تحریر: محمد منصور ممتاز
ریاستی نظام میں ایک افسر کا اختیار صرف طاقت نہیں ہوتا، بلکہ ذمہ داری، فہم اور قانون کی درست تشریح کا نام بھی ہوتا ہے۔ جب یہی اختیار جلد بازی، غلط فہمی یا غیر ذمہ دارانہ عمل کی نذر ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک دکان یا ایک شہری تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے نظام پر سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
حال ہی میں پیش آنے والا واقعہ۔۔۔
جہاں ایک اسسٹنٹ کمشنر (AC) صاحبہ مبینہ طور پر نوٹیفکیشن کو مکمل طور پر سمجھے بغیر بیکری کو بند کروانے پہنچ گئیں۔۔۔
محض ایک انتظامی غلطی نہیں، بلکہ ہمارے بیوروکریٹک کلچر میں موجود ایک گہری خامی کی نشاندہی کرتا ہے۔
رات 10 بجے کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کے لیے جب عملہ بیکری پہنچا تو بیکری مینیجر نے واضح کیا کہ یہ نوٹیفکیشن ان کے کاروبار پر لاگو ہی نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس وضاحت سے پہلے نوٹیفکیشن کو سمجھنے کی زحمت کی گئی تھی؟ یا پھر صرف “کارروائی دکھانے” کی جلدی تھی؟
یہ واقعہ ہمیں ایک اہم نکتے کی طرف لے جاتا ہے:
کیا ہم قانون نافذ کر رہے ہیں یا صرف طاقت کا اظہار؟
انتظامیہ کا کام قانون پر عملدرآمد ہے، نہ کہ اس کی اپنی تشریح یا من مرضی سے اطلاق۔ اگر نوٹیفکیشن کو صحیح طور پر پڑھے بغیر چھاپے مارے جائیں گے تو یہ نہ صرف کاروباری طبقے میں خوف و ہراس پیدا کرے گا بلکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بھی متزلزل ہوگا۔
یہاں ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ ہمارے معاشرے میں اکثر “اختیار” کو “فوری ایکشن” کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ افسران پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ فوری نتائج دکھائیں، میڈیا میں نظر آئیں، اور اپنی کارکردگی ثابت کریں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر یہ کارکردگی قانون کی درست تشریح کے بغیر ہو تو کیا یہ واقعی کارکردگی ہے یا محض دکھاوا؟
ایسے واقعات کاروباری برادری کے لیے بھی ایک پیغام ہوتے ہیں ۔ِ۔۔ایک غیر یقینی کا پیغام۔
جب قوانین کی تشریح ہر افسر کے ہاتھ میں الگ الگ ہو تو کاروبار کیسے مستحکم ہوگا؟ سرمایہ کاری کیسے بڑھے گی؟ اور سب سے بڑھ کر، عام شہری کس پر اعتماد کرے گا؟
یہ مسئلہ صرف ایک افسر یا ایک واقعہ تک محدود نہیں۔ یہ ایک سسٹمک مسئلہ ہے جہاں:
نوٹیفکیشنز کی وضاحت واضح نہیں ہوتی
فیلڈ افسران کو مناسب بریفنگ نہیں دی جاتی
اور احتساب کا نظام کمزور نظر آتا ہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر نوٹیفکیشن کے ساتھ واضح SOPs جاری کیے جائیں
فیلڈ افسران کی باقاعدہ تربیت ہو
اور سب سے اہم، غلطی کی صورت میں شفاف احتساب کیا جائے
ریاست کی طاقت کا اصل حسن اس کے عدل میں ہوتا ہے، نہ کہ اس کی جلدی میں۔ اگر قانون کی عملداری انصاف کے بجائے عجلت کا شکار ہو جائے تو یہ طاقت نہیں بلکہ کمزوری کی علامت بن جاتی ہے۔
یہ واقعہ ایک وارننگ ہے—انتظامیہ کے لیے بھی اور پالیسی سازوں کے لیے بھی۔
کیونکہ جب نوٹیفکیشن پڑھے بغیر فیصلے ہوں گے، تو انصاف بھی ادھورا رہ جائے گا۔