تحریر-نظام الدین
گل پلازہ میں لگنے والی آگ میں نیوز چینل پر دیکھ رہا تھا اور مجھے وہ دن یاد آرہے تھے جب میں نے یہاں اپنے دوست آصف نوی والا کے ساتھ برتنوں کی دکان کھولی تھی اس وقت گل پلازہ میں 1200 دوکانیں تھیں جس میں لگ بھگ سات ھزار افراد کام کرتے تھے، بیسمنٹ، میز مائن سمیت پانچ فلور تھےایک وقت میں یہاں چار سے پانچ ارب روپے مالیت کا سامان موجود ہوتا تھا
روازنہ دس سے پندرہ ھزار افراد شاپنگ کرتے تھے جس میں خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی تھی، پچانوے فیصد میمن اور پٹھان دوکاندار تھے رات دس بجے اسی فیصد گیٹ بند کر دئیے جاتے تھےگل پلازہ کے اردگرد دس منزلہ سے زائد اونچی عمارتیں ہیں یہ واحد تین منزلہ عمارت تھی جو تقریباً پونے دو ایکڑ 8000 گز پر تعمیر تھی ہر ماہ 5500 روپے مینٹیننس کے وصول کیے جاتے تھے بلڈنگ میں فائر ایگزٹ نہیں تھا وائرنگ ناقص تھی فائر فائٹنگ کا بنیادی سامان تک موجود نہیں تھا
میں متعدد بار یونین آفس گیا جہاں میمن حضرات خوش گپیوں میں مصروف رہتے تھے کس اجنبی دکاندار کو گھانش نہیں ڈالتے تھے، اب سوال یہ ہے جب منٹنس لی جاتی تھی تو انتظام کیون نہیں تھا جب دس بجے 80 فیصد گیٹ بند کر دے جاتے ہیں تو دس بجے کے بعد خطرناک آگ کیسے لگی؟ ابتدائی رپورٹ کے مطابق 6 افراد جاں بحق ہوئے اور 1200 سے زائد دکانیں خاکستر ہو گئیں۔ آگ گراؤنڈ فلور سے شروع ہوئی اور تیسری منزل تک پھیل گئی، جس سے عمارت کے کچھ حصے گر گئے۔ اس کی تفتیش ضروری ہے کیونکہ کراچی شہر میں اس طرح آگ لگنے کے پراسرار واقعات طویل عرصے سے چلے آرہے ہیں؟ راشد منہاس روڈ پرآر جے شاپنگ مال میں نومبر 2023 میں آگ لگ چکی ہے، جس میں 11 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔صدر کوآپریٹو مارکیٹ نومبر2021 میں شدید آگ لگی۔
اس آگ میں تقریباً 500 سے زائد دکانیں مکمل طور پر جل گئیں، تھیں 2024 کے آغاز میں فرنیچر مارکیٹ میں آگ لگنے سے 25 سے زائد دکانیں جل گئی تھیں، بلدیہ ٹاؤن ستمبر 2012 میں
علی انٹرپرائزز نامی گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ میں 258 سے زائد مزدور جاں بحق ہوئے تھے
فائر بریگیڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، شہر میں ہر سال اوسطاً سینکڑوں چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں اس طرح کی آگ کو فائر بریگیڈ عام طور پر تین درجات کو استعمال کرتی ہے
گزشتہ 18 سالوں میں صرف تجارتی مارکیٹوں میں ہونے والا نقصان 100 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے ، سوال یہ ہے کہ حکمرانوں نے ایک دو یا تین مرتبہ آگ لگنے کے واقعات سے سبق حاصل کیوں نہیں کیا کیوں ہر مرتبہ نئی آگ لگنے کا انتظار کرتے ہیں ؟
جب ایک عام دکاندار یا بڑا تاجر حکومت کو انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور پروفیشنل ٹیکس ادا کرتا ہے، تو اس کے بدلے میں ریاست کی بنیادی ذمہ داری اسے “تحفظ” فراہم کرنا ہے، کراچی سے سالانہ کھربوں روپے کا ٹیکس جمع ہوتا ہے، لیکن اس کا بہت معمولی حصہ شہر کے انفراسٹرکچر پر خرچ ہوتا ہے، وہ ٹیکس کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ اگر ایک پلازہ سیفٹی کے بغیر بن رہا ہے، تو حکومت کا ادارہ (SBCA) اسے بننے ہی کیوں دیتا ہے؟ ٹیکس وصول کرنے والے ادارے تب تو پہنچ جاتے ہیں جب دکان کا سائز انچ بھر بڑھ جائے، لیکن جب وہاں فائر ایگزٹ کا راستہ غائب ہو تو خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ یہ حکومت کی ملی بھگت ہے۔ ناکامی یا غفلت جس کی وجہ سے لوگ ایدھی، چھیپا یا سیلانی جیسے فلاحی اداروں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ حکومت کے لیے شرم کا مقام ہے کہ ٹیکس وہ وصول کرے لیکن آگ بجھانے اور لاشیں اٹھانے کا کام نجی فلاحی ادارے یا عام لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کریں، دنیا بھر میں حکومتیں ایک آزاد ادارہ بناتی ہیں جو ہر چھ ماہ بعد مارکیٹ کا دورہ کرتا ہے اور سیفٹی سسٹم خراب ہونے پر مارکیٹ سیل کر دیتا ہے۔ یہاں حکومت صرف حادثے کے بعد “فوٹو سیشن” اور “معاوضے کا اعلان” کرنے تک محدود رہتی ہے۔حکومت کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا نہیں بلکہ اس ٹیکس کو عوامی تحفظ کے نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ جب تک عوام اور تاجر برادری منظم ہو کر “ٹیکس کے بدلے تحفظ” کا مطالبہ نہیں کریں گے، حکمران اسی طرح غفلت برتتے رہیں گے ،