عمرکوٹ سندھ بیوروچیف زیب بنگلانی۔
ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ، نابالغ لڑکیوں کو دارالامان بھیجنا غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ عدالت نے سندھ حکومت کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے عمرکوٹ میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کرنے کا حکم دے دیا۔
وکیل بھورا لعل بھیل کی جانب سے دائر کردہ پٹیشن میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کے تحت نابالغ لڑکیوں کو دارالامان بھیجنا غیر قانونی ہے کیونکہ دارالامان کا ماحول بالغ خواتین کے لیے ہوتا ہے، جو کم عمر بچیوں کے لیے نہ مناسب ہے نہ محفوظ۔
پٹیشن میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ عمرکوٹ میں چائلڈ پروٹیکشن یونٹ یا شیلٹر ہوم نہ ہونے کی وجہ سے نابالغ لڑکیوں کو غلط طریقے سے دارالامان بھیجا جاتا ہے، جو ان کے حقوق، تحفظ اور نفسیاتی فلاح کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ڈبل بینچ، جس میں جسٹس عدنان کریم میمن اور جسٹس ریاضت علی ساہڑ شامل تھے، نے فیصلہ سناتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ کو حکم دیا کہ چھ ماہ کے اندر عمرکوٹ میں مکمل فعال چائلڈ پروٹیکشن یونٹ / شیلٹر ہوم قائم کیا جائے۔ نابالغ لڑکیوں کو دارالامان بھیجنے کا عمل فوری طور پر بند کیا جائے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ معصوم لڑکیوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، جو آئندہ ایسی غیر قانونی کارروائیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا۔
عدالتی کارروائی کے دوران سول جج عمرکوٹ، محترم منیر احمد جگسی نے بھی اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا تھا، جسے اب ہائی کورٹ نے عملی شکل دے دی ہے۔