تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے تمام عہدیداران، ذمہ داران، سوشل و ڈیجیٹل میڈیا ایکٹوسٹس اور جانثار کارکنان خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے صوبے بھر میں منعقد ہونے والے عظیم الشان، فقید المثال اور تاریخ ساز احتجاجی مظاہروں میں بھرپور شرکت کرکے اپنی جماعتی وابستگی، تنظیمی شعور اور قائدانہ اعتماد کا عملی مظاہرہ کیا۔ کارکنان نے ثابت کردیا کہ جب بھی جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر و سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی جانب سے آواز بلند ہوتی ہے تو جمعیت کے ابابیل ہر لمحہ میدانِ عمل میں اترنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔
یہ احتجاجی مظاہرے محض سیاسی اجتماعات نہیں تھے بلکہ یہ بلوچستان کے غیور عوام اور جمعیت علماء اسلام کے متحرک و منظم کارکنان کی جانب سے اپنی قیادت پر غیر متزلزل اعتماد، فکری وابستگی اور ملی شعور کا واضح اعلان تھے۔ کارکنان اس امر پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نہایت مدبرانہ، مخلصانہ اور بصیرت افروز انداز میں صوبہ بلوچستان کی سیاسی و تنظیمی رہنمائی فرما رہے ہیں۔ ان کی قیادت نے جمعیت علماء اسلام کو بلوچستان میں اتحاد، استقامت اور عوامی قوت کی ایک ناقابلِ شکست علامت بنا دیا ہے۔
یہ حقیقت بھی انتہائی قابلِ تحسین ہے کہ صوبائی امیر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے ایک ہی روز میں ضلع قلعہ سیف اللہ، ضلع پشین اور بعد ازاں ضلع کوئٹہ کے عظیم الشان احتجاجی مظاہروں میں بنفسِ نفیس شرکت کرکے اپنی قائدانہ فعالیت، کارکن دوستی اور جماعتی وابستگی کی روشن مثال قائم کی۔ سفید ریش اور بزرگ صوبائی قائد کی مسلسل تین اضلاع میں شرکت نے کارکنان کے ولولوں کو نئی تازگی بخشی، ان کے جذبات کو مہمیز دی اور جماعتی صفوں میں ایک نئی روح پھونک دی۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی شخصیت خدمت، اخلاص، اعلیٰ ظرفی، رواداری اور کارکن نوازی کا حسین امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان بھر کے کارکنان انہیں بے پناہ عزت، محبت اور عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہر کارکن کو محض ایک سیاسی ساتھی نہیں بلکہ جماعتی سرمایہ اور اپنی قوت تصور کرتے ہیں، جس کے باعث کارکنان اور قیادت کے درمیان اعتماد، محبت اور قربت کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہوچکا ہے۔
گزشتہ روز بلوچستان کے تمام اضلاع میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے اپنی مثال آپ تھے، تاہم ضلع قلعہ سیف اللہ، چمن، کوئٹہ، پشین اور قلعہ عبداللہ کے عظیم الشان اجتماعات نے عوامی قوت، تنظیمی استحکام اور جماعتی نظم و ضبط کی نئی تاریخ رقم کی۔ ان مظاہروں میں عوام اور کارکنان کے جمِ غفیر نے یہ واضح پیغام دیا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں ایک ناقابلِ نظرانداز عوامی و سیاسی قوت بن چکی ہے۔
یہ تمام مناظر اس حقیقت کے غماز ہیں کہ حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کی مدبرانہ قیادت، فکری استقامت اور عوام دوست پالیسیوں کی بدولت جمعیت علماء اسلام بلوچستان میں روز بروز مضبوط، منظم اور مؤثر ہوتی جارہی ہے۔ جماعت آج اتحاد و وحدت کی ایسی تصویر بن چکی ہے جہاں کارکنان ایک جسم اور ایک جان کی مانند اپنی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی اتحاد، یہی نظم اور یہی فکری وابستگی جمعیت علماء اسلام کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔