تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو

برصغیرمیں انگریزوں نے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی لہذاآدھی صدی تووہ مسلمانوں کوتیغ سے رام کرنے میں لگے رہے لیکن اس کے باوجودمسلمانانِ ہندکماحقہ ان کے تابع نہ ہوسکے توانگریزوں نے مسلمانوں سے ان کی تعلیم چھیننے کی کوشش کی اورلارڈمیکالے کے نصاب ِتعلیم کوان پرمسلط کرنے کے لیے انہوں نے مسلمانوں میں سے کچھ مصلح اورہمدردقسم کے لوگ منتخب کیے جنہوں نے مسلمانوں کوانگریزوں سے مفاہمت کرنے اوران کے قریب ہونے کے ذریعے مفادات ِقومی کاحصول اورمسلم قوم کی پسماندگی دورکرنے کے لیے انگلش تعلیم کے حصول کے لیے تحریک چلائی جس کی پاداش میں پہلی علی گڑھ یونیورسٹی وجودمیں آئی جواسلامی چندے سے بنائی گئی۔اسلام میں زکوٰۃ وصدقات جواسلامی امت کے لیے معاشی تناسب برقرار رکھنے کاایک ذریعہ تھا،غیرمسلموں نے اسے مسلمانوں کومفادات دکھاکراس ذریعہ کو بھی اپنے کاروبارکوچلانے کے لیے استعمال کرلیا،آج بھی اسلامی مدرسوں کے علاوہ مغربی تعلیم وتربیت کے لیے بھی زکوٰۃ وصدقات سرکاری وپرائیویٹ مغربی تعلیم وتربیت کے ادارے بلاواسطہ یا بالواسطہ ان فنڈز کواستعمال کر رہے ہیں۔پاکستان مین اشرافیہ کی تعلیم وتربیت کے علاوہ سرکاری ملازمتوں کے حصول کے خواہشمندغریب لوگ بھی انگلش تعلیم کے لیے پرائیویٹ انگلش تعلیمی اداروں کاسہارالیتے ہیں۔جس کے لیے مسلمانوں کے ہمدردمذہبی قسم کی تنظیمیں ایسے طلباء کے لیے اسلامی زکوٰۃ وصدقات لے کرکچھ فی صد غریب طلباء کومفت انگلش اداروں میں تعلیم دینے کے مشن کولے کرچل رہے ہیں۔تمام انگلش تعلیمی اداروں میں چاہے وہ انگریزوں کے اپنے ہیں یا پاکستانی لوگوں کے ان میں انگلش کی تعلیم بطورِ زبان نہیں دی جارہی بلکہ ان کا نصاب بھی یورپ وامریکہ کا ہی ہے۔حتیٰ کہ آج ہم اسلامی تحقیق بھی یورپ و امریکہ کے محققین کے نظریہ کے مطابق ہی کررہے ہیں۔چونکہ ہماراتعلیمی نظام سارے کا سارامغرب کا ہے،لہذاہم ہرشعبہِ زندگی میں مغرب کے مقلدبلکہ کاسہ لیس ہیں،ہمارے ہاں شعوراورتعلیم صرف وہ ہے جو مغرب کے مطابق ہو،اسی لیے ہم معیشت میں بھی ان کے محتاج ہیں۔ہم صحت میں بھی ان کے محتاج ہیں۔ہماری معیشت کادارومدارimf کے زائچوں پرہے،ہماری صحت کا مدارwhoکے تجربات پرہے۔ ہمارے اکانومی کے phdہمارے لیے معیشت بہترکرنے کے طریقے اپنی قومی ضرورت اورحیثیت کے مطابق نہیں بنا سکتے،اسی طرح ہمارے مسیحاڈاکٹرہمارے صحت کی ضروریات قومی وملکی سطح پرپوری نہیں کرسکتے،کہ ان کے پاس whoکی تابعداری اورفارماسیوٹیکل کمپنیوں کی خدمت گزاری کے علاوہ چارہ نہیں۔اوراس عالمی سامراج نے صحت انسانی کواپنے لیے ایک ایسا کاروباربنا لیاہے کہ جس کو ہمدردی کالبادہ پہناکرانسانوں کوبے دردی سے لوٹاجارہا ہے۔اورموت کے خوف میں مبتلا انسانیت ان کی چیرپھاڑاورادویات وتحقیق کے ایسے جال میں پھنسنے کے لیے بھی ان خونخواروں کو مسیحاسمجھ کران کے دامن میں پناہ لینے کوان کا احسان سمجھتے ہیں۔جب سے ایلوپیتھک سسٹم نے دنیا کواپنے شکنجے میں لیا ہے،ہرروزنئے نئے امراض تحقیق اورتشخیص ہورہے ہیں اورتشخیص کے لیے برقی آلات بن رہے ہیں۔لیکن علاج ایجاد نہیں ہورہے،بلکہ اگریہ کہاجائے کہ امراض ایجادہورہے ہیں توشایدغلط نہ ہوگا۔اپریشن یاجراحت کے لیے اس شعبہ کوفوقیت حاصل ہے،اس لیے کہ عالمی سرپرستی کی وجہ سے حکومتیں آلاتِ جراحی خریدنے کی پابندہیں کہ یہ ان کے معاہدوں میں شامل ہوتا ہے کہ فارماسیو ٹیکل کمپنیوں کامال خریدنااورشعبہ صحت کواپڈیٹ کرناان کے لیے لازم ہے۔ لیکن کیا ہرمرض کا علاج اپریشن ہی ہوتا ہے؟نہیں بعض امراض میں اپریشن کرناضروری ہوتا ہے،لیکن عمومی امراضِ بدن توصرف ادویات ہی سے درست ہوجاتے ہیں۔لیکن ہمارایہ عالمی شعبہ علاج ہرمرض کی تشخیص کے لیے آلات بنابناکردنیا میں حیرت فروشی کے ساتھ امراض کاجال بچھارہاہے۔اورپاکستان جیسے مسلم ممالک جہاں زکوٰۃ وصدقات دئیے جاتے ہیں،وہاں ngosکے ذریعے اپنے کاروبارکوچلارہاہے،لوگ مشینی معاونت کے ذریعے زندہ رہنے کی خواہش میں دن رات مشینوں کے ذریعے امراض تشخٰص کرانے،یامشینوں پرزندہ رہنے کے لیے ہسپتالوں اورایسے ہی اداروں میں موت سے بچنے کے لیے ان موت کے کنووں میں پڑے رہتے ہیں۔ ہمارے ایک گوجری شاعرنے کہا تھا”یوسف کھوہ میں سٹیوپرپگھیاڑاں ناں نی دتاکھان۔اتنی وی ہمدردی ہوتی مخلص اج پراوں کی“یعنی یوسف کوکنویں میں ڈال دیالیکن بھیڑیوں کوکھانے نہیں دیا۔کاش آج کے بھائیوں میں اتنی ہمدردی توہوتی۔لہذاہمارے معالج بھائی بھی ہمارے ساتھ یہی کررہے ہیں کہ بندہ بیماری سے نہ مرے علاج سے مرے۔آج کل ہمارے یہاں گردے واش کرنے کے لیے دھڑادھڑ ائیلائسزسنٹربن رہے،جوان علاقوں میں بھی ہیں جہاں کوئی ہسپتال گردوں کے امراض کی تشخیص بھی نہیں کر سکتا،ہمارے لوگ انسانوں سے ہمدردی کے لیے گردوں کاعلاج کرنے کے بجائے ڈائی لائسزکررہے ہیں۔جبکہ انگریز ڈائیلائسز اس مریض کاکرتے ہیں جس کا گردہ تبدیل کرناہوتا ہے اورتاوقتیکہ گردہ ملتامریض کوڈائیلاسزپررکھتے ہیں،لیکن ہمارے ہمدردکسی بندے کوذراپیشاب کم آناشروع ہوا اسے ڈائلائسز پرلگادیتے ہیں،اب اس کی جب تک زندگی ہے وہ ہفتہ واریااس سے بھی کم دنوں میں ڈائلائسزکراتا رہے اورپھراللہ کے حوالے۔توکیااگرہم اپنے علم وتحقیق اوراس مال سے گردوں کاعلاج ایجادکرتے تویہ بہترنہ ہوتا۔ لیکن وہ کیسے؟ہمیں توایک صدی کی انگریزوں کی تعلیمی محنت نے ان کی تقلیدو کاسہ لیسی کے علاوہ اورکسی کام کا نہیں چھوڑا،اب ہم میں اپنی خودی کہاں سے پیداہوعلامہ اقبال نے اسی لیے فرمایاتھا۔”تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو۔ہوجائے ملائم توجدھرچاہے اسے پھیر۔تاثیرمیں اکسیرسے بڑھ کر ہے یہ تیزاب۔ سونے کاہمالہ ہوتومٹی کااک ڈھیر“اللہ تعالیٰ مسلمانوں کواپنی خودی پہچاننے کی توفیق دے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *