میو ہسپتال کے اینستھیزیا ڈیپارٹمنٹ میں سنگین صورتحال، اعلیٰ سطحی انکوائری کا مطالبہ

لاہور (محمد منصور ممتاز سے)

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن (YDA) میو ہسپتال لاہور نے میو ہسپتال کے اینستھیزیا ڈیپارٹمنٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے جاری سنگین صورتحال پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ صحت پنجاب اور وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میو ہسپتال لاہور کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی پروفیسر کی بنیادی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے زیرِ تربیت ڈاکٹروں کے لیے رہنمائی، حوصلہ افزائی اور پیشہ ورانہ تربیت کو یقینی بنائے، تاہم میو ہسپتال کے اینستھیزیا یونٹ میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں ریزیڈنٹس کو ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بیان کے مطابق اینستھیزیا یونٹ میں نہ صرف پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس بلکہ ایسوسی ایٹ پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز اور سینئر رجسٹرارز بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران متعدد پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس، سینئر رجسٹرارز، کنسلٹنٹس اور فیکلٹی ممبران دورانِ تربیت یا ملازمت استعفیٰ دے کر اینستھیزیا یونٹ چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے طویل عرصے کے باوجود کسی بھی اعلیٰ اتھارٹی کی جانب سے اس اہم معاملے کا سنجیدہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ آخر بڑی تعداد میں ڈاکٹرز اینستھیزیا یونٹ کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ متعلقہ پروفیسر صاحبہ کے بااثر ہونے کے باعث اب تک اس معاملے پر کوئی واضح احتساب نہیں ہو سکا۔
ایسوسی ایشن نے وزیرِ صحت پنجاب اور وائس چانسلر سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ کتنے ایسوسی ایٹ پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسرز، سینئر رجسٹرارز، کنسلٹنٹس اور پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس اینستھیزیا یونٹ چھوڑ کر گئے، اور ان میں سے کتنے افراد نے متعلقہ پروفیسر کے رویے کے باعث استعفیٰ دیا۔
بیان میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ دیگر یونٹس سے اینستھیزیا یونٹ میں ٹرانسفر کیے گئے ڈاکٹرز کے چند ماہ میں استعفیٰ دینے کی وجوہات کا بھی تعین کیا جائے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے دیگر یونٹس سے سات سے آٹھ مزید ڈاکٹروں کو اینستھیزیا یونٹ میں بھیجنے کے فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید بگڑ جائے گا۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یا تو سابقہ ڈاکٹرز کو ری ہائر کر کے حقائق سامنے لائے جائیں یا موجودہ پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس کو اس منفی ماحول سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ اگر ریزیڈنٹس کو زبردستی ٹرانسفر کیا گیا تو ایسوسی ایشن احتجاج اور مزاحمت کا آئینی حق استعمال کرے گی۔
ایسوسی ایشن نے وائس چانسلر کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمود ایاز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور منصفانہ و پائیدار حل نکالا جائے، اس سے قبل کہ مزید ڈاکٹرز استعفیٰ دینے پر مجبور ہوں اور ان کا مستقبل متاثر ہو۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ آج ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن میو ہسپتال لاہور کی کابینہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) میو ہسپتال کے ساتھ وائس چانسلر کے دفتر میں ملاقات کی، جس میں اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سی ای او نے یقین دہانی کروائی کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے تحفظات وائس چانسلر تک پہنچا دیے جائیں گے۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کا فوری اور منصفانہ حل نہ نکالا گیا تو وہ احتجاج اور مزاحمت کا حق محفوظ رکھتیے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *