سالانہ عرس و سخی سرور میلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث منسوخ

ڈیرہ غازی خان بیوروچیف چوھدری احمد سے )

سالانہ عرس و سخی سرور میلہ سیکیورٹی خدشات کے باعث منسوخ — حقائق ایک بار پھر سامنے آ گئے
سخی سرور سبزی منڈی کا منصوبہ حکومت کی جانب سے شروع کیا گیا تھا، مگر تاجر وہاں منتقل نہیں ہوئے۔ یہ فیصلہ کسی ضد یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر نہیں تھا بلکہ سنگین اور حقیقی سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے تھا۔
اُس وقت یہ علاقہ پہلے ہی ڈکیتیوں، چوریوں اور امن و امان کے مسائل کا شکار تھا۔ تاجروں نے بارہا ان خدشات کی نشاندہی کی اور اپنے کاروبار، مزدوروں اور خریداروں کے تحفظ کے لیے محفوظ مقام کا مطالبہ کیا۔
یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ 2013 میں حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کی گئی جس میں اُس وقت کے منتخب نمائندے، ضلعی انتظامیہ (ایڈیشنل کلیکٹر / ڈپٹی کمشنر سطح) اور محکمہ زراعت کے افسران شامل تھے۔ اس کمیٹی کی سفارشات میں بھی اس مقام کو عوامی منڈی کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا۔ اسی نوعیت کی آراء صوبائی سطح پر محکمہ زراعت کی جانب سے بھی سامنے آئیں۔
مزید برآں، انٹیلی جنس اور سیکیورٹی اداروں نے بھی حساس تنصیبات کی موجودگی—جن میں ایٹمی توانائی سے متعلق انفراسٹرکچر اور فوجی تنصیبات شامل ہیں—کے باعث اس علاقے کو بڑی عوامی منڈی یا اجتماع کے لیے نامناسب قرار دیا۔
اب حالیہ خبر سب کے سامنے ہے کہ اسی مقام پر لگنے والا مویشی میلہ بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کر دیا گیا۔ یہ عملی فیصلہ اس بات کی مزید تصدیق کرتا ہے جو تاجر اور متعلقہ ادارے برسوں سے کہتے آ رہے ہیں۔
یہ معاملہ ترقی کی مخالفت کا نہیں۔
یہ معاملہ حفاظت، ذمہ داری اور زمینی حقائق کا ہے۔
یہ منسوخی واضح طور پر اس موقف کو تقویت دیتی ہے کہ:
سخی سرور ایک بڑی عوامی سبزی منڈی کے لیے محفوظ یا موزوں مقام نہیں ہے۔
ہزاروں لوگوں کے روزگار سے متعلق فیصلے صرف کاغذی کارروائی نہیں بلکہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *