لائنز ایریا یوسی 10 مسائل کا شکار

تحریر۔نظام الدین

کراچی کا قدیم اور گنجان آباد علاقہ لائنز ایریا طویل عرصے سے بنیادی شہری مسائل کا شکار ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، سیوریج کے مسائل، گندگی کے ڈھیر اور ناکارہ اسٹریٹ لائٹس یہاں کے رہائشیوں کے لیے روزمرہ کی مشکلات بن چکے ہیں۔ ان ہی مسائل کے حل اور عوامی نمائندوں کی توجہ مبذول کرانے کے لیے حالیہ دنوں ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں مقامی بلدیاتی نمائندوں کو مدعو کیا گیا تاکہ علاقے کے مسائل پر کھل کر گفتگو ہو سکے۔
یہ نشست صوبائی اسمبلی کے رکن فیصل رفیق کے کوآرڈینیٹر جناب تفشیر الحق تھانوی کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔ اس ملاقات کا اہتمام راقم الحروف، میڈیا سے تعلق رکھنے والے عمران حسن اور ایڈووکیٹ چوہدری اکرم نے کیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ یونین کمیٹی نمبر 10 کے عوامی مسائل براہ راست منتخب نمائندوں کے سامنے رکھے جائیں ان کے حل کے لیے عملی اقدامات پر بات ہو۔ اوراس کے میکنزم کو سمجھا جاسکے اس موقع پر یونین کمیٹی نمبر 10 کے چیئرمین عمران قریشی کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے شرکت کا وعدہ بھی کیا تھا، مگر افسوس وہ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ ان کی عدم موجودگی نے وہاں موجود شرکاء کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے۔ البتہ یونین کمیٹی کے وائس چیئرمین بابر شیخ اجلاس میں موجود تھے اور انہوں نے مختلف سوالات کے جواب دیے۔ اجلاس کے دوران جب علاقے کے مسائل اور یونین کمیٹی کے انتظامی معاملات پر گفتگو ہوئی تو وائس چیئرمین بابر شیخ نے چند اہم باتیں سامنے رکھیں۔ ان کے مطابق یونین کمیٹی کا باقاعدہ اجلاس آج تک منعقد نہیں ہو سکا اور کونسل کے اراکین کو بجٹ اور ترقیاتی فنڈز کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عملی طور پر زیادہ تر انتظامی امور چیئرمین عمران قریشی اور یونین کمیٹی کے سیکریٹری اخلاق احمد کے ذریعے انجام پاتے ہیں اور مالی معاملات میں ان ہی کے دستخط سے ادائیگیاں کی جاتی ہیں۔
بابر شیخ کا کہنا تھا کہ بطور وائس چیئرمین ان کے پاس محدود اختیارات ہیں اور بہت سے معاملات میں انہیں مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ان کے مطابق یہ صورتحال بلدیاتی نظام کے اس اصول سے مختلف ہے جس کے تحت یونین کمیٹی کے فیصلے کونسل کے اجلاس اور اجتماعی مشاورت کے ذریعے ہونے چاہئیں۔
اجلاس میں شریک افراد نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ یونین کمیٹی نمبر 10 اور یونین کمیٹی نمبر 9 دونوں کے چیئرمین ایک ہی سیاسی جماعت پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے، ایک طویل عرصے بعد امید یہ تھی کہ اس سیاسی تبدیلی کے نتائج مثبت نکلیں گے مگر افسوس سیاسی سطح پر مقامی بلدیاتی نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں بلدیاتی نظام سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت چلتا ہے اس نظام میں میئر کراچی ٹاؤن چیئرمین یونین کونسل کا یوسی چیئرمین ، وائس چیئرمین اور یونین کونسلرز کے عموماً 13 ارکان ہوتے ہیں جن میں جنرل کونسلر اور مخصوص نشستیں شامل ہوتی ہیں چیئرمین اپنے علاقے میں چھوٹے ترقیاتی کام کرواسکتا ہے مثلاً گلیوں کی تعمیر اور مرمت ، اسٹریٹ لائٹس نانے ، نکاسی آب، پارکوں کی صفائی مرمت ، فٹ پاتھ اور اندرونی سڑکیں وغیرہ وغیرہ اس
نشست کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بلدیاتی نظام کی اس اصل روح شفافیت اور جوابدہی پر
اگر یونین کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوں، بجٹ، ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات کونسل اور عوام کے سامنے رکھی جائیں اور منتخب نمائندے براہ راست شہریوں کے سوالات کا جواب دیں تو بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ مگر یوسی کے معمولات میں شفافیت نہ ہونے کی وجہ سے اس ملاقات کی ویڈیو میں وائس چیئرمین کی جانب سے چیرمین عمران قریشی پر لاگائے گئے الزامات کی گفتگو اور دیگر ترقیاتی فنڈز کی خوردبرد کے ریکارڈ کو محفوظ کر لیا گیا اور اس کی ویڈیو چیرمین کو بھی ارسال کر دی گئی تاکہ وہ اس کی تفصیلات بتا سکیں یا ان الزامات کو سائبر کرائم برانچ کو ارسال کر کے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو چیلنج کرسکیں، تاہم یہ تمام تفصیلات کو اس لیے محفوظ کرلیا جب کبھی مستقبل میں اگر کسی سرکاری یا تحقیقاتی ادارے کو صورتحال سے آگاہ کرنا پڑے تو یہ ریکارڈ بطور دستاویزی حوالہ پیش کیا جا سکے۔ وہاں موجود افراد کا کہنا تھاکہ ان کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ علاقے کے مسائل کا حل تلاش کرنا اور بلدیاتی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا تھا، لائنز ایریا کے مکینوں کو امید ہے کہ منتخب نمائندے جلد یا بدیر عوام کے سامنے آئیں گے، مسائل کی وضاحت کریں گے اور عملی اقدامات کے ذریعے علاقے کی حالت بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ بلدیاتی نمائندوں کی اصل ذمہ داری یہی ہے کہ وہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کریں اور شہریوں کے بنیادی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *