دنیا کے قید خانے میں خدا کے طلبگار

تحریر: ظفر اقبال ظفر
یوں تو خدا نے عقل کو پیدا کر کے اس پر ناز فرمایا تھا مگرمجھے اپنی اس عقل پر کوئی فخر نہیں جوخدا کی تخلیق کا احاطہ نہیں کر سکتی خدا کی ذات کے علم تک کیسے پہنچ سکتی ہے۔جب میں نے عقل کی سواری پر سفر شروع کیا کہ خدائی ذات و صفات کے تمام مسائل کو الٹوں لپٹوں کھرچوں کریدوں ناپوں تولوں جانچوں سونگوں بلواؤں سنوں اوردیکھوں تو میری اسی عقل نے مجھے اُلجھن کے عذاب میں برباد کرکے رکھ دیا۔حصول علوم خداوندی کے معاملے میں اندھے بیکاری کی طرح میری عقل کا کشکول خالی کا خالی ہی رہ گیا اور یہ بات میرے دل میں یقین بن کر اتر گئی کہ میں تو اپنے آپ کے بارے میں ہی شناخت کا درست دعویٰ پیش نہیں کر سکتا۔
جیسے خدا تب سے خدا ہے جب سے وہ جانتا ہے کہ وہ خدا ہے ایسے ہی خدا کے بارے میں مکمل طور پر صرف خدا ہی جانتا ہے۔خدا کو جاننے والے اپنی شناخت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے میں تو کہوں گاہوش میں جینا ہے تو خدا کو جاننے کی بجائے صرف ماننے تک ہی رہیں۔ میرا اکیلے انسان کاادنیٰ علم اُس خدا کا سراغ کیسے لگا سکتا جس خدا کے علم میں اپنی تمام ترمخلوقات کے اندر پیدا ہونے والے خیالات تک واقفیت حاصل ہے۔یوں تو خدا کے چاہنے والے لاتعداد انسان موجود ہیں مگر اُن کے پاس خدا کا احساس تک نہیں ہے خدا کو صرف وہی مخصوص لوگ محسوس کر سکتے ہیں جنہیں خود خدا نے چاہا کہ یہ میرے قریب آ جائیں۔خدا کا صرف خدا کی ہی دی گئی نشانیوں سے تعارف کروایا جا تا ہے کوئی انسان فقط عقلی و علمی بنیادوں پر خدا کی ذات تو کیا اُس کی جانب جانے والی راہوں کا بھی کھوج نہیں لگا سکتا۔
خدا نے اعمال لکھنے والے دو فرشتے انسان کے کاندھوں پر بیٹھا رکھے ہیں جو انسان نور سے پیدا ہوئے فرشتوں کو اپنے سیاہ اعمال لکھنے کی اذیت دیتا ہو وہ نور کی توجہ کیسے پا سکتا ہے یہ تو اپنے کندھوں پہ بیٹھے نورانی فرشتوں کو محسوس نہیں کر سکتا خدا کا نور تو وہی ذات اپنے اندر سما سکتی ہے جیسے خدا نے اپنے نور سے پیدا فرمایایعنی محبوب خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
ایسا نہیں کہ خدا انسانی وجود میں نہیں آسکتا اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی انسانی دل کو اپنا تخت بنا کر شاہ رگ کے قریب ہونے کا دعویٰ نہ کرتا مگر انسان کی دنیاوی خواہشات کے د ل پر قبضے نے خدا کی آمد کے راستوں پر پھاٹک لگا رکھے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ خدا ان لوگوں پر تبسم فرماتا ہے ناراض ہوتا ہے غصہ کرتا ہے جلال میں آتا ہے یا کیا ردعمل کرتا ہے جو خدا کو انسان کے اور انسان کو خدا کے مقام پر لانے لے جانے کے شرک میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایک انسان اپنی زندگی کے دردناک تماشے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر سہہ نہیں پاتا اور ایک وہ خدا ہے جو لاتعداد اپنے پیدا کیے ہوئے انسانوں کے اپنے ہی بارے میں لگائے گئے غیر شرعی حالات و واقعات دیکھ کر بھی چپ بیٹھا ہے کافر کفر کی جہالت میں کریں تو سمجھ آتا ہے مسلمان دائرہ اسلام میں رہ کر کریں تو حیرت ہوتی ہے۔خدائے حقیقی کا ظرف کتنا وسیع ہے جو کہتا ہے میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں ایسے میں سب سے زیادہ صبر کرنے والی ذات تو خود خدا کی ہے سب سے بڑا صابر خود خدا ہے اسی لیے صبر کرنا خدا کی وہ سنت ہے جو خدا کے ساتھ سے منسلک کرتی ہے۔
جنت کے جنتے بھی درجات ہیں سب عیب سے پاک ہیں اسی لیے خدا وہاں اپنے بندوں کو اپنے دیدار سے مستفید ہونے کی سعادت نصیب کرئے گا جنت خدا کی وہ ملکیت ہے جس کی رہائشی رجسٹری محبوب خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت والوں پر ہونی ہے جنہیں خدا نے محبوب بنا لیا انہیں خدا جنت سونپ دے گا یعنی وہ جنت بانٹیں گے۔مجھے دنیا میں ان دولت مند تبلیغی مسلمانوں پر حیرت ہوتی ہے جو دین اسلام کے نام پر مسلمانوں کو جنت میں لے جانے کی محنت کرتے ہیں مگر جب کوئی پریشان حال تنگ دست انسان ان کے پاس دنیاوی ضرورت کی غرض سے آتا ہے تو یہ اپنا دنیا وی مال اس سے بانٹنے کی بجائے دو رکعت صلوات الحاجت کہہ کر واپس اُسی خدا کے جانب بھیج دیتے ہیں جس خدا نے ان کے پاس سائل کو بھیجا تھا۔یہ جو دنیا کا مال خدا کے بندوں پر قربان نہیں کرتے انہیں خدا اپنی جنت تقسیم کرنے کی کیسے سعادت دے سکتا ہے؟دنیا کی مشکل آسان کرنے کو فرد واحد بھی نہیں ملتااور آخرت کی مشکلات حل کرنے کے لیے باجماعت پھرتے ہیں جو ان کے بس میں ہے وہ کرتے نہیں اور نہیں ہے وہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
مسجد مدرسے کے نام پر پتھر کی عمارتوں پر خرچ کرتے ہیں جیسے خدا کا گھر کہا جاتا ہے مگر خدا نے اپنا گھر انسان کے دل کو کہا ہے اس پر خرچ نہیں کرتے۔خدا کے حامی اور خدا کے بندوں کے منکر۔بھلا خدا کو ایسے عبادت گزاروں کی کیاحاجت ہے جو دین پر احسان چڑھا رہے کہ انہوں نے اسلام کی خدمت کا بھار اُٹھایا ہوا ہے۔جو انسانیت کے راستے پر چلنے کے اصول نہیں اپناتے وہ خدا کے راستے پر چلنے کا دعوہ کر رہے ہیں۔مصیبت ذدہ پریشان حال تنگ دست مسائل زدہ خدا کے بندے امتحان میں نہیں تکلیف میں ہوتے ہیں انسانیت کی یہ تکلیفیں وسائل زدہ بندوں کا امتحان ہیں ان میں سے کتنے پاس یا فعل ہوتے ہیں اس کا تو مجھے علم نہیں مگر اتنا پتا ہے کہ مشکلات کی زلت اٹھانے والوں کو خدا عزت کا لباس پہنایا جائے گا۔
چلیں خدا کے نام پہ بھٹکے ہوئے لوگوں کے دُکھ سے باہر نکل کر بات کرتے ہیں۔اگر انسان کو علم ہو جائے کہ اس کی آنکھوں کے اندر سے دیکھائی دلاینے والی قوت کا نام نور ہے اس کے دماغ میں الہامی کیفیت کا نام نور ہے اس کے دل پہ اترنے والی احساسات کی کیفیت کا نام نور ہے اس کی روح کی پرواز کا جسم پر طاری ہو کر عقل میں آ جانا نور ہے تصوراتی جہانوں کی سیر کرنا نور کی سواری ہے محبت خداوندی نور ہے حب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نور ہے جس انسان کو اتنے نور کے تحفوں سے نوازا گیا ہو اس کواحساس کمتری میں مبتلا ہونا زیب نہیں دیتابچے اندھیرے سے ڈریں تو سمجھ آتی ہے بڑے روشنی سے ڈریں تو حیرت ہوتی ہے۔
وہ دنیا کی محبت میں گرفتار مجرم ہیں جنہوں نے دنیا بنانے والے کے اس قول سے انکار کیا کہ دنیا قیمتی نہیں بنائی انسان قیمتی بنایا گیاہے اور اس انسان کاحال تو دیکھئے جو بے وقعت چیزوں کے لیے خودبے قیمت ہو کر رہ جاتا ہے ایسے مالداروں کی غریبی پہ رونا آتا ہے۔ انسان تو وہ ہے جو انسانیت کمائے مال و دولت میں تو کافروں نے تاریخ قائم کی ہے۔
کہتے ہیں محبت یکطرفہ ہو سکتی ہے مگر عزت دو طرفہ ہو کر ہی مکمل ہوتی ہے مگر میں کہتا ہوں محبت کسی انسان سے یکطرفہ ہو تو برباد کر دیتی ہے مگر یہی محبت خدا سے پہلے یکطرفہ ہی ہوتی ہے جب اس محبت کا جواب نہیں آتا تووہ عشق کا روپ دھار لیتی ہے اور اتنی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ خدا کی توجہ اپنی جانب کرواکے دو طرفہ کا مقام پا لیتی ہے۔ خدا کی ذات محبت سے آگے نکل کر عشق کے لائق ہے اس میں بھی ایک راز پوشیدہ ہے کہ تمہارے دل و رُوح کو محبت و عشق پر مائل بھی خدا کی مرضی کرتی ہے اس زمین پر آسمانی کیفیت کا نام عشق و محبت ہے۔ خدا دیکھائی نہیں دیتا مگر اس کی خاموشی مکمل گفتگو ہے اسی لیے خاموشی کو آوازوں کی مرشد قراردیا گیا ہے۔وہ اپنے بندے کے ہاتھ پیر کان آنکھ زبان بن جاتا ہے۔انسان خدا کے روپ میں آئے تو شرک ہے مگر خدا انسان کے روپ میں آئے تو محبت ہے۔
میں نے کہا تھا نہ میری عقل میری گرفت میں نہیں ہے یہ بے لگام گھوڑے کی طرح خیال کی وادیوں میں سرپٹ دوڑتی چلی جاتی ہے جو طویل سفر کرکے منزل کے رُخ کا جائزہ لیتی ہوئی اضافی مشقت کے احساس میں مبتلا ہو جاتی ہے اور پھر اس کی تھکاوٹ اس خیال حقیقی سے اُترتی ہے کہ خدا سے وابستہ جس جانب بھی سفر کیاجائے منزل پر نہ بھی پہنچ پائیں مگر راستے ہیرے جواہرات سے قیمتی احساسات و جذبات سے لبریز علم حقیقی کے پیغمبرانہ تحفے سے مالا مال کر دیتے ہیں۔بداعمالیوں کی نحوست اتنی چھائی ہے کہ ہماری آواز چیخنے کے باوجود خاموشیاں سننے والے خدا تک نہیں پہنچ پاتی۔میں خود کو خدا کا سب سے بڑا ضرورت مند سمجھتا ہوں کاش مکہ مکرمہ میں مقیم ہوتا جب بھی دنیاوی سختیوں سے پریشان ہوتا طواف بیت اللہ کرکے دل مضبوط کر لیا کرتا مگر ہائے ری قسمت خدا کے بندے کا خدا سے محروم ہونا کتنا بڑا خسارہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *