پاکستان میں مہنگائی کا طوفان تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ آٹے کے بحران کے بعد اب چینی کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں، جس نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔

(ڈیرہ غازی خان بیوروچیف تحریر چوھدری احمد جستجو )

​ حالیہ مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، میں نے اس صورتحال پر ایک کالم ترتیب دیا ہے اور کرپشن مافیا کے کردار پر روشنی ڈالی ہے۔

​کالم: مہنگائی کا زہر اور چینی کی مٹھاس میں چھپی تلخی
​تحریر: ایک پاکستانی شہری

​پاکستان میں عام آدمی کی زندگی اب صرف سانس لینے کی جدوجہد بن کر رہ گئی ہے۔ پہلے آٹے کے لیے لمبی لائنیں اور اب چینی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ—یہ محض معاشی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک منظم “کرپشن مافیا” کی کارستانی نظر آتی ہے۔

​قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوا؟
​حالیہ ہفتوں میں چینی کی قیمتوں میں 15 سے 30 روپے فی کلو تک کا اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ کئی شہروں میں چینی 150 روپے سے تجاوز کر کے 160 سے 180 روپے تک فروخت ہو رہی ہے۔ یہ اضافہ اس وقت ہوا ہے جب ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہونے کے دعوے کیے جا رہے تھے۔

​کرپشن مافیا کا طریقہ واردات (ثبوت اور حقائق)
​چینی کی قیمتوں میں مصنوعی اضافے کے پیچھے چند بڑے عوامل اور مافیا کے “ثبوت” درج ذیل ہیں:

​مصنوعی قلت (Hoarding): شوگر ملز مالکان اور بڑے ڈیلرز چینی کے اسٹاک کو گوداموں میں چھپا دیتے ہیں تاکہ بازار میں سپلائی کم ہو اور قیمتیں بڑھیں۔
​سٹہ بازی (Speculation): واٹس ایپ گروپس اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے چینی کی قیمتوں کا پہلے سے تعین کر لیا جاتا ہے، جس کا حقیقت میں لاگت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
​اسمگلنگ کا گٹھ جوڑ: ایف آئی اے اور دیگر حساس اداروں کی رپورٹس کے مطابق، چینی کی ایک بڑی مقدار پڑوسی ممالک (خاص طور پر افغانستان) اسمگل کر دی جاتی ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں بحران پیدا ہوتا ہے۔
​سیاسی اثر و رسوخ: شوگر انڈسٹری میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو یا تو خود اقتدار میں ہیں یا اقتدار کے ایوانوں تک براہ راست رسائی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے خلاف کارروائی فائل دبانے تک محدود رہتی ہے۔
​مزید ثبوت اور تحقیقاتی پہلو
​اگر ہم مزید گہرائی میں جائیں تو درج ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:

​ایکسپورٹ کی اجازت: جب بھی حکومت چینی برآمد (Export) کرنے کی اجازت دیتی ہے، مافیا اسے جواز بنا کر مقامی قیمتیں بڑھا دیتا ہے، حالانکہ برآمد صرف “اضافی چینی” کی ہونی چاہیے۔
​پیداواری لاگت کا جھوٹ: کسانوں کو گنے کی قیمت کم دی جاتی ہے، لیکن چینی کی قیمت بڑھاتے وقت خام مال کی مہنگائی کا رونا رویا جاتا ہے۔
​خلاصہ: چینی کا مہنگا ہونا کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک “منصوبہ بند ڈکیتی” ہے۔ جب تک سٹہ بازوں اور ذخیرہ اندوزوں کو نشانِ عبرت نہیں بنایا جائے گا، غریب کے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *