پی این ایس ہنگور پاکستان نیوی کی وہ آبدوز ہے جس نے 1971 کی جنگ میں اکیلی دشمن کے دو جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا اور تاریخ بدل دی۔

فرانس میں بنی یہ ڈیفن کلاس آبدوز 1968 میں لانچ ہوئی اور دسمبر 1970 میں کمانڈر احمد تسنیم کی کمانڈ سنبھالتے ہی کراچی پہنچی۔ نام رکھا گیا “ہنگور” یعنی شارک مچھلی، جو تیزی اور خاموش حملے کی علامت ہے۔

جنگ چھڑتے ہی 26 نومبر 1971 کو ہنگور بمبئی کے ساحل سے چند میل دور گشت کر رہی تھی۔ 9 دسمبر کی آدھی رات، اندھیرے سمندر میں دو ہندوستانی فریگیٹس آئی این ایس کھکری اور آئی این ایس کرپان نظر آئے۔ 40 میٹر کی گہرائی میں چھپی ہنگور نے پہلا ٹارپیڈو چلایا جو ہدف سے بچ گیا، مگر دوسرا ٹارپیڈو سیدھا کھکری کے میگزین پر جا لگا۔ زبردست دھماکے کے ساتھ کھکری چند منٹوں میں سمندر میں غرق ہو گئی، اس کے 194 افسران اور ملاح بھی مارے گئے۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع تھا کہ کسی آبدوز نے روایتی ٹارپیڈو سے دشمن کا جنگی جہاز ڈبویا ہو۔
تیسرا ٹارپیڈو کرپان پر چلا جو بری طرح زخمی ہوئی اور بھاگ کھڑی ہوئی۔ اب ہندوستانی بحریہ نے پوری طاقت سے ہنگور کا شکار شروع کر دیا۔ ہیلی کاپٹر، جنگی جہاز، ڈیپتھ چارجز کی بارش، مگر ہنگور خاموشی سے گہرائی میں چھپتی، سمت بدلتی، ایک ہفتہ تک سانس روکے لڑتی رہی۔ بیٹریاں تقریباً ختم، آکسیجن کم، پھر بھی عملہ ڈٹا رہا۔
آخر 13 دسمبر کو جب سورج نکلا تو ہنگور کراچی واپس لوٹ آئی، بالکل سلامت۔ اس ایک کارروائی نے پاکستانی بحریہ کو ستارہ جرأت کے چاراعزاز دلوائے، خود کمانڈر احمد تسنیم کو ستارہ جرأت اور ہلال امتیاز ملا۔

2006 میں ریٹائر ہونے کے بعد ہنگور اب کراچی کے میری ٹائم میوزیم میں کھڑی ہے، جہاں ہر سال 9 دسمبر کو “ہنگور ڈے” منایا جاتا ہے۔ وہ خاموش شارک جو اکیلی اتری تھی اور تاریخ لے کر واپس آئی تھی
ناصر چوہدری سیالکوٹ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *