پی ایم اے لاہور کا ایم ڈی کیٹ بے ضابطگیوں، ہیلتھ کیئر کمیشن کے چھاپوں اور صحت کارڈ پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار

پی ایم اے کی انٹرنیشنل میڈیکل کانفرنس 15 سے 17 مئی 2026 کو لاہور میں منعقد کرنے کا اعلان

لاہور (محمد منصور ممتاز سے)

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) لاہور کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس پی ایم اے کے مرکزی صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری کی صدارت میں پی ایم اے ہاؤس لاہور میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد ملک، پروفیسر اشرف نظامی، ڈاکٹر ارم شہزادی، ڈاکٹر مریم فاطمہ، ڈاکٹر بشریٰ حق، ڈاکٹر محمد صادق، ڈاکٹر احمد نعیم اختر سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے متعدد اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس میں صحت کے شعبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اہم فیصلے کیے گئے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کو سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد، شفاف اور منتخب ادارہ بنایا جائے تاکہ طب کے شعبے کی خودمختاری اور پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں ایم ڈی کیٹ امتحان میں سامنے آنے والی مبینہ بے ضابطگیوں اور ناانصافیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری تحقیقات اور شفاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ انصاف ہو سکے۔
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے ایم ایس ڈی ایس کے نام پر کلینکس اور ہسپتالوں پر کیے جانے والے غیر آئینی اور جارحانہ چھاپوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاء نے ان کارروائیوں کو ڈاکٹروں کی تضحیک، پیشے کی خودمختاری پر حملہ اور ہراسانی کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات محض ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں صوبہ پنجاب میں صحت کارڈ سہولت سے گائناکالوجی (زچہ و بچہ کی صحت) کے شعبے کو خارج کیے جانے پر بھی سخت ردِعمل ظاہر کیا گیا۔ اس فیصلے کو خواتین کے بنیادی صحت کے حقوق کے منافی، غیر ذمہ دارانہ اور معاشرے کے حساس طبقے کو اہم سہولت سے محروم کرنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے فوری بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔
اس موقع پر پی ایم اے کی جانب سے انٹرنیشنل میڈیکل کانفرنس کے انعقاد کا بھی اعلان کیا گیا جو 15 سے 17 مئی 2026 کو ہوٹل پی سی لاہور میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرینِ طب شرکت کریں گے اور طب کے میدان میں جدید تحقیق اور پیش رفت پر تفصیلی سیشنز ہوں گے۔
پی ایم اے لاہور نے اپنے مؤقف میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ڈاکٹر برادری کے جائز مسائل فوری طور پر حل کرے اور صحت کے شعبے کو سیاست، ناانصافی اور غیر ضروری دباؤ سے پاک رکھتے ہوئے عوام کی صحت کو اولین ترجیح بنائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *