اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 جنوری2026ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں سال 24 سرکاری اداروں کی نجکاری کی جائے گی، جن میں ڈسکوز اور جینکو کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تین بڑے ہوائی اڈے بھی نجکاری کے عمل میں شامل ہیں۔اجلاس میں سیکریٹری نجکاری کمیشن عثمان باجوہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 5 ڈسکوز اور 2 جینکوز کی نجکاری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم نے نجکاری کمیشن کی استعداد بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور اس مقصد کے لیے مارکیٹ سے بہترین کنسلٹنٹس ہائر کیے جائیں گے، فی الحال کمیشن کے پاس 6 کنسلٹنٹس موجود ہیں۔سیکریٹری نجکاری نے نشاندہی کی کہ اگر ڈسکوز کی نجکاری نہ کی گئی تو ہر سال 300 سے 400 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا اور مختلف سرکاری ادارے ہر سال 900 ارب روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔اجلاس میں رکن کمیٹی عمر فاروق نے پی آئی اے کی نجکاری کے طریقہ کار پر اعتراض کیا، جس پر چیرمین کمیٹی افنان اللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے ہر سال 100 ارب روپے کا نقصان کر رہی تھی، اور نجکاری کے ذریعے اس نقصان کو کم کیا جا رہا ہے۔ سیکریٹری نجکاری نے کہا کہ پی آئی اے کے بڈرز کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی گئی، تمام درخواستیں مالی شفافیت کے ساتھ جانچی گئی ہیں، اور ورلڈ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں سے رپورٹس حاصل کی گئی ہیں۔
مزید 24 ادارے بیچنے کا فیصلہ