خطابیات
عمرخطاب
کامیابی کی بلندیاں محض ان لوگوں کا مقدر نہیں ہوتیں جو چاندی کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوتے ہیں، بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ پائیدار اور عظیم الشان کامیابیوں کا آغاز اکثر انتہائی عاجزانہ اور گمنام ہوتا ہے۔ آئی ایم یو آفیسر خان محمد کی زندگی بھی ایک ایسی ہی سحر انگیز مثال ہے جس کا سفر کسی پرتعیش ایوان سے نہیں بلکہ ایک ایسے سرکاری سکول کے ٹاٹ سے شروع ہوا جہاں بنیادی سہولیات کا تصور بھی محال تھا۔ موصوف نے باجوڑ خار کے پسماندہ گاؤں خزانہ میں ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جن کی مالی حالت زیادہ بہتر نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود انھوں نے بچپن سے وہ شخصیت بنالی جو خودداری کا آئینہ دار تھی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے ٹاٹ والے سرکاری سکول سے حاصل کی، جبکہ ثانوی تعلیم کے لیے عنایت کلے کے سرکاری ہائی سکول کا رُخ کیا۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں تعلیم کے لیے وسائل کی شدید کمی ہے اور خصوصاََ سابقہ فاٹا کے دیہی علاقوں میں طلبہ ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے سائے میں بوریوں اور ٹاٹ پر بیٹھ کر علم حاصل کرتے ہیں، وہاں سے اٹھ کر آئی ایم یو (KPEMA) کے اہم عہدے تک پہنچنا کسی معجزے سے کم نہیں۔

محترم خان محمد کو میں بہت قریب سے جانتا ہوں، بلکہ کٹھن مراحل کے ادوار میں کئی موڑ پر میرا ہمسفر بھی رہا ہے، خواہ مختلف شارٹ کورسز یا ڈپلومہ کی منصوبہ بندی کرنا ہو یا پھر پرائیویٹ اداروں میں خدمات سرانجام دینا ہو۔ یقیناً خان محمد صاحب ہمت اور عزیمت کی نشانی ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ثابت کیا کہ اگر ارادے بلند ہوں تو استقلال وہ رویہ ہے جو پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ان کی شخصیت کا اصل حسن ان کی وہ عاجزی اور ملنساری ہے جو انہیں اپنے ساتھیوں اور عوام میں ہر دلعزیز بناتی ہے۔ اب بھی جب ان سے میری ملاقات ہو جاتی ہے تو ان کے انداز گفتار اور طرز ملاقات سے وہی سابقہ انکساری ٹپکتی ہے اور میں لاشعوری طور پر ماضی میں کھوجاتا ہوں جسے ماہرین نفسیات ناستلجیا کہتے ہیں۔ حالانکہ موصوف آج کل معاشرے میں جو رول ادا کر رہے ہیں وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے فرض شناس آفیسر ہیں جو اپنی ڈیوٹی کو محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری اور عبادت سمجھتے ہیں۔ اگرچہ ان کا تعلیمی سفر تنگدستی اور مشکلات کی ایسی داستان ہے جس میں قدم قدم پر مالی اور سماجی رکاوٹیں تھیں، لیکن انہوں نے کالج اور یونیورسٹی کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے کبھی ہمت نہیں ہاری. حالانکہ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ سکول و کالج جانے کے لیے کبھی کرایہ میسر ہوتا، کبھی پیدل جانے کو ترجیح دیتاتھا، یونیورسٹی سے ایم ایس سی کرنے کے لیے دوست و احباب کا اس عزم کے ساتھ مقروض بن گیا کہ کامیابی حاصل کرکے دم لیں گے اور یہی کرکے دکھایا۔ آج جب وہ خیبر پختونخوا ایجوکیشن مانیٹرنگ اتھارٹی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، تو ان کا مقصد دراصل اسی تعلیمی نظام کی مانیٹرنگ اور اصلاح کرنا ہے جس کی تلخیاں انہوں نے خود بچپن میں جھیلی تھیں۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بچہ جو آج ٹاٹ پر بیٹھا ہے، کل وسائل کی کمی کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ خان محمد صاحب میں ہمت اور ولولے کا جو جوش موجود ہے وہ اب بھی تازہ دم ہے۔ ان کے ارادوں میں اب بھی ایک طرف ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے اور مصنوعی ذہانت، اے آئی کی دنیا میں نئی راہیں تلاش کرنے کا جنون موجود ہے تو دوسری جانب بیوروکریسی پر بھی نظر ہے۔ حال ہی میں جامعہ قرطبہ پشاور سے کمپیوٹر سائنسز میں ایم فِل کی ڈگری مکمل کرنا ان کے اسی غیر متزلزل شوقِ علم کا تسلسل ہے جو انہیں مزید ترقی کی نئی راہوں پر گامزن رکھے ہوئے ہے۔ اگر زندگی اور صحت نے ساتھ دی تو ان شاءاللہ وہ دن دور نہیں کہ باجوڑ کے دیہی علاقے سے ابھرنے والا یہ نوجوان اس ملک کے بڑے خدمات کے سرانجام دہی کے لیے سامنے آئے گا۔ موصوف کا یہ سفر محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ اس پوری نوجوان نسل کے لیے ایک روشن سبق ہے جو نامساعد حالات کو اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ ان کی زندگی یہ پیغام دیتی ہے کہ عاجزانہ آغاز دراصل ایک ایسا لانچ پیڈ ہوتا ہے جہاں سے آپ اپنے خوابوں کی اڑان بھر سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کے پاس ایک بڑا ویژن ہو۔ جب کوئی شخص اپنی بنیادوں سے جڑا رہتا ہے اور خلوصِ نیت کے ساتھ محنت کرتا ہے، تو معاشرہ اسے وہ عزت و محبت دیتا ہے جس کی اسے توقع بھی نہیں ہوتی۔ خان محمد صاحب کی داستانِ حیات ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ جب مٹی کا دیا اپنی لو کو طوفانوں کے سامنے برقرار رکھتا ہے، تو بالآخر وہ ایک دمکتا ہوا سورج بن کر افق پر طلوع ہوتا ہے، جس کی روشنی سے نہ صرف اس کا اپنا مستقبل بلکہ پورے معاشرے کی راہیں روشن ہو جاتی ہیں۔
ان کا یہ سفر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ستاروں سے آگے ابھی اور بھی جہاں ہیں، اور ہمت مرداں ہو تو ہر منزل قدم بوسی کے لیے تیار کھڑی ہوتی ہے۔ یہ داستان ہمیں یقین دلاتی ہے کہ ستارے اندھیرے میں ہی سب سے زیادہ چمکتے ہیں، اور اگر انسان میں آگے بڑھنے کی تڑپ ہو تو پوری کائنات اس کے لیے راستے بنانا شروع کر دیتی ہے۔