احمد پور سیال کے علاقے کنڈل کھوکھراں میں قانون کے محافظ ہی درندے بن گئے۔ تھانہ احمد پور سیال کی مبینہ پولیس گردی نے نہ صرف قانون بلکہ انسانیت، چادر اور چار دیواری کو بھی روند ڈالا۔ خواتین پر بہیمانہ تشدد، عزت نفس کی تذلیل اور جوتے چاٹنے پر مجبور کیے جانے جیسے لرزہ خیز الزامات نے پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک غریب خاندان انصاف کی دہائی دے رہا ہے، مگر سننے والا کوئی نہیں۔
احمد پور سیال(۔ ) کے علاقے کنڈل کھوکھراں میں ایس ایچ او غلام محی الدین کی سرپرستی میں پولیس ٹیم نے کھلی دہشت گردی کا مظاہرہ کیا۔ متاثرہ خاندان کے مطابق پولیس اہلکار نجی گاڑی میں آئے، زبردستی گھر میں گھسے اور بلا جواز تشدد کا آغاز کر دیا۔ ایک معصوم لڑکی کو بالوں سے پکڑ کر سڑک پر گھسیٹا گیا، ڈنڈوں اور رائفل کے بٹوں سے بے رحمانہ تشدد کیا گیا۔
انسانیت اس وقت شرما گئی جب مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے لڑکی کو اپنے جوتے چاٹنے پر مجبور کیا۔
متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس نے گھر کی بزرگ خاتون کو بھی نہیں بخشا، مقدس کلام کی مبینہ بے حرمتی کی گئی اور گھر سے قیمتی سامان، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور موٹر سائیکل لوٹ کر لے گئے۔ یہ سب کچھ قانون کے نام پر، وردی کے سائے میں ہوتا رہا۔
اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے پولیس نے ملتان میں زیرِ تعلیم طالبہ سمیت پورے خاندان پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کر دیں۔ متاثرین کا الزام ہے کہ ان کی کمسن بیٹی کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے، جبکہ 10 لاکھ روپے تاوان نہ دینے کی صورت میں بھائی کو جعلی مقابلے میں مارنے کی کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
“انہوں نے ہمارے گھر میں گھس کر ہمیں مارا، ہماری چادر چھینی، ہمیں جوتے چاٹنے پر مجبور کیا۔ اب میری بیٹی ان کے قبضے میں ہے اور وہ پیسے مانگ رہے ہیں۔ ہم غریب لوگ ہیں، کہاں جائیں؟ ہمیں وزیراعلیٰ مریم نواز سے انصاف چاہیے۔”
متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب اور ڈی پی او جھنگ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کو فوری طور پر معطل کر کے گرفتار کیا جائے، اغوا شدہ بچی کو بازیاب کرایا جائے اور جھوٹے مقدمات فی الفور خارج کیے جائیں۔



