پاکستانی قوم کی ایک عجیب سی خصلت ہے کہ جواسے ناپسندہو،اس کے ہرکام میں کیڑے نکالتی ہے۔مہنگائی اس کے نصیب میں لکھی ہوئی ہے کہ یہ لوگ اپنے اندرایسے لیڈرنہ پیداکرسکے جوقوم کواپنی قومی حیثیت کے مطابق قومی ضروریات کوپورا کرنے کے شعوروالے ہوتے اورقوم کو بھی یہ شعور دے سکتے۔جس طرح قوم کے ہرسیانے اورجھلے کے من میں ایک ہی مراد ہے کہ وہ کسی طرح انگریزوں کے دامن سے چمٹ کرانہیں کی طرح گوراچٹاہوجائے،یاان کی طرح انگلش بول کران کے لیے قابل قبول ہوجائے،اسے انگریزوں کے گھروں میں کام کرنے ان کے ہوٹلوں میں گلیوں اورسڑکوں کی صفائی کرنے کی سعادت مل جائے حتیٰ کہ ان کی نشنلٹی مل جائے،ایسے ہی ان کے لیڈروں کو بھی یہی ایک لت لگی ہوئی ہے کہ انگریزوں کی طرح لگرژری قسم کے رہت ورہائش اوردفاترہوں، سڑکیں اورٹرانسپورٹ ان کی طرح کی ہو، تعلیم وتربیت کے مراکزپہلے توہوں ہی ان کے اگرایسانہ ہوتوکم ازکم تعلیمی نصاب توانگلش ہی ہو،اسی لیے انگریزوں کوبھی پتا ہے،کہ لجاتے ہوے للچاتی نظروں سے دیکھنے والوں کوکس طرح اپنے دامن میں لینا ہے توانہوں نے بھی بہت سی ngos بنارکھی ہیں کہ جوعالمی شودرقسم کے تھرڈورلڈکے عوام کوتربیت کرنے کے لیے ہیں،لہذاوہ تعلیم اورصحت کے ایسے پروگرام جن میں صرف لوگوں کو لالچ دے کراپنے کارو بار چلانے کے مواقعے بناناہوتے ہیں،وہ یونیسیف اورورلڈبینک وغیرہ کے ذریعے دماغی طورپرناکارہ اورسیاسی طورپرچلتر بننے والے لوگوں کے ملکوں میں عوام کی بھلائی کے لیے لے کر آتے ہیں،اورہماری قیادتیں یعنی اندھوں میں کانے اسی ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں جوصرف فنڈزکودیکھ سکتی ہے،اس کے پس پردہ مقاصد کونہیں۔وہ پھرملکی مالیاتی نظام کوترتیب دینے اوراسے اپنی قوم کی بھلائی کے لیے استعمال کرنے کے سارے سروے imfجیسے اداروں سے فنڈزحاصل کرکے ملکی معیشت کو چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اورکرتے کرتے وہ سب کچھ imfکے دامن میں ڈال دیتے ہیں،جیسے پاکستان مکھی کی طرح imfکی مکڑی کے جالے میں پھنساہواہے،خوش قسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ڈنگ موجودہے جس کی وجہ سے وہ جالے میں پھنساہونے کے باوجودمکڑی کا لقمہ بننے سے بچاہوا ہے، پاکستان نے 2016 میں اعلان کیاتھاکہ اب ہم imf کے پروگرام سے نکل جائیں گے،اعلان کرنے والے حکومت سے نکل گئے،لیکن ملک imf کے پروگرام سے نہ نکل سکا،کیوں کہ یہاں کی سیاست کاقاعدہ یہ ہے کہ ملک کے اندرجوکام کسی سیاسی جماعت نے ملک کے لیے کرناہے،اپوزیشن اس کی مخالفت کرے گی چاہے وہ اپوزیشن ہی کے فائدے کا ہو،ایسے ہی بدل کر آنے والی حکومت پہلی حکومت کے ان تمام کاموں کوکالعدم کر کے اسی نوعیت کے اپنے نئے کام شروع کردے گی۔توایسی اعلیٰ دماغ قوم کی عالمی ساہوکاروں کوبڑی ضرورت ہوتی ہے،اوروہ ان کواپنے واری صدقے جانے والے ڈھنگ سے دانتوں میں دبائے رکھتے ہیں۔پاکستان کے اندراکھاڑپچھاڑ کرنے والے اوران کے سارے مہرے اپنی اپنی خواہشات اورمفادات کے علاوہ کوئی قومی اورملکی مفادمدِنظرنہیں رکھتے،اسی طرح کرتے کرتے اب قوم اس نہج پرپہنچ چکی ہے کہ وہ ایک قوم نہیں بلکہ مختلف شخصیات کے دھڑے ہیں،ہردھڑااپنے چوہدری کے لیے ملک اورقوم کانقصان تک کرنے سے بھی گریزنہیں کرتا۔مہنگائی کااصل سبب یہی ہے کہ ملک imfکے احکامات کے تابع ہے،ہرسال بجٹ میں اشیائے خورونوش اورتیل، گیس اور بجلی وغیرہ مہنگے ہوتے ہیں،اورہرحکومت کے دورمیں ہوتے ہیں،اوراس وقت کی اپوزیشن ضرورحکومت کے خلاف بیان بازی کرتی ہے،لیکن بالاخروہ کچھ لے دے کرخاموش ہوجاتی ہے۔2018کے بعدجب مہنگائی بڑھنا شروع ہوئی توحکومت نے خودجواز پیش کیا کہ جب عالمی طورپرچیزیں مہنگی ہوں گی توپاکستان میں بھی مہنگائی ہوگی، انہوں نے کہا کہ خدا نخواستہ ایران کی جنگ ہوجاتی ہے توپیٹرول 500روپے لیٹربھی ہوسکتا ہے،اس وقت پیٹرول وگیس کے علاوہ بہت ساری اشیائے خوردونوش بے تحاشہ مہنگے ہوے تھے،لیکن کسی نے یہ فلسفہ نہیں دیا کہ جو چیزیں پہلے سٹاک شدہ ہیں،ان کوپرانے ریٹس پربیچاجائے،کھانے والاتیل وگھی ایک ہی دن میں 400روپے فی کلومہنگاہوگیا تھا،کسی نے یہ نہیں کہاکہ یہ ملزوالوں کے پاس جوسٹاک ہے اس کو پرانے ریٹ پر یعنی 150روپے کلوہی میں بیچو۔آج جب ملک جنگ میں مصروف ہے،اورخطے میں بھی جنگ جاری ہے،اوردنیا بھرمیں آبی روٹ کی بندش کی وجہ سے پیٹرول کی قلت کا سامنا ہے،اور تقریبا ساری دنیا میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں،پاکستان میں شایددنیا سے زیادہ فی لیٹرقیمت بڑھی ہے،توانتشارپسندوں کے علاوہ اچھے بھلے دانشوربھی ٹی وی چینلزپربیٹھ کرحکومتی نمائندوں سے یہ سوال کررہے ہیں کہ حکومت کے پاس جوکچھ دنوں کا سٹاک پڑاہے اسے حکومت پرانے ریٹ پرکیوں نہیں بیچتی،جبکہ یہی لوگ اس سے پہلے عوام کے لیے کبھی نہیں بولے،جب ذخیرہ اندوزچیزوں کا ذخیرہ کرکے اورمصنوعی قلت پیداکرکے حکومتی بجٹ میں ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کراکرانہیں نئے ریٹس میں بیچتے ہیں،ان بعض اشیاء پرپرانے ریٹس پرنٹ بھی ہوتے ہیں،لیکن بجٹ آتے ہی ان کوپرنٹ شدہ ہونے کے باجود نئے مہنگے ریٹس پربیچا جاتا ہے۔لہذاجوقوم اسقدرانارکی میں مبتلا ہے کہ ملک جنگ میں مصروف ہے،اورملک کے دانشوراورسیاست دان ملک میں انارکی پھیلانے میں مصروف ہیں،ایسی قوم کو اللہ تعالیٰ خودہی بچارہے ہیں،ورنہ ان کے بچنے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ اس قوم کو راہِ ہدایت پرچلااورانہیں ”احساس عنایت کرآثارمصیبت کا،امروزکی شورش میں اندیشہ فردادے“ آمین وماعلی الاالبلاغ۔
مہنگائی اورفلسفے