عملی تعلیم کے بغیر امتحانات کا انعقاد سمجھ سے باہر، وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے فوری ریلیف اور نوٹس کا مطالبہ
( چوھدری احمد بیوروچیف ڈیلی جستجو ڈیرہ غازی خان سے )
تعلیمی نظام میں عملی تربیت (Practical) کی اہمیت کو نظر انداز کیے جانے کے باعث ہزاروں طلباء کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں، والدین اور خود طلباء کی جانب سے یہ شکایت سامنے آئی ہے کہ سکولوں میں نصابی کتابیں تو پڑھائی جاتی ہیں لیکن سائنس اور دیگر مضامین کے ضروری پریکٹیکلز نہیں کروائے جا رہے، جس کی وجہ سے بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
پریکٹیکلز کے بغیر امتحانات کا تضاد:
والدین اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب سکولوں میں لیبارٹریز فنکشنل نہیں ہیں اور بچوں کو تجربات کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا، تو امتحانات میں پریکٹیکل کے الگ نمبر رکھنے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟ بغیر کسی مشق کے بچوں سے عملی امتحان لینا ان کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس صورتحال میں طلباء نہ صرف اعتماد کھو رہے ہیں بلکہ امتحانات میں بھی انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
سخت قواعد اور بچوں کی بے بسی:
حالیہ تعلیمی پالیسیوں کے باعث اب پریکٹیکلز کے امتحانات مزید مشکل اور سخت کر دیے گئے ہیں۔ طلباء کا کہنا ہے کہ “ہمارا کیا قصور ہے کہ ہمیں سکولوں میں سکھایا نہیں گیا، مگر امتحان میں ہم سے سب کچھ پوچھا جاتا ہے؟” والدین کا موقف ہے کہ یہ نظام بچوں کو ذہنی دباؤ میں ڈال رہا ہے، جبکہ اصل ذمہ داری تعلیمی اداروں اور انتظامیہ کی ہے کہ وہ لیبز میں سہولیات فراہم کریں۔
عوامی حلقوں نے وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ:
ہر سکول میں باقاعدگی سے پریکٹیکل کلاسز کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔
موجودہ تعلیمی سیشن میں پریکٹیکلز کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بچوں کو خصوصی ریلیف دیا جائے۔
ان سکولوں کے خلاف کارروائی کی جائے جہاں لیبارٹریز کے فنڈز ہونے کے باوجود بچوں کو عملی تربیت نہیں دی جاتی۔
یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے، اگر آج عملی اقدامات نہ کیے گئے تو ہماری نئی نسل عالمی تعلیمی معیار میں بہت پیچھے رہ جائے گی۔اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں ۔اس بار بچوں کو ریلیف دیا جائے