سیالکوٹ میں کرپشن کے اندھیروں پر اینٹی کرپشن نے ایک بار پھر تیز روشنی ڈال دی—
تھانہ حاجی پورہ کے معاملات میں مبینہ طور پر سب انسپیکٹر طیب ہدایت کا کار خاص سمجھے جانے والا شخص ذیشان عرف مون اینٹی کرپشن کے ٹریپ ریڈ میں بری طرح پھنس گیا۔
ذرائع کے مطابق شہری کی طرف سے دی گئی درخواست میں الزام تھا کہ اس کے معاملے کو زیرِ التواء رکھ کر 20 ہزار روپے “معاوضے” کے نام پر رشوت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری پارٹی سے ملی بھگت بھی شک کے دائرے میں تھی۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے معاملے کی سنگینی دیکھتے ہوئے مجسٹریٹ کی نگرانی میں خصوصی ٹریپ ریڈ ترتیب دیا۔ منصوبہ کیا تھا، مگر انجام کچھ یوں ہوا کہ:
جیسے ہی شہری نے رقومات حوالے کیں، ذیشان عرف مون—جو اپنے آپ کو پولیس اہلکار ظاہر کر کے “گھر گھر کارروائیاں” کرنے کا ماہر بنا بیٹھا تھا—
اینٹی کرپشن کی ٹیم نے اسے ** رنگے ہاتھوں** دبوچ لیا۔
گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے نہ صرف نقد رقم بلکہ پولیس فائلیں، سرکاری ٹیگ لگی درخواستیں اور حساس نوعیت کے کاغذات بھی برآمد ہوئے، جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ یہ شخص کسی عام کردار کا حصہ نہیں بلکہ ”فیصلے بدلوانے“ والے نیٹ ورک کا فعال کل پرزہ تھا۔
ابتدائی پوچھ گچھ میں اس نے اعتراف کیا کہ
“مجھے رقم وصولی کے لیے بھیجا گیا تھا…”
کس نے بھیجا؟
کیوں بھیجا؟
اس اعتراف نے تفتیش کا رخ سیدھا سب انسپیکٹر طیب ہدایت کی جانب موڑ دیا ہے۔
اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے، جبکہ باوثوق ذرائع کے مطابق سب انسپیکٹر طیب ہدایت کی گرفتاری بھی کسی وقت عمل میں آ سکتی ہے۔
سیالکوٹ میں یہ کارروائی اس بات کا اعلان ہے کہ
اب “کار خاص” بھی محفوظ نہیں—
اور رشوت کے جال میں الجھی ہر ڈوری اینٹی کرپشن کے ہاتھوں کھلنے والی ہے۔
ناصر چوہدری سیالکوٹ