​اسلام آباد میں دہشت گردی کا خونی کھیل: 23 قیمتی جانیں ضائع، ہر طرف بکھرے انسانی اعضاء

​ڈیرہ غازی خان سے بیوروچیف چوھدری احمد راجپوت کی خصوصی رپورٹ ): وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک بار پھر دہشت گردی کی لہر سے لرز اٹھا، جہاں ہونے والے ایک ہولناک دھماکے نے درجنوں خاندانوں کے چراغ گل کر دیے۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 23 افراد کی شہادت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں زخمی ہسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

​رقت آمیز مناظر۔دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جائے وقوعہ پر قیامت کا منظر برپا ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے تھے؛ کہیں کسی کا کٹا ہوا بازو، کہیں ٹانگیں اور کہیں مسخ شدہ دھڑ انسانی درندگی کی داستان سنا رہے تھے۔ زمین خون سے رنگ گئی اور فضا چیخ و پکار سے گونجتی رہی۔
​شہداء کی فہرست۔
​سید امیر قاسم گیلانی ولد سید واحد علی گیلانی (سکنہ علی پور اسلام آباد)
​ذیشان حیدر ولد حسن (سکنہ سکردو)
​محمد علی ولد فدا حسین (سکنہ بلتستان)
​محمد صارم ولد زاہر محمود (سکنہ کوٹلی ستیاں – عمر 8 سال)
​سلیمان علی ولد مرزا علی (سکنہ پارا چنار)
​غلام بنی ولد محمد حسین (سکنہ گلگت بلتستان)
​سید فاروق حسین شاہ ولد سید مزمل حسین شاہ (سکنہ مظفر آباد)
​سید ابرار حسین شاہ ولد سید امیر حسین شاہ (سکنہ ترلائی)
​گل افراز حسین شاہ ولد سید امتیاز حسین شاہ (سکنہ ترلائی)
​ملک شاہ زیب حسین ولد ملک مدور حسین (سکنہ ترلائی اسلام آباد)
​مظہر حسین ولد عبدالمجید (سکنہ ترلائی اسلام آباد)
​عمریز علی ولد طارق خان (سکنہ ڈیرہ اسماعیل خان – عمر 24 سال)
​فرمان علی ولد آدم خان (سکنہ علی پور اسلام آباد – عمر 68 سال)
​اشتیاق بٹ ولد افضل احمد (سکنہ مسلم ٹاؤن راولپنڈی – عمر 62 سال)
​علی اصغر ولد سیف القائمی (سکنہ ترلائی کلاں اسلام آباد – عمر 10 سال)
​صفت علی ولد عاشق حسین (سکنہ ترلائی کلاں اسلام آباد – عمر 26 سال)
​عاشق حسین ولد علی زوار (سکنہ پارا چنار)
​سید قیصر رضا ولد سید صفدر عباس (سکنہ علی پور نئی آبادی – عمر 17 سال)
​سید محمد رضوان ولد افتخار حسین (سکنہ علی پور اسلام آباد – عمر 25 سال)
​سبطین علی کاظمی ولد سید ذاکر حسین (سکنہ ترلائی اسلام آباد)
​وہاب علی ولد قنبر علی (سکنہ غوری ٹاؤن – عمر 60 سال)
​عنبر عباس ولد حاجی عاشق حسین (سکنہ حیدرآباد، سرگودھا – عمر 40 سال)
​سید ضامن علی ولد سید عقیل بخاری (سکنہ علی پور اسلام آباد)
​تجزیہ و اثرات
​اس فہرست میں 8 سال کے معصوم بچے سے لے کر 68 سال کے بزرگ تک شامل ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب یا انسانیت سے تعلق نہیں ہے۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ جانی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *