ایران نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان کی حمایت قابلِ قدر ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس یکجہتی کی قدر ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان نے ایران کے عوام اور حکومت کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے اور بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرتا رہے گا۔
یہ تنازع اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے فوجی مقامات پر مشترکہ حملے کیے۔
ایران نے ان حملوں کے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے جس سے خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
اس تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے اہم سمندری راستے پر بھی اثرات پڑے ہیں جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
عالمی منڈیوں میں بھی اس جنگ کے اثرات دیکھنے میں آئے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے بڑے فضائی مراکز میں پروازوں پر بھی پابندیاں لگائی گئیں جس سے فضائی سفر متاثر ہوا۔
پاکستان نے اس صورتحال میں محتاط مگر حمایتی مؤقف اختیار کیا ہے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔
اسلام آباد نے ایران کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور معاشی تعلقات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔
پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی جاری رکھتے ہوئے خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔