گورنر سندھ نہال ہاشمی کے پُرخلوص رویہ کی دل کو چھو لینے والی سچی کہانی ۔۔۔

تحریر: محمد منصور ممتاز

کبھی کبھی زندگی کا ایک لمحہ پوری انسانیت کو آئینہ دکھا دیتا ہے۔ ایک ایسا ہی لمحہ ایک کانووکیشن کی پُروقار تقریب میں سامنے آیا، جہاں خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔۔۔مگر انہی رنگوں کے درمیان ایک ایسا منظر بھی تھا جس نے ہر آنکھ کو نم کر دیا۔
سٹیج سجا ہوا تھا، مہمانانِ خصوصی موجود تھے، والدین فخر سے بھرے بیٹھے تھے، اور طلبہ اپنی کامیابیوں کا ثمر سمیٹنے کے لیے بے تاب تھے۔ ایک ایک کر کے نام پکارے جا رہے تھے، اور ہر طالب علم اپنی محنت کا صلہ وصول کر رہا تھا۔ مگر پھر ایک نام پکارا گیا ۔۔۔ ایک ایسا نام، جس کے پیچھے ایک خاموش کہانی تھی۔
اعلان ہوا، مگر سٹیج کی جانب بڑھنے والا وہ نوجوان خود موجود نہ تھا۔
اس کی جگہ ایک باپ اسٹیج پر آیا ۔۔۔
ہاتھ میں اپنے بیٹے کی ڈگری لینے کے لیے، دل میں ایک طوفان لیے۔ یہ وہی بیٹا تھا جس نے محنت کی، خواب دیکھے، کامیابی حاصل کی۔۔۔
مگر قسمت نے اسے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ اپنی کامیابی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتا۔ ڈینگی جیسے موذی مرض نے اسے نتیجہ آنے سے پہلے ہی ہم سے چھین لیا۔یہ لمحہ بھی ناقابلِ بیان ہے۔۔۔
باپ نے دردِ دل کے ساتھ بیٹے کی کامیابی کی ڈگری وصول کی، یہ ڈگری کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھا۔۔۔ یہ اس کے بیٹے کی محنت، اس کے خواب، اور ادھوری خوشیوں کی نشانی تھی۔ اس کی آنکھیں پُرنم ،دل غمزدہ مگر چہرے پر صبر کی ایک عجیب سی روشنی بھی تھی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، گورنر سندھ نہال ہاشمی، یہ منظر دیکھ کر خود کو نہ روک سکے۔ انہوں نے باپ کو ڈگری وصول کرنے کے بعد جاتے ہوئے روکا اور فرطِ جذبات سے اسے گلے سے لگا لیا۔ یہ محض ایک رسمی عمل نہ تھا، بلکہ انسانیت، ہمدردی اور احساس کی اعلی مثال تھی ۔۔ اس لمحے میں سٹیج پر موجود ہر شخص، اور ہال میں بیٹھا ہر فرد، ایک ہی کیفیت میں ڈوب چکا تھا۔
یہ ایک عجیب تضاد تھا۔۔۔ ایک طرف کامیابی کی خوشی، دوسری طرف جدائی کا غم۔
یہ منظر ہمیں ایک گہرا سبق دے گیا۔
زندگی واقعی بہت مختصر ہے۔ ہم جن رشتوں، جن لوگوں، اور جن لمحوں کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، وہی اصل میں ہماری زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ ہم نفرتوں، انا، اور چھوٹے چھوٹے اختلافات میں الجھ کر ان قیمتی رشتوں کو کھو دیتے ہیں۔
ہمیں سوچنا ہوگا۔۔۔
اگر آج ہم ہیں، تو یقینا کل نہ ہوں گے۔
اگر آج ہمارے اپنے ہمارے ساتھ ہیں، تو یہ ہمیشہ کے لیے نہیں۔
تو کیوں نہ ہم اپنے رویوں کو بہتر بنائیں؟ کیوں نہ ہم آسانیاں بانٹیں؟ کیوں نہ ہم اپنے وجود کو دوسروں کے لیے راحت کا ذریعہ بنائیں؟
بحیثیت انسان، اور بحیثیت مسلمان، ہمارا فرض ہے کہ ہم محبت کو فروغ دیں، نفرتوں کو مٹائیں، اور اپنے اخلاق سے دوسروں کے دل جیتیں۔
اس کانووکیشن کا یہ منظر ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو
چند لمحوں کی مختصر زندگی میں پُرخلوص رویوں سے دوسروں کی درد بھری زندگی کو پُرسکون بنا سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *