سابق وزیراعظم کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات سخت سکیورٹی میں پروسیجر کیلئے پمز لایا گیا؛ ڈان اخبار کی خبر
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 28 جنوری2026ء) پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو پمز ہسپتال لایا گیا تو کیا صورتحال تھی؟ اس حوالے سے مزید تفصیل سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو ہسپتال لائے جانے کی ایک اور ذریعے سے تصدیق کی گئی ہے، اس سلسلے میں ڈان اخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ پمز کے ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا ’عمران خان کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات سخت سکیورٹی میں پروسیجر کیلئے پمز لایا گیا جہاں ان کے پروسیجر پر کچھ وقت لگا، سابق وزیراعظم کو ہسپتال لائے جانے سے قبل ہفتے کی رات کو نقل و حمل غیر معمولی تھی جبکہ اۤپریشن تھیٹرز اور بے ہوشی کے کمرے کا محاصرہ کیا گیا تھا‘۔اسی معاملے پر پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران خان کی آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج کے باعث بینائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، عمران خان کی دائیں آنکھ میں سی آر وی او کی تشخیص ہوئی ہے جس کے باعث آنکھ کی وین میں خطرناک بلاکیج پیدا ہو چکی ہے، ڈاکٹرز کے مطابق یہ سنگین طبی مسئلہ ہے اس کے نتیجے میں بینائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے الزام عائد کیا ہے کہ اڈیالہ انتظامیہ علاج جیل کے اندر کرانے پر بضد ہے حالاں کہ ڈاکٹروں نے واضح طور پر اسے ناممکن قرار دیا ہے کیونکہ سی آر وی او کے علاج کیلئے آپریشن تھیٹر اور خصوصی طبی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو جیل کے اندر ممکن نہیں جب کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود ذاتی معالج کو بانی پی ٹی آئی کے معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، عمران خان کے میڈیکل چیک اپ کی درخواست اگست 2025ء سے زیر التوا ہے، عمران خان کی فیملی اور رفقا سے فوری ملاقات کرائی جائے، انہیں مناسب اور فوری طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔