Ali Dar Ki Taraqi Pasand Soch

ڈپٹی وزیر اعظم اسحاق ڈار کے صاحبزادے اور میاں نواز شریف کے داماد علی مصطفیٰ ڈار، اس وقت حکومتِ پنجاب میں وزیر اعلیٰ کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے پاس “مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) اور خصوصی اقدامات” کا قلمدان ہے۔ ان کا عہدہ صوبائی وزیر کے برابر ہے، جس کے تحت وہ صوبائی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کر سکتے ہیں۔

اپنے اس کردار میں علی ڈار کا کام پنجاب میں جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت (AI) کے فروغ، گورننس میں بہتری اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں کی نگرانی اور نفاذ کرنا ہے۔ علی مصطفیٰ ڈار، موجودہ دور میں پنجاب حکومت میں ایک اہم اور فعال سیاسی و تکنیکی عہدے پر فائز ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف 2029ء تک پنجاب کو دنیا کا پہلا مکمل آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی صوبہ بنانا ہے۔

اس وژن کے تحت وہ تمام سرکاری محکموں، خدمت مراکز اور مریم دستک پروگرام میں AI ٹیکنالوجی کو ضم کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پنجاب کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر نوجوانوں کے لیے مخصوص AI تربیتی پروگرامز اور اسکّل ڈویلپمنٹ کورسز کے انعقاد کی نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ پنجاب میں جاری بڑے ٹیک اور شہری ترقی کے منصوبوں میں تکنیکی جدت لانے کے لیے سرگرم ہیں۔ نواز شریف آئی ٹی سٹی کے فلیگ شپ منصوبے کے ذریعے پاکستان کو ڈیجیٹل اکانومی میں نمایاں مقام دلانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے پنجاب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا دورہ کیا اور بابِ پاکستان سمیت مختلف پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبوں میں سمارٹ انفراسٹرکچر اور گرین انرجی کے استعمال کا جائزہ لیا۔ وہ حکومت کی کارکردگی اور عوامی ریلیف کے منصوبوں کو بہتر بنانے کے لیے مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنماؤں سے باقاعدہ ملاقاتیں اور مشاورت کرتے ہیں۔ سیاسی حلقوں کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، وہ مستقبل میں لاہور سے الیکشن لڑنے اور براہِ راست انتخابی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں۔

سافٹ ویئر انجینئرنگ کا پس منظر اور دبئی میں طویل کاروباری تجربہ رکھنے کی وجہ سے، وہ اپنے بین الاقوامی روابط کو استعمال کرکے پاکستان کے ٹیک اور رئیل اسٹیٹ سیکٹرز میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے پسِ پردہ متحرک ہیں۔ وہ پاکستان میں آٹزم کا شکار بچوں کے حقوق اور ان کے لیے سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ایک سرگرم سماجی آواز ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے اس موضوع پر شعور بیدار کرتے رہتے ہیں۔ یاد رہے کہ علی ڈار کے بیٹے کو بھی آٹزم ہے اور باپ بیٹے کی محبت بھری تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔

علی ڈار نے بیٹے کے ساتھ وہی تصویر اپنے دفتر کی میز پر آویزاں کر رکھی ہے۔ ہماری علی ڈار سے لاہور ان کی دفتر میں ملاقات کا مقصد بھی پنجاب میں نوجوانوں کو آٹی ٹی اور جدید تعلیمی مواقع اور ہنر کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق تبادلہ خیال تھا۔ ہم مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کے تحت گلگت بلتستان (خصوصاً ضلع شگر اور دیگر شمالی علاقہ جات) اور پنجاب میں پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود، بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے ووکیشنل ٹریننگ، کمپیوٹر سینٹرز اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔

علی ڈار چونکہ پنجاب حکومت میں انتظامی اور مشاورتی کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے ایسی ملاقاتوں کا مقصد فلاحی کاموں کے لیے حکومتی تعاون، لاجسٹکس یا سماجی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں باہمی تعاون اور مشاورت ضروری ہے۔ علی ڈار انتہائی مہذب تعلیم یافتہ اورترقی پسند نوجوان ہیں۔ لاہور ایچی سن سکول سے فارغ ہونے کے بعد اعلی تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے۔

انہوں نے یونیورسٹی کالج لندن اور یونیورسٹی آف مانچسٹر انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔ 2024ء میں پاکستان واپسی سے قبل علی ڈار اور ان کی فیملی نے بیگم کلثوم نواز کے دوران علالت ان کے ساتھ وقت گزارا۔ پرائیویٹ سیکٹر میں انہوں نے متحدہ عرب امارات میں رئیل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ کا ایک بڑا گروپ ایچ ڈی ایس گروپ آف کمپنیز قائم کیا اور 2024ء تک اس کے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دیں۔

علی مصطفیٰ ڈار ایک خوش اخلاق شخصیت کے مالک ہیں اور اس سے قبل وہ کسی تشہیر کے بغیر اوورسیز پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اوورسیز پاکستانیوں کے لئے بزنس اور تعلیمی پلیٹ فراہم مہیا کرنے کے لئے پر عزم دکھائی دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *