پریس ریلیز / آفیشل ڈیکلریشن
اسلام آباد : چیئرمین “وائس آف اسپیشل پرسنز” (VOSP) رانا محمد سعید نے صدرِ مملکت، وزیر اعظم پاکستان، اراکینِ قومی اسمبلی، سینیٹ اور تمام صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی کے ایک بڑے اور اہم حصے کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم میں معذوری کے حامل افراد کے لیے مخصوص کوٹہ نشستیں مختص کی جائیں۔
بنیادی چیلنج اور آبادی کی حقیقت
پاکستان کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے کا ضامن ہے، مگر معذوری کے حامل افراد اب تک سیاسی اور قانون ساز ایوانوں میں عملی نمائندگی سے محروم رہے ہیں۔ مختلف تخمینوں اور 2023ء کی مردم شماری کے مطابق، پاکستان میں لاکھوں افراد مختلف اقسام کی معذوریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ افراد تعلیم، روزگار، نقل و حرکت اور سماجی شمولیت میں شدید رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اگرچہ Rights of Persons with Disabilities Act 2020 سیاسی شرکت کا حق دیتا ہے، لیکن ایوانوں میں عملی نمائندگی کے بغیر یہ حق ادھورا ہے۔
آئینی عدم مساوات کا خاتمہ ناگزیر
آئینِ پاکستان اور انتخابی نظام میں خواتین، اقلیتوں اور دیگر طبقات کے لیے مخصوص نشستیں موجود ہیں، جن کا مقصد ان پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔ تاہم، معذوری کے حامل افراد—جو اکثر غربت، عدم رسائی اور سماجی تعصب کا شکار ہوتے ہیں—اب تک اس حق سے محروم ہیں۔ ان کے بنیادی مسائل (جیسے عمارتوں اور ٹرانسپورٹ میں ریمپ کی عدم موجودگی، سائن لینگویج کا فقدان، تعلیمی و طبی سہولیات اور روزگار کا تحفظ) صرف اسی صورت میں مؤثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں جب ان کے اپنے نمائندے قانون سازی کے عمل کا حصہ بنیں۔
28ویں آئینی ترمیم کے لیے VOSP کے ٹھوس مطالبات:
”وائس آف اسپیشل پرسنز” (VOSP) حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں سے درج ذیل اقدامات کا مطالبہ کرتی ہے:
قومی اسمبلی: معذوری کے حامل افراد کے لیے کم از کم 10 مخصوص نشستیں مختص کی جائیں۔
سینیٹ آف پاکستان: ہر صوبے سے کم از کم 2 نشستیں ریزرو کی جائیں۔
صوبائی اسمبلیاں: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلیوں میں آبادی کے تناسب سے الگ کوٹہ نشستیں مقرر ہوں۔
شفاف طریقہ انتخاب: امیدواروں کا انتخاب معذوری کے حامل افراد کی نمائندہ تنظیموں (DPOs) کی مشاورت اور سرکاری نگرانی میں کیا جائے تاکہ حقیقی اور اہل نمائندگی یقینی ہو۔
عالمی مثالیں اور بین الاقوامی معاہدے
دنیا بھر میں (بشمول ہمسایہ ممالک) معذوری کے حامل افراد کے لیے پارلیمانی ریزروڈ سیٹس کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے، جس سے ان کی معاشی اور سماجی شمولیت میں واضح بہتری آئی ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے معذوری کے حقوق کے کنونشن (CRPD) کا دستخط کنندہ ہے، جس کے تحت ریاست پابند ہے کہ وہ ان افراد کو زندگی کے تمام شعبوں، بالخصوص سیاست اور پالیسی سازی میں مکمل شمولیت فراہم کرے۔
حکومت اور اپوزیشن سے اپیل
VOSP حکمران اتحاد، اپوزیشن اور تمام سیاسی جماعتوں سے مخلصانہ گزارش کرتی ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کو صرف سیاسی یا انتظامی اصلاحات تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسے “شاملیت اور مساوات کی ترمیم” بنایا جائے۔ معذوری کے حامل افراد کی تنظیمیں، سول سوسائٹی اور میڈیا اس حق کے لیے یک زبان ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک ترقی پسند اور جامع پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں، تو معذوری کے حامل افراد کو ایوانوں میں ان کا جائز حق دینا ہوگا۔ یہ نہ صرف ہماری آئینی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے بلکہ انسانی ہمدردی اور قومی ترقی کا اولین تقاضا بھی ہے۔
”معذوری کے حامل افراد کی بااختیاری، پاکستان کی حقیقی ترقی!”
28ویں آئینی ترمیم میں معذوری کے حامل افراد کے لیے پارلیمانی کوٹہ نشستیں مقرر کی جائیں: وائس آف اسپیشل پرسنز (VOSP) کا مطالبہ
