مہاجر قوم کا قائد یا قاتل؟

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی
28 دسمبر 2025 کو کراچی میں ہونے والی پریس کانفرنس میں مصطفیٰ کمال نے (ایم کیو ایم) کے بانی الطاف حسین پر سنگین الزامات لگائے، جو نہ صرف پارٹی کی اندرونی تاریخ سے مطابقت رکھتے ہیں بلکہ دستیاب شواہد اور تاریخی حقائق سے بھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے سنگین یہ ہے کہ الطاف حسین نے نشے کی حالت میں پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا حکم دیا، جو ان کی سالگرہ پر “تحفہ” کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ الزامات مہاجر قوم کے لیے ایک تلخ حقیقت کا پردہ چاک کرتے ہیں کہ الطاف حسین، جو خود کو مہاجروں کا قائد کہلواتے تھے، درحقیقت ان کی تباہی اور بربادی کا ذمہ دار ہیں۔
الطاف حسین نے اردو بولنے والے مہاجروں کو، جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آئے اور پڑھے لکھے، تمیز اور تہذیب والے لوگ تھے، ایک پرتشدد دلدل میں دھکیل دیا۔ ایم کیو ایم کی بنیاد تو مہاجر حقوق کے لیے رکھی گئی تھی، مگر جلد ہی یہ پارٹی تشدد، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور جہالت کی علامت بن گئی۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں کراچی میں ہزاروں لوگ سیاسی تشدد کا شکار ہوئے، جن میں سے بہت سے کیسز ایم کیو ایم کے مسلح ونگ سے منسلک تھے۔ آپریشن کلین اپ (1992-1994) کے دوران ہزاروں ایم کیو ایم کارکن اور حامی مارے گئے یا لاپتہ ہوئے، مگر اس آپریشن کی وجہ بھی پارٹی کی پرتشدد سرگرمیاں تھیں، جن میں بھتہ خوری، زمینوں پر قبضہ اور مخالفین کے قتل شامل تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے ایم کیو ایم پر تشدد، ٹارچر اور مافیہ طرز کی سرگرمیوں کے الزامات لگائے۔
ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا معاملہ الطاف حسین کی سفاکیت کی واضح مثال ہے۔ 2010 میں لندن میں ڈاکٹر عمران فاروق کو چھریوں کے وار کر کے قتل کیا گیا۔ 2020 میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تین ایم کیو ایم کارکنوں – خالد شمیم، محسن علی اور معظم علی – کو عمر قید کی سزا سنائی اور الطاف حسین کو مفرور قرار دیا۔ مصطفیٰ کمال نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ الطاف حسین نے نشے میں دھت ہو کر پارٹی کارکنوں کو حکم دیا کہ عمران فاروق “پریشانی” کا باعث بن رہے ہیں، اور پھر کارکن لندن جا کر قتل کر آئے۔ کمال نے یہ بھی الزام لگایا کہ الطاف حسین نے عمران فاروق کی بیوہ کی لاش پاکستان لانے کے نام پر دنیا بھر سے لاکھوں پاؤنڈ چندہ اکٹھا کیا، مگر اصل میں یہ ڈرامہ بازی تھی۔ یہ الزامات نئے نہیں؛ سابقہ ایم کیو ایم رہنما جیسے سولت مرزا نے بھی موت سے پہلے ویڈیو بیان میں الطاف حسین پر قتل کے الزامات لگائے تھے۔
مزید برآں، الطاف حسین پر انڈین انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) سے فنڈنگ کے الزامات بھی سنگین ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ الطاف حسین کو دہائیوں سے را سے پیسے مل رہے تھے، جن سے کراچی میں دہشت گردی کی جا رہی تھی۔ یہ الزامات 2016 میں الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر کے بعد شدت اختیار کر گئے، جب سکاٹ لینڈ یارڈ نے ان پر تحقیقات کیں۔ اگرچہ برطانیہ میں کچھ کیسز ختم ہو گئے، مگر پاکستان میں الطاف حسین پر غداری اور دہشت گردی کے الزامات برقرار ہیں۔ ایم کیو ایم کے مسلح ونگ نے کراچی کو بوری بند لاشوں، لسانی فسادات اور بھتہ خوری کا گڑھ بنا دیا۔ 2011 میں کراچی میں 1800 قتل ہوئے، جن میں سے بہت سے ٹارگٹ کلنگز ایم کیو ایم سے منسلک تھے۔
الطاف حسین نے مہاجر قوم کو تعلیم اور ترقی کی بجائے تشدد اور جہالت کی طرف دھکیلا۔ وہ پڑھے لکھے مہاجر جو تہذیب اور تمدن کے علمبردار تھے، انہیں گٹکا، ماوا اور بھتہ خوری کی دلدل میں دھکیل دیا گیا۔ آج مہاجر نوجوان تعلیم کی بجائے تشدد کی راہ پر ہیں، اور یہ سب الطاف حسین کی قیادت کا نتیجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ الطاف حسین مہاجر قوم کا قائد نہیں، بلکہ قاتل ہے۔ انہوں نے پارٹی کو اپنی ذاتی جاگیر بنا لیا اور مخالفین کو ختم کرتے رہے۔
مہاجر قوم کو اب جاگنا ہوگا۔ مصطفیٰ کمال جیسی آوازیں حق کی آوازیں ہیں جو اس دلدل سے نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ الطاف حسین کی سیاست نے صرف موت، تباہی اور تقسیم دی۔ وقت آ گیا ہے کہ مہاجر قوم سچ کا سامنا کرے اور ترقی، امن اور تعلیم کی طرف قدم بڑھائے۔ مصطفیٰ کمال کی جرات کو سلام، جو اپنی جان خطرے میں ڈال کر سچ بول رہے ہیں۔ مہاجر قوم زندہ باد، پاکستان پائندہ باد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *