سائبر ہتھیار

تحریر۔نظام الدین

پاک،افغان جنگ کے دوران جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے تو میں نے اس جنگ کے تناظر میں متعدد کالم لکھے، انہی دنوں مجھے ایک عجیب صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، میری تصویر استعمال کرکے کسی نے ایک جعلی سوشل میڈیا آئی ڈی بنا لی اور میرے کانٹیکٹس کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنا شروع کر دیں۔
خوش قسمتی سے میرے ایک امریکی دوست نے ریکوئسٹ قبول کرنے سے پہلے مجھ سے تصدیق کر لی، تب مجھے اس جعلسازی کا علم ہوا، میں نے فوراً اپنی اصل پروفائل پر وضاحت جاری کی، جعلی آئی ڈی کو رپورٹ کیا، اور کچھ ہی دیر میں وہ اکاؤنٹ بند کر دیا گیا،
یہ واقعہ میرے لیے ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ میں نے سائبر دنیا پر تحقیق شروع کی تو معلوم ہوا کہ مجھ سمیت دنیا بھر میں بے شمار لوگ لاعلمی کے باعث سائبر جرائم کا شکار بھی ہو رہے ہیں اور بعض اوقات انجانے میں ان کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف، کچھ مجرمانہ ذہن رکھنے والے عناصر اپنی ذہانت اور مہارت کو ایسے جرائم کے نئے طریقے ایجاد کرنے میں استعمال کر رہے ہیں۔
ابتدا میں یہ خیال آیا کہ جعلی آئی ڈیز بنانے کا مقصد صرف مالی فراڈ یا ذاتی تعلقات قائم کرنا ہوگا، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ نکلی۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ دنیا کی بڑی خفیہ ایجنسیاں جدید سافٹ ویئرز کے ذریعے معروف شخصیات، دانشوروں اور سیاستدانوں کی ہزاروں جعلی ڈیجیٹل شناختیں تخلیق کر سکتی ہیں، ایسی شناختیں جن کا مکمل ماضی بھی موجود ہوتا ہے۔
یہ “ڈیجیٹل لشکر” سوشل میڈیا پر اس مہارت سے پھیلایا جاتا ہے کہ عام صارف کے لیے حقیقت اور فریب میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب میں نے پاکستان، افغانستان اور ایران سے متعلق جنگی حالات میں درست اور جعلی خبروں کے پھیلاؤ کا موازنہ کیا تو یہ حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ جعلی خبریں، درست خبروں کے مقابلے میں تقریباً ستر فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ انسانی نفسیات ہے۔ جعلی خبریں عموماً نئی، غیر معمولی اور سنسنی خیز ہوتی ہیں، جو لوگوں کو فوراً متوجہ کرتی ہیں۔ لوگ بغیر تصدیق کے انہیں شیئر کر دیتے ہیں، اور یوں وہ خود بھی نادانستہ طور پر اس پروپیگنڈا مشینری کا حصہ بن جاتے ہیں۔
درحقیقت یہی عام صارفین ان خفیہ قوتوں کے سب سے مؤثر ہتھیار ہوتے ہیں، جن کے ذریعے نہ صرف دشمن ممالک کی نگرانی کی جاتی ہے بلکہ ان کے حساس نظاموں تک بھی رسائی حاصل کی جاتی ہے۔
جاسوسی کی اس جدید دنیا میں کچھ ایسے “ڈیجیٹل ہتھیار” بھی وجود میں آچکے ہیں جو روایتی وائرس یا مالویئر سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ ان میں “زیرو ڈے” خامیاں شامل ہوتی ہیں، یعنی ایسی تکنیکی کمزوریاں جن کا علم خود سافٹ ویئر بنانے والی کمپنیوں، جیسے ایپل یا گوگل، کو بھی نہیں ہوتا۔
ایسے ہی خطرناک ٹولز میں “پریڈیٹر” نامی سافٹ ویئر شامل ہے، جو اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں کو نشانہ بناتا ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ فون کے ری اسٹارٹ ہونے کے بعد بھی دوبارہ فعال ہو جاتا ہے۔ عموماً اس کا استعمال ان ممالک میں کیا جاتا ہے جہاں حکومتیں اپنے مخالفین کی نگرانی کرنا چاہتی ہیں۔
اسی طرح “فن فشر” ایک جرمن کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر ہے، جو خود کو عام ایپ، سسٹم اپڈیٹ یا اینٹی وائرس کے روپ میں چھپا لیتا ہے۔ یہ فون کے مائیکروفون کو اس وقت بھی فعال کر سکتا ہے جب فون بظاہر بند یا سلیپ موڈ میں ہو۔
“کوانٹم انسرٹ” ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو ویب ٹریفک میں مداخلت کرتی ہے۔ جب کوئی صارف کسی معروف ویب سائٹ جیسے بی بی سی یا گوگل کو کھولتا ہے، تو یہ ٹیکنالوجی اسے خفیہ طور پر ایک جعلی سرور کی طرف موڑ دیتی ہے، جہاں سے جاسوسی سافٹ ویئر انسٹال ہو جاتا ہے۔
“کینڈیرو” ایک اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ اسپائی ویئر ہے، جو خاص طور پر کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپس کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ براؤزر کے ذریعے سسٹم میں داخل ہو کر خفیہ معلومات، پاس ورڈز اور کلاؤڈ ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔
اسی طرح “ریگن” ایک انتہائی پیچیدہ مالویئر ہے، جو کسی ایک ڈیوائس تک محدود نہیں بلکہ پورے ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک، موبائل ٹاورز اور ڈیٹا سینٹرز کو متاثر کر سکتا ہے۔ اکثر اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب برسوں کا ڈیٹا پہلے ہی چوری ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ تمام ٹیکنالوجیز عموماً خفیہ ادارے براہِ راست استعمال نہیں کرتے بلکہ نجی کمپنیوں کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں، تاکہ ذمہ داری سے بچا جا سکے۔ یہ ٹولز صرف مخصوص اتحادی ممالک کو فراہم کیے جاتے ہیں، تاکہ ان کی حساس ٹیکنالوجی دشمنوں تک نہ پہنچ سکے۔
مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اگر کوئی سیکیورٹی ماہر ان سافٹ ویئرز کو پکڑنے کی کوشش کرے تو یہ خود کو ڈیلیٹ کر لیتے ہیں، تاکہ ان کی اصل ساخت اور کوڈنگ کا سراغ نہ مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *