گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن

ترتیب
نظام الدین

گل پلازہ میں آتشزدگی پر میں نے اس کی ایسوسی ایشن پرسوال اٹھایاتو میرے ایک دوست آصف نوی والا نے میرے کالم کو فیک”کرار اس لیے دے دیا کہ سوشل میڈیا پر وائرل منٹینش کی پانچ سو پچاس روپے ماہوار کی رسید فیک”ہے؟بہرحال” جب سندھ حکومت نے اس سانحہ پر جسٹس جناب آغا فیصل کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا تو عام شہریوں سے بھی اس واقعے سے متعلق شواہد طلب کیے گئے،میں نے فیک”قرار دیئے جانے والی رسید جوڈیشل کمیشن کو جمع کرادی تو کمیشن نے باقاعدہ سماعت میں مجھے شامل کرلیا،اتفاق سےگل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کو کمیشن کی پہلی سماعت میں پیش ہونا تھا مگر وہ غیر حاضر تھے۔جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر کہاں ہیں؟ باہر آواز لگوائیں،تنویر پاستا کے نوٹس نکلوائیں۔اور کمیشن نے دوسری آواز سینیئر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی سید عدنان حیدر زیدی کو لگائی اور وہ روسٹرم پر حاضر ہوگئے جن سے
جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ گل پلازہ کے اطراف روڈ نیٹ ورک آپ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم صرف پلاٹ کی لیز دیتے ہیں۔جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ روڈ پر تجاوزات بھی آپ کا معاملہ نہیں؟ گل پلازہ کا ٹائٹل کیا ہے؟۔سینئر ڈائریکٹر لینڈ نے کہا 1884میں ایسٹ انڈیا کمپنی کو میونسلپٹی نے 99 سالہ لیز پر دی تھی۔ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ ان کو زمین کیسے دی؟ کس قانون کے تحت زمین ملی تھی؟رجسٹر میں انٹری سے کیا ملکیت ہوجاتی ہے۔ زمین گرانٹ کی گئی تھی، کس نے لیز جاری کی تھی؟ ہمارے علم کے مطابق لیزسرکاری ادارہ دیتا ہے۔کوئی انفرادی شخص لیز نہیں دے سکتا۔ ڈاریکٹر کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو جسٹس صاحب نے کہا آپ کس کو رپورٹ پیش کرتے ہیں؟ وہ بولے میونسپل کمشنر کو ۔کمیشن کے سربراہ نے اڈر دیا نوٹس نکالئے سینیر ڈائریکٹر لینڈ کے ایم سی معاونت نہیں کرسکتے۔ میونسپل کمشنر آئندہ سماعت میں حاضر ہوں ، اس کے بعد گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا کمیشن کی سماعت کے دوران پہنچے تو انہیں کمیشن نے روسٹر پر طلب کرلیا۔ کمیشن نے پوچھا گل پلازہ بند ہونے کا وقت کیا ہے؟صدر نے بتایا مارکیٹ عام دنوں میں ساڑھے 10 سے پونے 11 جبکہ ہفتے کو ساڑھے 10 سے 11 بجے بند ہوتی تھی۔کمیشن نے سوال کیا کہ آفیشل وقت کیا ہے؟ صدر نے کہا ہم نے مقررہ وقت پر کسی کو بند کرنے کا پابند نہیں کیا تھا۔کمیشن نے پوچھا کہ دروازے کیا ایک ایک کرکے بند کرتے تھے؟ صدر نے بتایا کہ گیٹ نمبر ون سے ساڑھے 10بجے دروازے بند کرنا شروع کرتے تھے اور 20 سے 25 منٹ میں دروازے بند کرنے کا عمل مکمل ہوتا تھا۔ ریمپ ساڑھے11بجے بند ہوتا ہے،کمیشن نے پوچھا کیا سی سی ٹی وی ریکارڈ موجود ہے؟اس پر صدر نے کہا عمارت گرنے کے بعد ملبے سے کچھ ڈی وی آر ملے تھے، دو جگہ ڈی وی آر ریکارڈ ہوتےتھے،بیسمنٹ اور سیکیورٹی روم میں، دو ماہ پہلے سی سی ٹی وی سسٹم اپگریڈ کیا گیا تھا جس کے بعد 280 سی سی ٹی وی کیمرے لگے تھے۔مرکزی راہداری پر چھ سے آٹھ فٹ اور میزا نائن پر دس فٹ، کمیشن نے پوچھا کہ اپروول پلان کے مطابق کتنی دکانیں ہیں؟ صدر نے بتایا میں نے عمارت نہیں بنائی، حادثے کے وقت 1153دکانیں لیز تھیں۔2003 میں بیسمنٹ سے پارکنگ ختم کرکے چھت پر پارکنگ بنائی گئی۔ایس بی سی اے حکام نے کہا مزید منزل نہیں بنا سکتے اسی کو توسیع کیا جاسکتا ہے۔ سب لیز کا ریکارڈ ہمارے پاس نہیں ہے۔ صدر نے بتایا کہ ہر دکان سے 15 سو روپے مینٹیننس وصول کی جاتی ہے۔ ہم نے دکان مالکان کو کہا تھا کہ کرائے کا معاہدے ہمارے ذریعے کیا جائے۔ کمیشن نے پوچھا کہ منیجمنٹ کا کیا کردار تھا؟ صدر نے جواب میں کہا مینٹیننس وصول کرنا صفائی، سی سی ٹی وی اورچوکیدار منیج کرنا، کمیشن نے سوال کیا کتنے چوکیدار ہیں؟ صدر نے کہا جب آگ لگی تب 6 تھے، کمیش نے پوچھا آگ بجھانے والے آلات کتنے تھے، صدر سو سلینڈر 65 بال اور ایک ماہ پہلے سلینڈر دوبارہ بھروائے گئے تھے۔ تمام ریکارڈ دفتر میں تھا جو جل چکا ہے۔ کمیشن نے پوچھا کیا آپ کی ایسوسی ایشن رجسٹرڈ ہے؟ صدر نے کہا نہیں۔ کمیشن نے سوال کیا اگر آپ مارکیٹ کے درمیان میں ہوتے تو باہر نکلنے میں کتنا وقت لگتا؟ صدر نے جواب دیا کہ باہر نکلنے اور دیگر منزلوں ہر جانے کے متعدد راستے تھے۔کمیشن نے پوچھاکہ منیجمنٹ کے کتنے لوگ اندر تھے؟ صدر نے بتایا کہ 40 رضا کار تھے جن میں سے 5 شہید ہوئے۔کمیشن نے سوال کیا آپ کب سے صدر ہیں؟ صدر نے کہا 2024 سے، کمیشن نے پوچھا پہلے بھی آپ کہیں کمیٹی میں رہے ہیں؟ صدر نے کہا “آر جے مال” میں بلڈر کے ساتھ تھا، صدر نے پھرکہا آگ لگنے کے بعد 95 فیصد لوگ نکل گئے تھے۔ کمیشن نے سوال کیا آپ نے تمام سیل ڈیڈ کراچی چیمبر کو فراہم کیے ہیں؟ کیا آپ وہ ہمیں فراہم کرسکتے ہیں؟ ہمیں ٹائٹل دیکھنے ہیں۔ صدر نے کہا دوبارہ عمارت بنتی ہے تو ان کو وہی دکانیں دوبارہ ملیں گی۔کمیشن نے سوال کیا کون بنا کر دے رہا ہے؟ صدر نے کہا حکومت نےاعلان کیا ہے، جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ نجی پراپرٹی ہے لیکن سرکار آپ کو دوبارہ بنا کردے گی؟ کمیشن نے گل پلازہ مینجمنٹ اور صدر کو 72 سوالنامہ سمیت
منٹینش کی تفصیلات تمام قسم کی رسیدیں اور دیگر دستاویزات کمیشن میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کی،، سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی نے کمیشن کے روبرو بیان میں کہا کہ ہمیں واٹس ایپ پر سینیئر فائر افسر کا پیغام موصول ہوا۔ایس او پی بھی یہ ہی ہے۔ تمام ہائیڈرنٹس پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔انہوں نے کہا گل پلازہ کا قریبی ہائیڈرنٹ 14 کلومیٹر دور ہے، ہماری پہلی گاڑی 10 بجکر 56 منٹ پر پہنچی اور پانی کی سپلائی بغیرکسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ ہیڈ کوارٹر، صدر، لیاری، ناظم آباد ہائیڈرینٹ موجود ہیں۔کمیشن نے پوچھا پہلے تین گھنٹے کے لیے کتنا پانی سپلائی کیا گیا؟ اور کیا فائر اسٹیشنز کے پاس واٹر کارپوریشن کی لائن ہونی چاہیے۔احمد علی صدیقی نے کہا 15فائرہائیڈرنٹس موجود ہیں جہاں سے فائر ٹینڈرز کو روزانہ چھ گھنٹے پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ فائر بریگیڈ ہیڈ کوارٹر میں ایک ملین گیلن یومیہ کا ٹینک موجود ہے۔کمیشن نے پوچھا گل پلازہ میں پہلے دو گھنٹوں میں کتنا پانی استعمال ہوا ہوگا؟ احمد علی صدیقی نے کہا کہ 20 ہزار گیلن پانی ایک گھنٹے میں استعمال ہوتا ہے تو 40 ہزار گیلن استعمال ہوا ہوگا۔جسٹس نے کہا اگلے بارہ گھنٹوں میں آپ کو پانی کی ضرورت تو نہیں پیش آئی ہوگی۔ 24 گھنٹوں میں بھی فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی نہیں ہونی چاہیے تھی؟ انکوائری کمیشن نے سی ای او واٹر کارپوریشن سے 12 سوالات کےجوابات اور 7 اہم دستاویزات طلب کرلیں۔سوالات میں پوچھا گیا ہے کہ گل پلازہ کے ارد گرد فائر ہائیڈرنٹس کتنے اور کتنے گل پلازہ کے قریب مینٹین ہیں؟کیا وہ ہائیڈرنٹس فعال تھے اور سانحہ کے وقت پانی کا پریشر کتنا تھا؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی سپلائی جاری تھی؟ کیا پانی کا پریشر کم ہوا؟ کیا کہیں پانی کی فراہمی بند ہوئی ؟ پانی کا پریشر کم ہونے سے آپریشن متاثرہ ہوا؟کیا واٹربورڈہائیڈرنٹس کی انسپیکشن کرتا ہے؟کیا ہائیڈرنٹس کا ریکارڈ مینٹین کیا جاتا ہے؟ کیا سانحہ کے وقت پانی کی کمی کی کوئی شکایت ملی تھی؟ کیا فائر فائٹنگ کے وقت پانی کا پریشر برقرار رہا؟ کیا سانحہ کے وقت ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست موصول ہوئی؟ کیا پانی کی فراہمی واٹر بورڈ کی زمہ داری تھی کہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے؟ گل پلازہ کے قریب ہائیڈرنٹ کا نقشہ پیش کیا جائے؟ ہائیڈرنٹ فعال اور پریشر ریکارڈ فراہم کیا جائے، کتنا پانی فراہم کیا گیا سانحہ کے وقت؟ پانی کی عدم فراہمی علم لائی گئی تھی؟ ہائیڈرنٹ کیسے بلائے جارہے ہیں ایس او پیز پیش کی جائیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ نے کمیشن کو بتایا کہ ابتدائی طور پر 8 زخمی اسپتال لائے گئے۔ جنہیں برنس سینٹر میں علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا۔ پھر اتوار کی صبح 6 قابل شناخت باڈیز لائی گئیں۔ اگلے 5، 6 روز تک باقیات لائی جاتی رہیں۔ 19 کو 15 باقیات اسپتال لائے گئے۔ 20 تاریخ کو 9، 21 تاریخ کو 22، 22 تاریخ کو 15، 23 تاریخ کو 4، 25 تاریخ کو 10 باقیات لائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی 2 روز تک لائے جانے والے لاشیں بعد سے بہتر تھیں۔ بعد میں ٹکڑوں میں ہڈیاں لائی گئیں۔ ایک ایک پیکٹ میں 5 افراد کی باقیات لائی جارہی تھیں، 25 کو 73 باقیات پہنچیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے ڈی این اے طلب کئے۔انہوں نے بتایا کہ 57 افراد نے خون کے نمونے دیئے ڈی این اے کے لئے 72 باڈیز کے لئے۔ جسٹس نے ریمارکس دیئے ابتدائی شناخت کے بعد 66 ناقابل شناخت باڈیز باقی بچیں۔جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ اس کا مطلب ہے 73 سے زائد ہلاکتیں ہوسکتی ہیں؟ پولیس سرجن نے کہا کہ 20 ڈی این اے سے شناخت ہوئی۔ دیگر باقیات سے ڈی این اے سیمپل نہیں مل سکے۔انہوں نے کہا کہ 1400-1600 درجہ حرارت میں 4 سے 5 گھنٹوں میں ڈی این اے ختم ہوجاتا ہے، یہاں 36 گھنٹوں تک آگ لگی ہوئی تھی۔ مقام پر موجودگی کی بنیاد پر بھی شناخت کی جاسکتی ہے۔”نوٹ”
کالم میں جوڈیشل کمیشن کا صرف خلاصہ نمایاں نکات اور عدالتی کارروائی کے اہم حصے رپورٹ کیے گئے ہیں کمیشن نے اپنی اب تک کی سفارشات میں گل پلازہ کو مکمل فائر آڈٹ تک سیل کرنے اور متاثرہ دوکانداروں کے لیے معاوضے کی تجویز دی ہے تاہم کسی شخصیت کی باقاعدہ گرفتاری کی تصدیق نہیں کی اور تفتیش تاحال جاری رکھنے کی ہدایت دی گئی !!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *