(قسط: 2)
تحریر۔نظام الدین
فاروق ستار سے ملاقات کے بعد کراچی سے متعلق اس تحقیقی رپورٹ پر کالم لکھنے کا مقصد ماضی کو دہرانا نہیں، بلکہ یہ بتانا تھا کہ بلدیہ عظمیٰ اور کمشنر آفس سے جو ریکارڈ حاصل کیا گیا، اسے کتابی شکل میں ترتیب دے کر اس کی ایک کاپی اپنے افسر جناب سیف الرحمن گرامی، ایک میئر کراچی فاروق ستار کے دفتر اور ایک کاپی اس وقت کی سب سے مضبوط سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے مرکز ‘نائن زیرو’ پر جمع کرائی گئی تھی۔
افسوس! برطانوی دور کے اس ریکارڈ کی حفاظت جس طرح ماضی میں نہ ہوسکی، اسی طرح بعد میں بھی اس کا کوئی خاطر خواہ بندوبست نہ کیا جا سکا۔ کچھ ریکارڈ ضائع ہوا، کچھ پر قبضہ کر لیا گیا اور کچھ سیاسی طور پر غائب کر دیا گیا۔ آج کمشنر آفس میں مکمل تسلسل والا ریکارڈ بہت کم ملتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ریکارڈ جان بوجھ کر ختم کیا گیا تاکہ “شناخت کا بحران” پیدا کیا جا سکے۔ اگر 1947 سے پہلے کا وہ مکمل ریکارڈ اور نقشے موجود ہوتے، تو شاید کراچی کی آدھی سے زیادہ زمینوں کے کیسز آج عدالتوں میں زیرِ بحث نہ ہوتے۔
تاریخی و قانونی حیثیت:
“گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935” کے تحت کراچی کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ جب 1936 میں سندھ کو بمبئی سے الگ کیا گیا، تو کراچی کو محض ایک شہر نہیں بلکہ ایک پورے صوبے کا مرکز بنایا گیا۔ برطانوی ریکارڈ میں ایسی بحثیں موجود ہیں (خاص طور پر سندھ آزاد کانفرنس کے دوران) جن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ کیا کراچی کو ہانگ کانگ کی طرح ایک “سٹی اسٹیٹ” یا وفاقی علاقہ بنایا جا سکتا ہے، جو کسی صوبے کے بجائے براہِ راست دہلی حکومت کے ماتحت ہو۔
’فیڈرل کیپیٹل’ کا قانونی مواد:
برطانوی دور کے اختتام اور قیامِ پاکستان کے وقت (1947-48) کے قانونی مسودات میں کراچی کی “آزاد حیثیت” کا ذکر ملتا ہے۔ “پاکستان اسٹیبلشمنٹ آف دی فیڈرل کیپیٹل آرڈر، 1948” وہ قانونی دستاویز ہے جس کے تحت کراچی کو سندھ سے الگ کر کے ایک علیحدہ انتظامی اکائی بنایا گیا۔ اگرچہ یہ کوئی “الگ ملک” نہیں تھا، لیکن یہ ریاست کے اندر ایک “وفاقی ریاست” کی طرح تھا جس کا اپنا گورنر اور اپنا بجٹ تھا۔ اس قانون کی بنیاد برطانوی دور کے ان ہی انتظامی ڈھانچوں پر تھی جو دہلی کو ایک الگ صوبہ بنانے کے لیے استعمال ہوئے تھے۔
ریاستِ قلات کا دعویٰ:
اگرچہ کراچی برطانوی ہند کا براہِ راست حصہ تھا، لیکن ریکارڈ بتاتے ہیں کہ قیامِ پاکستان کے وقت خان آف قلات نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ چونکہ کراچی اور اس سے ملحقہ علاقے تالپوروں نے قلات سے “ادھار” یا “عارضی انتظام” کے طور پر لیے تھے، اس لیے برطانوی راج ختم ہونے پر یہ زمین اصل مالک (ریاستِ قلات) کو واپس ملنی چاہیے۔ اگر یہ قانونی نکتہ اس وقت تسلیم کر لیا جاتا، تو کراچی کی حیثیت ایک خود مختار ریاست یا کسی دوسری ریاست کے حصے کے طور پر ابھر سکتی تھی۔
ہانگ کانگ کی طرز پر ‘فری پورٹ’:
1920 کے کمشنر آفس کے کچھ مراسلوں میں ذکر ملتا ہے کہ بعض برطانوی معماروں نے کراچی کو بمبئی کے اثر سے نکال کر ہانگ کانگ کی طرز پر “فری پورٹ” بنانے کی تجویز بھی پیش کی تھی۔ قانونی طور پر ایک فری پورٹ اپنی معیشت اور قوانین میں ایک آزاد ریاست کے قریب تر ہوتا ہے۔
کمشنر آفس کی بوسیدہ فائلوں میں چھپا یہ سچ آج بھی چونکا دیتا ہے کہ انگریزوں کی نظر میں کراچی کی اہمیت محض ایک شہر کی نہ تھی۔ وہ اسے ایک ایسی اکائی کے طور پر دیکھتے تھے جو اپنی بندرگاہ اور جغرافیے کی وجہ سے پورے خطے کو کنٹرول کر سکتی تھی۔ 1948 میں جب اسے سندھ سے الگ کیا گیا، تو وہ درحقیقت اسی پرانے برطانوی انتظامی خیال کی تکمیل تھی جس نے کراچی کو ایک “وفاقی جزیرہ” بنا دیا تھا۔
تحریروں اور دستاویزات کو محفوظ رکھنے کا کام برطانوی راج سے بہت پہلے، مسلم خلافت کے دور میں نہایت مقدس طریقے سے انجام دیا جاتا تھا۔ احادیث اور علومِ اسلامی “بہترین طریقے سے محفوظ رکھے گئے ریکارڈ” کی ایک روشن مثال ہیں، جن سے ہمیں سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
کراچی کے خفیہ خزانے