​ رمضان کی آمد، منافع خور مافیا بے لگام۔ غریب طبقہ دہائیاں دینے لگا

​ ڈیرہ غازی خان چوہدری احمد )

​”اک مہینہ ساڈا، تے گیارہ مہینے تہاڈے”: مافیا نے ماہِ صیام کو لوٹ مار کا سیزن بنا لیا۔
​رمضان سے قبل ہی گرانی کا طوفان: کھجور، چینی اور سبزیوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔
​روزہ دار پریشان: خود ساختہ مہنگائی نے سفید پوش طبقے کی کمر توڑ دی۔
​حکومتی دعوے صرف کاغذوں تک محدود: بازاروں میں پرائس کنٹرول کمیٹیاں غائب۔
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ شروع ہونے سے قبل ہی ملک بھر کی طرح مقامی بازاروں میں بھی ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے “لوٹ سیل” کا بازار گرم کر دیا ہے۔ “اک مہینہ ساڈا تے گیارہ مہینے تہاڈے” کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے تاجروں اور بڑے مافیاز نے روزمرہ کی اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر دیا ہے۔

بازار میں کھجور، ٹماٹر، پیاز، اور دیگر ہری سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ مشروبات، چینی اور پھلوں کے نرخ بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔ غریب طبقہ جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے، اب رمضان کے بابرکت مہینے میں سحری و افطاری کے انتظام کے حوالے سے شدید فکر مند دکھائی دیتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر سال رمضان میں ریلیف کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی خاموشی پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں۔ روزہ داروں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایکشن لے اور ان مافیاز کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے جو عبادت کے اس مہینے کو تجارت اور ناجائز منافع خوری کی نذر کر رہے ہیں۔

عوام یہ پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر حکومتی اقدامات کہاں ہیں؟ کیا غریب کو اس مقدس مہینے میں بھی سستی روٹی اور بنیادی اشیاء میسر نہیں آئیں گی؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *