آج دنیامیں مصنوعی ذہانت کابڑاچرچا ہے،اورصاحبانِ عقل اس سے بہت سے فائدے بھی اٹھارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ذہانت تقریباًہرزندہ مخلوق میں رکھی ہے،جانوروں میں بھی ذہانت ہوتی ہے،لیکن عقل نہیں،عقل صرف اللہ نے فرشتوں،جنات اورانسانوں کوعطافرمائی ہے۔اوراسی لیے ان کوقابلِ مواخذہ بھی ٹھہرایا ہے۔لیکن ہماراالمیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم ایک زمانے سے بھٹکے ہوے لوگ ہیں کہ ہمیں اپنے علم وورثے سے جدید علم کی روشنی نے اندھاکردیا ہے،ہمیں اپنے دین وتاریخ اورثقافت سے بے علم کردیا گیاہے،ہم جدید علم کی چکاچوندیوں میں اپنے دینی، تاریخی اورثقافتی خدوخال بھول گئے ہیں۔ اس مٹی نے سارے علامہ اقبال ہی توپیدانہیں کیے نا،جوکہتے ”خیرہ نہ کرسکامجھے جلوہ دانشِ فرنگ۔سرمہ ہے میری آنکھ کا ِ خاکِ مدینہ ونجف“۔اورجب کوئی قوم اپنی شناخت مٹاکرکسی اورکے نقش میں ڈھلنے کی کوشش کرے تواکثریہی ہوتا ہے کہ کواچلاہنس کی چال نہ اپنی رہی نہ ہنس کی۔مصنوعی ذہانت سے مرعوب آج ہمارے عقل کے کمزوراکثرلوگ قوم کویہ باورکرانے کی کوشش میں ہیں کہ مصنوعی ذہانت ہی اب دنیااوردین کے سارے مسائل حل کرے گی،لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تومصنوعی ذہانت کے باوجوددنیامسائل حل کرنے کے بجائے جنگ وجدال کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے،اوروہی لوگ جو مصنوعی ذہانت میں ماہرہیں وہی جرم وفساد پھیلارہے ہیں،ہمارے بزعمِ خویش دانشورلوگ مصنوعی ذہانت کے بے عقل کھوجیوں کی ہردرفتنی پرقوم کو خوشخبریاں سناتے اورمصنوعی ذہانت کے فضائل بیان کرنے لگ جاتے ہیں،پچھلے دنوں کسی خوش فہمی میں مبتلا نے یہاں تک کہہ دیا کہ مصنوعی ذہانت سے اب کائنات کے وہ خفیہ راز جو آج تک انسانوں پرنہیں کھل سکے انسان ان پردسترس حاصل کرسکے گا،پچھلے دنوں کسی نے کہا کہ اے آئی سے سوال کیا گیا کہ قیامت میں لوگ کیسے اکٹھے کیئے جائیں گے تواس نے قیامت سے ملتے جلتے ایک اجتماع کی تصویردکھا دی،پل صراط اورفرشتوں وغیرہ کی شبیہ دکھائیں وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ وہ شبیہ ہیں جوانسانوں نے تمثیلات،فلموں اورپینٹنگزمیں بنائی ہوئی ہیں۔ایک دفعہ ایک وی لاگ دیکھاجوہمارے ایک مذہبی سکالرٹائپ بزرگ نے کیاوہ بتارہے تھے،کہ یورپ والے نبی پاک ﷺکی آوازمیں خطبہ حجۃ الوداع کی ریکارڈنگ فضاسے ڈھونڈھ رہے اورشایدانہوں نے اس کے لیے دوہزارتیس کی تاریخ بھی متعین کردی کہ اس تک وہ ریکارڈنگ حاصل ہوجائے گی۔لہذایہ ذہانت والے لوگ اگرعقل سے سمجھتے توشایدوہ ان باتوں کوتصدیق نہ کرتے کہ کوئی سائنس یا مصنوعی ذہانت اللہ تعالیٰ کے ان رازوں کو نہیں پاسکتی ہے جواس نے سربستہ رکھے ہیں۔لہذامصنوعی ذہانت کے گرویدہ لوگوں سے گزارش ہے کہ جس طرح مشینوں نے انسانوں کوبے ہنرکردیا ہے،یاسمجھیں اپاہج کردیا ہے،کہ کوئی بندہ اپنے ہاتھوں سے اشیاء سازی نہیں کرسکتا،حتیٰ کہ عورتیں اپنے ہاتھوں سے اب روٹی بھی نہیں بناسکتیں،ایسے ہی مصنوعی ذہانت نے صحت وعلاج میں مشینوں کواس قدر دخیل کردیا ہے کہ ایک معالج بغیر مشینی معائنہ کے کچھ سمجھ ہی نہیں سکتا،آج امراض کی بھرماراورمشینی چیک اپ کی انڈسٹری مریضوں کوزندگی پرموت کوترجیح دینے پرمجبورکرچکی ہے،اورعالمی طورپرتمام شاطران میش نما گرگ جوانسانیت کونچوڑکراپنی تجوریاں بھرناچاہتے ہیں،انہوں نے سوائے ایلوپیتھک طریقہ علاج کے باقی طریقوں کواپنے قوانین کے شکنجے میں جھکڑکرناقابل کارکردیا ہے، بالخصوص پاکستان میں قومی طریقہ علاج یعنی طبِ یونانی،آیورویدک،دیسی طریقہ علاج،طبِ نبویﷺ اورہومیوپیتھک،الیکٹروہومیوپیتھک،چائینی طب وغیرہ سب کوآہستہ آہستہ قوانین کے پھندوں میں بے دست پاکیا جارہا ہے،کہ یہ طریقے انسانی ذہانت کے تحت عقل سے سمجھ کرعلاج کرتے ہیں،یہ مریض کونبض،علامات یاموسمی اوروقتی عوارض کودیکھ کرعلاج کرسکتے ہیں،جس سے عالمی صحت کی انڈسٹری کی مشینیں نہیں بک رہی ہیں،لہذاان مشینوں کی فروخت کے لیے عالمی روایتی طریقہ علاج پرکئی طرح کی قدغنیں لگائی جارہی ہیں،اورپاکستان میں توچونکہ ہر صاحبِ اختیار واقتدارقومی وملکی مفادپرذاتی مفاد کوترجیح دیتاہے۔،پچھلے دنوں اسمبلی سے ایک بل پاس کرایا گیا کہ اب شادی سے پہلے دلہادلہن کوتھیلے سیمیا کا ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا،کیوں اس لیے کہ بل پیش کرنے والوں کوہی تھیلے سیمیالیبارٹریز بھی الاوہوں گی اورشاید ان کے بغیرکسی اورکا ٹیسٹ قبول بھی نہ کیا جائے،دنیا بھرمیں حکومتیں سرکاری پابندی اس چیزپرلگاتی ہیں جوحکومت بلا معاوضہ کرے۔لیکن ہمارے یہاں سارے شکاری اس قوم کوکسی ناکسی طرح سے نوچنے میں لگے ہوے ہیں،چونکہ مصنوعی ذہانت آپ کو خون چوسنے کا طریقہ تو بتا سکتی ہے،لیکن جس کا خون چوساجائے گااس کی تکلیف نہیں بتاسکتی ٓ،لہذ ا خدارامصنوعی ذہانت میں کمائی کے ذریعے ڈھونڈھنے کے بجائے انسانی ذہانت کوجلادینے کی کوئی راہ نکالیں،اورعالمی کاروباری زنجیروں میں جکڑی مصنوعی ذہانت سے انسانوں کو اپاہج اوراوران کے قومی ومذہبی شعورکواندھانہ کردیں،علامہ اقبال نے اسی لیے کہا تھا۔”اللہ کوپامردیِ مومن پہ بھروسہ،ابلیس کویورپ کی مشینوں کا سہارا“۔اللہ تعالیٰ پاکستان اوراس کے بسنے والے بے اختیارعوام پررحم فرمائے آمین وماعلی الاالبلاغ۔
ذہانت اورعقل