مقامی حقوق پسِ پشت، فیصلے مبینہ طور پر غیر متعلقہ افراد کے ہاتھ میں
( رپورٹ نظام الدین)
کراچی کا قدیم اور گنجان آباد علاقہ لائنز ایریا ایک بار پھر متنازع خبروں کی زد میں ہے، جہاں زمینوں کی ملکیت اور فیصلوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کے مبینہ ایما پر ایک غیر مقامی شخص، جسے “رحیم” کے نام سے پہچانا جا رہا ہے اور جس کا تعلق افغان نژاد بتایا جاتا ہے، لائنز ایریا کی زمینوں سے متعلق فیصلوں میں اثر انداز ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ شخص نہ صرف اس علاقے کا رہائشی نہیں بلکہ اسے لائنز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے بائی لاز اور قانونی ڈھانچے کا بھی خاطر خواہ علم نہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ زمینوں کی الاٹمنٹ، منتقلی یا دیگر اہم امور میں مداخلت کر رہا ہے تو یہ نہ صرف قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ مقامی آبادی کے حقوق پر بھی سنگین ضرب ہے۔
واضح رہے کہ لائنز ایریا ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ ایک باقاعدہ قانونی فریم ورک کے تحت قائم کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد یہاں کے اصل مکینوں کو رہائشی سہولیات فراہم کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا تھا۔ اس منصوبے کے تحت زمینوں کی ملکیت اور ان پر فیصلوں کا اختیار اصولاً صرف مستحق مقامی باشندوں اور متعلقہ اداروں تک محدود ہونا چاہیے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر کسی بیرونی یا غیر متعلقہ شخص کو اس حساس نوعیت کے معاملات میں شامل کیا جا رہا ہے تو یہ ایک خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف بدعنوانی کے دروازے کھولتا ہے بلکہ برسوں سے آباد لوگوں کو بے دخلی کے خطرے سے بھی دوچار کر سکتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا متعلقہ حکام اس صورتحال سے آگاہ ہیں؟ اگر ہیں تو پھر خاموشی کیوں؟ اور اگر نہیں تو یہ ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لائنز ایریا کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ ان کے آئینی اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی مداخلت کو فوری طور پر روکا جائے، تاکہ یہ علاقہ مزید کسی استحصال کا شکار نہ ہو۔
لائنز ایریا میں زمین کا بڑا کھیل؟