کے ان پہیوں کو بھی حرکت دیتا ہے جن کا تعلق جنگ، اسلحہ سازی اور طاقت کی سیاست سے ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ایسا ممکن ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ یہ عمل کس حد تک ہو رہا ہے اور ہم اس سے کتنے باخبر ہیں۔ بین الاقوامی ادارے OECD کے مطابق دنیا بھر میں پینشن فنڈز کے اثاثے کھربوں ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ رقم محض محفوظ نہیں رکھی جاتی بلکہ مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے ذریعے بڑھائی جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک عام شہری کی محنت کی کمائی عالمی مالیاتی نظام میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس کے بعد یہ سرمایہ اکثر ایسے راستوں پر گامزن ہو جاتا ہے جن سے خود سرمایہ کار بھی لاعلم ہوتا ہے۔ دنیا کی بڑی دفاعی کمپنیاں، جیسے لاک ہیڈ مارٹن، ریتھیون ٹیکنالوجیز اور بی اے ای سسٹمز، ان سرمایہ کاریوں کا حصہ بنتی ہیں۔ یہ سرمایہ کاری براہِ راست نہیں بلکہ انڈیکس فنڈز اور اثاثہ جاتی منیجرز کے ذریعے کی جاتی ہے۔
یہاں مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ نظام کا ہے۔ جب کوئی پینشن فنڈ عالمی انڈیکس، مثلاً MSCI، کو فالو کرتا ہے تو وہ خود بخود ان تمام کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر لیتا ہے جو اس انڈیکس کا حصہ ہوتی ہیں، چاہے ان کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہو یا اسلحہ سازی سے۔ اسی طرح بڑے سرمایہ کاری ادارے، جیسے بلیک راک، اپنے فیصلے منافع کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کہ لازماً اخلاقی ترجیحات پر۔
یہ صورتحال ایک بنیادی اخلاقی سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ایک استاد، ایک کلرک یا ایک مزدور کی بچت کو ایسے نظام کا حصہ بننا چاہیے جو جنگی صنعت سے منسلک ہو؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے بعض حصوں میں اس سوال نے عملی شکل بھی اختیار کر لی ہے۔ کئی مالیاتی ادارے، جن میں پینشن فنڈز بھی شامل ہیں، ایٹمی ہتھیاروں سے وابستہ کمپنیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ اس کے ردعمل میں کچھ ممالک نے ایسی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے، جس سے “اخلاقی سرمایہ کاری” کا تصور مضبوط ہو رہا ہے۔
اسلامی دنیا میں صورتحال مختلف مگر یکساں طور پر پیچیدہ ہے۔ خلیجی ممالک کے بڑے فنڈز عالمی سطح پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اگرچہ اسلامی مالیاتی اصول سرمایہ کاری کو اخلاقی حدود میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عملی طور پر عالمی مارکیٹ سے مکمل علیحدگی ممکن نہیں رہتی۔ یہ بحث ہمیں ایک تلخ حقیقت کے قریب لے جاتی ہے: عالمی معیشت میں پیسہ غیر جانبدار نہیں ہوتا، بلکہ وہ طاقت کے مراکز سے جڑا ہوتا ہے۔ ایک عام شہری اپنی پینشن کے لیے رقم جمع کرتا ہے تو اس کا مقصد صرف تحفظ ہوتا ہے، مگر وہی رقم ایک ایسے نظام میں شامل ہو جاتی ہے جہاں منافع کی دوڑ انسانی اقدار پر سبقت لے جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شفافیت، مؤثر پالیسی سازی اور عوامی شعور کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔وقت
آ گیا ہے کہ ہم یہ سوال بلند آواز میں کریں:
ہماری بچت کہاں جا رہی ہے؟ کون اس کا فیصلہ کر رہا ہے؟ اور کیا ہمیں اس فیصلے سے آگاہی حاصل ہے؟ اگر یہ سوالات نظرانداز کیے گئے تو ممکن ہے آنے والی نسلیں نہ صرف اپنی معیشت بلکہ اپنی اخلاقی سمت بھی کھو بیٹھیں، اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ پاکستان میں پینشن کا نظام برصغیر کے نوآبادیاتی دور سے جڑا ہوا ہے، جب گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت سرکاری ملازمین کے لیے مراعات کا ایک بنیادی ڈھانچہ قائم کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد یہی نظام تقریباً بغیر کسی بڑی تبدیلی کے جاری رکھا گیا، اور بعد ازاں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے ذریعے اسے قانونی شکل دی گئی۔ ابتدائی طور پر یہ نظام محدود اور قابلِ برداشت تھا، کیونکہ سرکاری ملازمین کی تعداد کم اور اوسط عمر نسبتاً کم تھی۔ مگر وقت کے ساتھ حالات بدل گئے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کا ایک بڑا حصہ صرف پینشن کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے، اور یہ رقم ہر سال خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ نجی شعبے کے لیے 1976 میں ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن (EOBI) قائم کیا گیا، جس کا مقصد مزدور طبقے کو بڑھاپے میں سہارا دینا تھا۔ اصولی طور پر یہ ایک اہم قدم تھا، مگر عملی طور پر یہ ادارہ بھی بدانتظامی، کمزور سرمایہ کاری اور بدعنوانی کے الزامات سے محفوظ نہ رہ سکا۔
کئی بار یہ سوال اٹھا کہ کروڑوں روپے کے فنڈز آخر کہاں جا رہے ہیں اور مستحقین کو مناسب فائدہ کیوں نہیں مل رہا۔
اصل مسئلہ پاکستان کے روایتی پینشن نظام میں ہے، جس کے تحت حکومت ملازمین کو ان کی آخری تنخواہ کے مطابق تاحیات پینشن دیتی ہے۔ یہ نظام اُس وقت قابلِ عمل تھا جب ریٹائرڈ افراد کی تعداد کم تھی، مگر آج جب اوسط عمر اور ملازمین کی تعداد دونوں بڑھ چکی ہیں، تو یہی نظام حکومتی خزانے پر بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ اسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے حکومت نے حالیہ برسوں میں کنٹری بیوٹری پینشن اسکیمیں متعارف کروائی ہیں، جو عالمی طرز کے نظام سے ہم آہنگ ہیں۔ تاہم اس پر بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں: کیا اس میں شفافیت ہوگی؟ کیا سرمایہ کاری محفوظ ہوگی؟ اور کیا مستقبل میں ملازمین کو واقعی وہ فوائد حاصل ہوں گے جن کا وعدہ کیا جا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بھی تیزی سے عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بنتا جا رہا ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں یہاں کے پینشن فنڈز بھی عالمی سرمایہ کاری کے دھارے میں شامل ہو جائیں گے،،