سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس

عمرکوٹ سندھ (بیوروچیف زیب بنگلانی) ڈپٹی کمشنر عمرکوٹ نوید الرحمان لاڑک کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کورآرڈینیشن کمیٹی برائے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے دربار ہال میں منعقد ہوا، اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ٹو عمران آرائیں، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر عمرکوٹ ڈاکٹر محمد علی، ڈی ایم پی پی ایچ آئی شرف الدین میمن، انچارج نادرا عمرکوٹ قربان منگریو، متعلقہ محکموں کے افسران، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن میڈم خدیجہ قبرہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ ھریش چندر، مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں بلال عالمگیر، امتیاز کھوسو، عیدل کنبھر اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، اجلاس میں حکومت سندھ اور ورلڈ بینک کے مشترکہ تعاون سے جاری “ممتا پروگرام” کے تحت جاری سرگرمیوں اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اس موقع پر ڈسٹرکٹ کورآرڈینیشن سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی عمرکوٹ میڈم خدیجہ قبرہ نے پروگرام کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ پروگرام بالخصوص حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت و غذائیت کو بہتر بنانے کے لیے جاری ہے، جس کے تحت مستحق خواتین کو مالی معاونت اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، انہوں نے کہا کہ 4790 عورتوں کی رجسٹریشن کی ہے، انہوں نے کہا کہ ہماری کل کمپلائینس کا ٹارگٹ 83968 تھا جس میں 37129 کی کمپلائینس ہوئی ہے، انہوں نے کہا کہ ممتا پروگرام کے تحت حاملا عورتوں کو دی جانے والی رقم کو 30000 ہزار سے بڑھا کر 41000 ہزار کر دیا گیا ہے جو کہ 2 مارچ سے بینیفشری کو ملنا شروع ہو گیا ہے، انہوں نے کہا کہ بینک الفلاح کی 40 ڈوائیز پوری اضلاع میں کام کر رہے ہیں، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت دی کہ پروگرام کے تحت مستحقین کی شفاف اور بروقت رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا بے ضابطگی برداشت نہیں کی جائے گی، انہوں نے کہا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جائے اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین تک اس پروگرام کے فوائد پہنچانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، انہوں نے مزید ہدایت دی کہ آگاہی مہم کو تیز کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق خواتین اس پروگرام سے مستفید ہو سکیں، اس کے علاوہ متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی رابطہ اور کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ پروگرام کے مقاصد مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں، اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ وہ پروگرام کی پیش رفت سے متعلق باقاعدہ رپورٹ پیش کریں اور درپیش مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *