تحریر : محمد منصور ممتاز
لاہور کے لیڈی ولنگٹن ہسپتال سے سامنے آنے والی ویڈیو نے انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔
وہ جگہ جہاں زندگی کو بچانے کی آخری امید ہوتی ہے، آج وہی مقام بے حسی کے ایک ایسے منظر میں بدل گیا جسے الفاظ میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔
آپریشن تھیٹر…
جہاں خاموشی، توجہ اور ذمہ داری کا راج ہونا چاہیے…
وہاں دو مختلف مریضوں کے آپریشن کو ایک غیر محسوس مقابلے میں بدل دیا گیا۔
دو ٹیمیں، دو تھیٹرز… اور ایک دوڑ کہ کون پہلے مکمل کرتا ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک حقیقت…
یہ سب کچھ ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کیا جا رہا تھا۔
یہ کوئی معمولی غلطی نہیں…
یہ انسانیت کے وقار کو بے لباس کرنے کے مترادف ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے باہر کا منظر سوچئے…
وہ ماں جو ہاتھ اٹھائے دعا مانگ رہی ہے…
وہ باپ جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اندر کی خبر کا منتظر ہے…
وہ لواحقین جو ڈاکٹر کو مسیحا سمجھ کر اپنے پیارے کو اس کے حوالے کر دیتے ہیں…
اوپر رب پر یقین…
اور نیچے ڈاکٹر پر اعتماد…
مگر جب اندر بے حسی کا بے لباس رقص ہو رہا ہو…
تو یہ یقین کیسے قائم رہ سکتا ہے؟
یہ واقعہ صرف ایک ویڈیو نہیں…
یہ اعتماد کا زوال ہے…
یہ امید کا ٹوٹنا ہے…
تاہم اس اندھیرے میں ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ محکمہ صحت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چار لیڈی ڈاکٹرز کو معطل کر دیا ہے، جبکہ گائنی یونٹ ون کے سربراہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
واضح کیا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران ویڈیو بنانا نہ صرف میڈیکل اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کے وقار اور سلامتی کے بھی منافی ہے۔
یہ اقدام ضروری تھا… مگر کافی نہیں۔
سوال اب بھی باقی ہے—
کہ ایسے حساس مقامات پر یہ بے حسی کیسے داخل ہوئی؟
نگرانی کہاں تھی؟
ذمہ داری کا احساس کیوں مفقود تھا؟
اگر آج اس واقعے کو ایک مثال بنا کر سخت اصلاح نہ کی گئی…
تو کل یہ رویہ ایک معمول بن جائے گا۔
اور پھر شاید وہ وقت دور نہیں…
جب لوگ سرکاری ہسپتالوں سے بھی خوف کھانے لگیں گے—
چاہے زندگی ہی کیوں نہ داؤ پر لگی ہو۔
یہ صرف ایک ہسپتال کا معاملہ نہیں…
یہ ہم سب کے اعتماد کا معاملہ ہے…
کیونکہ جب شفا کے گھروں میں بے حسی بے لباس ہو جائے…
تو دعائیں بھی لرزنے لگتی ہیں…
اور امیدیں دم توڑنے لگتی ہیں…