شہری ہوشیار

تحریر۔نظام الدین

اجنبی چہرے، خفیہ تعلقات اور ہمارے سوالات
کسی بھی معاشرے میں سوال اٹھانا جرم نہیں ہوتا بلکہ باشعور معاشروں کی پہچان یہی ہے کہ وہاں لوگ غیر معمولی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے ملک میں، جہاں دہشت گردی، خفیہ جنگیں، غیر قانونی شناختی دستاویزات اور بیرونی مداخلت کے واقعات ماضی میں سامنے آچکے ہوں، وہاں حساس معاملات پر سوالات اٹھانا فطری عمل ہے۔ چند روز قبل جب میں نے ایک افغان شہری کے بارے میں خدشات ظاہر کیے اور اسے ممکنہ طور پر مشکوک سرگرمیوں سے جوڑا تو بہت سے لوگ میرے مخالف ہوگئے۔ بعض افراد نے اسے تعصب قرار دیا اور کچھ نے اسے سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن میرا سوال آج بھی وہی ہے کہ آخر ایک اجنبی شخص طاقتور حلقوں کے اتنا قریب کیوں آنا چاہتا ہے؟
میرے شبہات کی بنیاد صرف اس کی قومیت نہیں تھی بلکہ وہ حالات اور معلومات تھیں جنہوں نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کے سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور بعض پولیس افسران سے روابط قائم تھے۔ ایک عام آدمی کے لیے اتنے بااثر حلقوں تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ یہی وہ پہلو تھا جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ آخر اس قربت کا مقصد کیا ہے؟ مزید حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس شخص کا پہلا شناختی کارڈ کوئٹہ سے جاری ہوا، جس میں اس کا نام “محمد رحیم” درج تھا، جبکہ بعد میں کراچی میں “آغا رحیم جعفری” کے نام سے دوسرا شناختی کارڈ بنوایا گیا۔ ایک ہی شخص کے مختلف ناموں اور مختلف شہروں سے شناختی دستاویزات کا اجرا خود ایک سنگین سوال ہے۔ اگر سب کچھ قانونی اور شفاف تھا تو پھر نام کی تبدیلی کیوں ہوئی؟ اور اگر کوئی شخص اپنی اصل شناخت بدلتا ہے تو معاشرے میں شکوک پیدا ہونا لازمی امر بن جاتا ہے۔ دنیا بھر کی انٹیلی جنس تاریخ یہ بتاتی ہے کہ خفیہ نیٹ ورک ہمیشہ اثر و رسوخ رکھنے والے افراد کے قریب جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سماجی تعلقات بناتے ہیں، سیاسی شخصیات تک رسائی حاصل کرتے ہیں، پولیس اور انتظامیہ میں روابط پیدا کرتے ہیں، اور پھر انہی تعلقات کے ذریعے اپنا اثر بڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر غیر معمولی تعلق خود بخود سوال بن جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص مکمل طور پر بے قصور ہو، لیکن جب شناختی ریکارڈ، ناموں کی تبدیلی، طاقتور شخصیات سے قربت اور غیر معمولی سرگرمیاں ایک ساتھ سامنے آئیں تو ایک صحافی، کالم نگار یا تحقیق کرنے والے شخص کا فرض بنتا ہے کہ وہ سوال اٹھائے۔ صحافت کا کام صرف تعریفیں کرنا نہیں بلکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنا بھی ہوتا ہے ، پاکستان ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھ چکا ہے جہاں بعد میں معلوم ہوا کہ بظاہر عام نظر آنے والے افراد دراصل بڑے نیٹ ورکس کا حصہ تھے۔ پاکستان میں بیرونی جاسوسی کے کئی واقعات زیر بحث رہے ہیں۔ مثال کے طور پر حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاکستان میں سرگرم بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو بلوچستان سے گرفتار ہوا تھا۔ اسی طرح 2017 اور 2018 کے دوران پشاور اور چمن سے افغان انٹیلی جنس سے وابستہ متعدد افراد گرفتار کیے گئے تھے، جو مختلف تخریب کاری کی کارروائیوں میں ملوث بتائے گئے۔ ان میں “روزی خان” نامی شخص بغیر قانونی سفری دستاویزات کے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ اسی طرح افغان فوج کے ایک افسر “نور آغا” کی گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے مختلف شناختی دستاویزات برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ کراچی میں بھی 2016 کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناظم آباد کے علاقے سے چار افغان باشندوں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا، جن پر افغان انٹیلی جنس نیٹ ورک چلانے کا الزام تھا۔
یہ تمام واقعات ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جدید جاسوسی صرف خفیہ کیمروں یا فلمی انداز کے ایجنٹوں تک محدود نہیں رہی بلکہ اب شناخت، تعلقات، سماجی رسائی اور اثر و رسوخ بھی اس کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے قومی سلامتی کے معاملات میں خاموشی اختیار کرنا دانشمندی نہیں سمجھی جاتی۔
آج اگر کوئی شخص سوال اٹھاتا ہے تو اسے فوری طور پر دشمنی، تعصب یا سازش قرار دینا درست نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ متعلقہ ادارے شفاف تحقیقات کریں، ریکارڈ کی جانچ کریں اور عوام کے سامنے حقیقت رکھیں، کیونکہ ریاستیں صرف سرحدوں سے نہیں بلکہ شناخت، معلومات اور اداروں کے تحفظ سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *