فارمیسی پریکٹس کو اتائیت قرار دینا، پی ایم ڈی سی فارمیسی قوانین سے لاعلم

نسخہ نویسی بغیر کلینیکل فارماسسٹ، نظام صحت کی سنجیدہ اتائیت;
ڈاکٹر شبیر احمد (فارم ڈی)

لاہور (محمد منصور ممتاز سے)

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے وفاقی سیکریٹری صحت کو بھیجے گئے حالیہ خط نے ملک بھر میں ایک نئی پیشہ ورانہ بحث کو جنم دے دیا ہے، جس میں الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کی کلینیکل پریکٹس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے بڑھتی ہوئی “کوئیکری” سے جوڑا گیا
خط میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا کہ غیر مجاز افراد کی جانب سے مریضوں کا علاج، ادویات تجویز کرنا اور کلینیکل مداخلتیں انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ بعض رپورٹس میں اس رجحان کو ہیپاٹائٹس اور ایچ آئی وی کے پھیلاؤ سے بھی منسلک کیا گیا۔
تاہم اس معاملے پر پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن (اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان) نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ایک وضاحتی پریس ریلیز جاری کی، جس میں فارمیسی پروفیشن کو “کوئیکری” سے جوڑنے کو بے بنیاد اور توہین آمیز قرار دیا گیا۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شبیر احمد (آر۔پی ایچ)، سابق پریس سیکریٹری پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن پنجاب نے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا:
“فارمیسی جیسے منظم اور قانونی پیشے کو کوئیکری کہنا دراصل سسٹم کی نہیں بلکہ سوچ کی کمزوری ہے۔ اصل کوئیکری تو وہ ہے جہاں ادویات بغیر کسی کلینیکل فارماسسٹ کی نگرانی کے تجویز کی جاتی ہیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ فارمیسی کسی الائیڈ یا ذیلی شعبہ نہیں بلکہ ایک آزاد اور قانونی طور پر تسلیم شدہ صحت کا شعبہ ہے، جو فارمیسی ایکٹ 1967 کے تحت قائم ہے اور اسے فارمیسی کونسل آف پاکستان ریگولیٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر شبیر کے مطابق الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز کونسل 2022 کا دائرہ کار تکنیکی شعبوں تک محدود ہے، جبکہ فارماسسٹ ایک الگ ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر فارمیسی سروسز کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ کئی ترقی یافتہ ممالک جیسے برطانیہ، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں فارماسسٹ کو محدود پیمانے پر نسخہ نویسی (پریزکرائبنگ رائٹس) کی قانونی اجازت بھی حاصل ہے۔ ان ممالک میں فارماسسٹ ادویات کے محفوظ استعمال، ڈرگ انٹریکشن کی نگرانی، ویکسینیشن، اور کرانک بیماریوں کے مینجمنٹ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان میں بھی اگر مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے تو ہمیں بین الاقوامی ماڈلز سے سیکھنا ہوگا، نہ کہ ایک مستند پیشے کو غلط فہمی کی بنیاد پر بدنام کرنا ہوگا”، انہوں نے مزید کہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام میں ڈاکٹروں، فارماسسٹ اور دیگر پیشہ ور افراد کے درمیان تعاون ہی مؤثر علاج کی ضمانت ہے۔ کسی ایک پیشے کو نشانہ بنانا نہ صرف پیشہ ورانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ مریضوں کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا
پاکستان فارماسسٹس ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پی ایم ڈی سی فوری طور پر اپنے بیان کی وضاحت کرے، فارماسسٹ کے قانونی مقام کو تسلیم کرے اور مستقبل میں کسی بھی پالیسی یا بیان سے قبل متعلقہ اداروں سے مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق، “فارمیسی کو کوئیکری کہنا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اصل مسئلہ کی نشاندہی سے گریز ہے”—اور اصل مسئلہ وہ غیر منظم طبی عمل ہے جہاں ادویات بغیر مناسب نگرانی کے استعمال ہو رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *