سوچ کی سمت درست کی حالات سیدھے ہو گئے!

تحریر: ظفر اقبال ظفر
میں اپنے کاروباری مقام پر گاہکوں سے لین دین کے معاملات کے دوران ان کی تنگ نظری کے ہاتھوں کئی بار غصے سے جل کر کباب ہو جاتا تھا پھر میں نے خود پر ترس کھاتے ہوئے جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ جیسے میں تنگ نظری سمجھتاہوں وہ دراصل لوگوں کی تنگ دستی ہے۔ حکومت میں عوام جیسے لوگ اور عوام میں حکومت جیسے لوگ مصنوعی مہنگائی کو مسائل کا حل تصور کرکے مزیدمسائل ایجاد کرتے جا رہے ہیں تاجر طبقے کا ایک بڑا حصہ ناجائز اضافے کے آگے انکار کی دیوار کرنے کی بجائے حکومت کے ظلم میں اپنے ظلم کا اضافہ کرکے عوام میں تقسیم کرنے کوکامیابی سمجھتے ہیں۔ مگر ایک اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو انسانیت کا درد اپنے سینے میں محسوس کرتے ہوئے رحم دلی سے کام لیتے ہیں جو اپنے ظلم کا حصہ نہ ڈالتے ہوئے انسانیت پر احسان کرتے ہیں شاید یہی وہ اچھے لوگ ہیں جن کی وجہ سے مشکل دنیاآسانیوں کے دھکوں سے چلتی جا رہی ہے انسانیت پر احسان پروری وسیع فروغ پائے اس کے لیے احسان شناسی کا شعوربہت ضروری ہے تاکہ ہم اصلی ہیروز کی پہچان کر سکیں احسان شناسی بڑی محنت و آبیاری کا پھل ہے جس کی غیر مہذب اور ناشائستہ لوگوں سے توقع نہیں کی جا سکتی۔دور حاضر کی خودغرضانہ انسانی فطرت سے واقف ہونے کے باوجود میں احسان شناسی کی توقع کرکے غم انگیز اورالمناک غلطی جان بوجھ کر کر رہاہوں کیونکہ میرے شعور نے میرے قلم کی دعوت فکر کا ساتھ دینا ہے ہر انسانی دماغ میں رحم دلی کی آبیاری کرنااس لیے ضروری ہے کہ انسانی حسن سلوک کی فضاء میں دوسروں پر احسان کی خوشبو پھیلائی جائے اپنی نسلوں کوخودغرضی کے خطرناک نظریات سیکھا کر زندگی کی گاڑی میں سوار مت کیجئے۔
زہین لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ہر معاشرے میں خود غرض انا پسند خود پسند ناشکرگزارلالچی لوگ موجود رہتے ہیں اس میں کوئی تعجب و پریشانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ایسے لوگوں کے بغیر کسی زمینی دنیا کا تصور نہیں کیا جا سکتااس انسانی فطرت کو بدلنے کی بجائے قبول کرکے اپنے کردار کا اچھا حصہ ڈالیں یہ وہ خوشبو ہے جو برے سے برے انسان کو بھی حسن سلوک کا زائقہ چکنے پر مجبور کرتی ہے۔ ضروری نہیں آپ جس پر احسان کریں وہ احسان شناس بھی ہو مگر آپ شکرگزاری کی توقع نہ رکھتے ہوئے اُس رب کا شکر ادا کریں جس نے اپنے مال سے اپنے کسی کمزور حالات کے مہنگے انسان پر خرچ کرنے کی توفیق دیکر اجر کی دولت سے نوازناچاہا ہے۔
ماضی کے چند برس پہلے کورونا وائرس آیا تھا س کے پیش نظر ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگ گیا اس لاک ڈاؤن سے چند ماہ پہلے میں نے اپنے کاروبار کو نئی جگہ منتقل کیا جس کے لیے پہلی دفعہ قرض اُٹھایا تھا مگر چند ماہ بعدہی لاک ڈاؤن لگ گیا گویا میرے لیے یوں تھا جیسے قرضے کی رقم جوئے میں ہار بیٹھا ہوں خوددار انسان فقط خدا سے مانگتا ہے اسے کسی بندے سے مانگنا پڑھ جائے تو رُوح پر گزرنے والی ازیت کا احساس گہرا تکلیف دہ ہوتا ہے مجھے تب معلوم ہوا کہ مایوسی کے مرض کی کمزوری پورے وجود کواپاہج کر دیتی ہے میں ساری خوداعتمادی اور قوت ارادی کھو چکا تھا مایوسی کی گھٹائیں مجھ پر محیط ہو چکی تھیں ہر جانب تاریکی ہی تاریکی کہیں سے اُمید کی کوئی کرن نظر ٓنہیں آ رہی تھی ایسے عالم میں مجھے ایک منظرنظر آیا جس نے حالات سے لڑنے والی کھوئی ہوئی طاقت کو اضافے سے بحال کر دیا۔
وہ منظر یہ تھا کہ ایک ٹانگوں سے محروم شخص چھوٹی سی دو پہیوں والی گاڑی پہ بیٹھاہے اور اپنے دونوں ہاتھو ں سے لکڑی کی چھڑی سے اس گاڑی کو آگے دھکیل رہا ہے اس نے اپنے وجود اور گاڑی کے بوجھ کو ہاتھوں کی مدد سے مسائل کے سپیڈ بریکر سے کسی کی مدد کے بغیر عبور کرتے ہوئے میری طرف دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے باادب سلام پیش کیا اور بولادیکھئے صاحب آج خدا نے بڑی سہانی صبح خوشگوار دن سے منسلک کر کے دی ہے ناں؟میں حیرت کی کیفیت سے نکلتے ہوئے اس کی حقیقی مسکراہٹ کے جواب میں مصنوعی مسکرایا اور سلام کا جواب دیتے ہی متفق ہوتے ہوئے بولاآپ درست فرما رہے ہیں۔اس کی زندہ دلی کے ساتھ شکر گزاری محرومیوں کا مزاق اُڑا رہی تھی اس کی ٹانگیں نہیں تھیں مگر اس کی زندگی باقی کی نعمتوں پر رقص کرتے ہوئے جینے کی زلت سے بھری پڑی تھی میں نے اپنے وجود سے مایوسی کے بدبودار لباس کو اُتار پھینکنے کے بعد آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ چومتے ہوئے شکریہ ادا کیا تو اس نے کہا میں نے آ پ کو جب کچھ دیا ہی نہیں تو شکریہ کس بات کا؟میں نے جواب میں کہا آپ نے مجھے دنیاوی چیزوں سے مہنگی سوچ کا تحفہ دیا ہے مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ زندگی فقط زہنی اپاہج لوگوں کی ختم ہوا کرتی ہے آپ ٹانگوں سے محروم ہونے کے باوجود مسرور خوش دل خود اعتماد رہ سکتے ہیں تو میرا تو پورا وجود سلامت ہے میں اک دنیاوی حادثے میں مال کی بربادی پر جسمانی اعضاء کے کھونے جیسا دُکھ خود پر کیوں طاری کروں؟میں نے اپنی بحال ہوئی قوت خوداراری وخوداعتمادی سے صبر وتحمل کو ساتھ لیتے ہوئے کسی پریشان حال انسان کے دل کو خوشی دیتے ہوئے اس میں موجود خداکی رحمت کے دروازے پر مدد کی دستک دی تو رازق نے میری عزت نفس کا تحفظ کرتے ہوئے نہ صرف انسان کے سامنے حاجت بیان کرنے سے بچایا بلکہ جہاں سے توقع بھی نہ تھی وہاں سے حل کے اسباب پیدا فرمائے۔پہلے میں مشکل گھڑی میں آسمان کی جانب دیکھتا تھا اب میں مشکل حالات میں زمین پر پریشان حال انسان کی طرف دیکھتا ہوں تو لگتا ہے خدا کی توجہ میری جانب ہو گئی ہے کسی کی مشکل دُور کرتے ہی میری مشکل کا سامان میری جانب چلنے لگتاہے۔ضروری نہیں مدد مال کے ذریعے ہی ہو کسی بکھری سوچ کی سمت درست کرکے اُس کے حالات سیدھے کر دینا بھی باوقار مدد ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *