( تحریر ڈیرہ غازی خان سے چوہدری احمد کی رپورٹ )
کوہِ سلیمان کے یہ بلند و بالا پتھریلے پہاڑ اور خشک زمین دور سے دیکھنے والوں کے لیے شاید سیاحت کا مرکز ہوں، لیکن ان کے دامن میں بسنے والوں کے لیے یہ ایک “زندہ عذاب” سے کم نہیں۔ یہاں زندگی کا بوجھ اتنا بھاری ہے کہ اسے اٹھاتے اٹھاتے نسلیں جوان ہو کر بوڑھی ہوگئیں، مگر ان کی تقدیر نہ بدلی۔ آج کی میری یہ ڈائری ان خاموش چیخوں کے نام ہے جو ان پہاڑوں کے دروں میں دب کر رہ گئی ہیں۔
خواتین، بچے اور بزرگ: تھکے ہوئے کندھے اور ادھورے خواب
کوہِ سلیمان کا ہر چہرہ ایک درد بھری کہانی سناتا ہے۔ یہاں کی خواتین کے کندھوں پر صرف گھاس، لکڑی یا پانی کا مٹکا نہیں، بلکہ غربت اور محرومی کا وہ پہاڑ ہے جو کینسر جیسی موذی بیماریوں کے ساتھ مل کر ان کے وجود کو چاٹ رہا ہے۔ دوسری طرف معصوم بچے ہیں، جن کے ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا، مگر وہ پتھریلے راستوں پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ بوڑھے بزرگوں کی آنکھوں میں حسرتیں جمی ہوئی ہیں کہ شاید مرنے سے پہلے وہ اپنی بستی میں کوئی پکی سڑک یا ایک ڈھنگ کا ہسپتال دیکھ سکیں۔
سڑکیں نہیں، موت کے راستے
یہاں نہ مناسب روڈز ہیں اور نہ ہی ٹرانسپورٹ کا کوئی معقول نظام۔ پتھریلے کچے راستے حاملہ خواتین اور بزرگ مریضوں کے لیے کسی مقتل سے کم نہیں۔ اکثر اوقات ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی راستے کی کٹھن مسافت کسی کی زندگی کا چراغ گل کر دیتی ہے۔ کیا اس جدید دور میں بھی ان لوگوں کا حق صرف کچے راستے اور دھول اڑتی زمینیں ہی ہیں؟
تعلیم اور صحت: ایک خوابِ پریشاں
تعلیم یہاں ایک عیاشی بن کر رہ گئی ہے کیونکہ اسکولوں کی عمارتیں یا تو بھوت بنگلہ بن چکی ہیں یا وہاں اساتذہ کا نام و نشان نہیں۔ رہی بات میڈیکل کی، تو کینسر اور دیگر بیماریاں یہاں گھر کر چکی ہیں، مگر علاج کے لیے نہ کوئی ڈسپنسری ہے اور نہ ڈاکٹر۔ یہاں کا غریب انسان بیماری کو قسمت کا لکھا سمجھ کر جینے پر مجبور ہے۔
معدنیات کی لوٹ مار اور مفاد پرست ٹولہ
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ان پہاڑوں کے سینے میں چھپی قیمتی معدنیات پر کارپوریٹ اداروں، خود غرض سرداروں، وڈیروں اور سرکار کے نام پر پلنے والے مفاد پرستوں کی گدھ جیسی نظریں تو ہیں۔ وہ یہاں سے سونا، کوئلہ اور پتھر تو نکال کر لے جاتے ہیں، لیکن بدلے میں ان باسیوں کو صرف دھول، دھواں اور بیماریاں دے کر جاتے ہیں۔ وراثتی زمینوں پر قبضے کرنے والے تو ہزاروں ہیں، مگر ان کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں۔
اُمید کی شمع: “کوہِ سلیمان اولڈ بک فاؤنڈیشن”
اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں “کوہِ سلیمان اولڈ بک فاؤنڈیشن” ایک واحد انسانی فلاحی ادارہ ہے جو امید کی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ ادارہ اپنی محدود بساط میں فری میڈیکل کیمپس لگا کر، کینسر کے مریضوں کی داد رسی کر کے اور تعلیم کی شمع روشن کر کے ان گہرے زخموں کو سینے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زخم اتنے گہرے ہیں کہ مرہم کم پڑ رہی ہے۔ محرومیوں کا بوجھ دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور فلاحی کاموں کے لیے وسائل محدود ہیں۔
میرا سوال اور آپ کا ساتھ
آج میں اپنے قلم کے ذریعے ان تمام اربابِ اختیار اور مخیر حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ کیا کوہِ سلیمان کے یہ باسی انسان نہیں؟ کیا ان کے بچوں کو تعلیم اور بزرگوں کو علاج کا حق نہیں؟
آئیے! ان تھکے ہوئے کندھوں کو سکون دینے کے لیے آواز بلند کریں۔ “کوہِ سلیمان اولڈ بک فاؤنڈیشن” کے ساتھ مل کر ان کے فری میڈیکل مشن اور تعلیمی مہم کا حصہ بنیں۔ یہ صرف ایک آواز نہیں، بلکہ ایک مظلوم خطے کی پکار ہے۔