ڈی ایس پی نے نوٹس تو لیا ۔لیکن داد رسی نا ہوسکی
واہ کینٹ (تحقیقاتی رپورٹ)
تھانہ صدر واہ کی حدود میں رہائشی ریٹائرڈ فوجی ناصر اور اس کی کم عمر بیٹیوں کا کیس محض ایک گھریلو تنازع نہیں رہا، بلکہ یہ معاملہ پولیس کے تفتیشی رویّے، اختیارات کے استعمال اور متاثرہ خاندانوں کو دی جانے والی عملی داد رسی پر ایک سنجیدہ سوال بن چکا ہے۔
پس منظر: ایک ریٹائرڈ فوجی اور اس کی بیٹیاں
ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ فوجی ناصر اپنی بیٹیوں کے ہمراہ اس وقت مشکلات کا شکار ہوا جب مبینہ طور پر مالکِ مکان کی جانب سے ان کا ذاتی سامان—جس میں بچیوں کے کپڑے، درسی کتابیں اور روزمرہ استعمال کی اشیا شامل ہیں—قبضے میں لے لیا گیا۔ متاثرہ خاندان کا مؤقف ہے کہ یہ سامان نہ ملنے کے باعث بچیاں نہ صرف تعلیمی نقصان کا سامنا کر رہی ہیں بلکہ شدید ذہنی اذیت میں بھی مبتلا ہیں۔
سوشل میڈیا پر خبر، ڈی ایس پی کا نوٹس
کیس سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد ڈی ایس پی تحصیل ٹیکسلا کی جانب سے خبر کا نوٹس لیا گیا۔ تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ یہ نوٹس تاحال عملی ریلیف میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان کو ڈی ایس پی آفس طلب کیا گیا، جہاں انہیں تقریباً تین گھنٹے تک انتظار کروایا گیا۔
انتظار کے بعد جواب: “تفتیشی افسر مصروف ہے”
متاثرہ ریٹائرڈ فوجی ناصر کے مطابق طویل انتظار کے بعد انہیں بتایا گیا کہ تفتیشی افسر مصروف ہے اور ملاقات ممکن نہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ وہ شدید تھکن اور مایوسی کے عالم میں دفتر سے واپس لوٹ آیا۔
فون کال اور دباؤ: “نہ آئے تو رپورٹ بنے گی”
ذرائع کے مطابق دفتر سے جانے کے کچھ دیر بعد متاثرہ خاندان کو دوبارہ فون کال موصول ہوئی، جس میں کہا گیا کہ وہ فوری طور پر واپس آئیں، بصورتِ دیگر ان کے خلاف رپورٹ درج کر دی جائے گی۔ اس اقدام کو قانونی ماہرین متاثرہ فریق پر نفسیاتی دباؤ کے مترادف قرار دے رہے ہیں، جو انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم سمجھا جاتا ہے۔
بنیادی سوال: فوری ریلیف کیوں نہ ملا؟
تحقیقاتی جائزے کے مطابق اس کیس میں سب سے بنیادی اور فوری اقدام—یعنی بچیوں کا ذاتی سامان مالکِ مکان کے قبضے سے چھڑوا کر دلوانا—تاحال نہیں کیا جا سکا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں پولیس کو سب سے پہلے انسانی بنیادوں پر فوری ریلیف فراہم کرنا ہوتا ہے، جبکہ تفتیش کا عمل بعد میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
اختیار اور ذمہ داری
ڈی ایس پی تحصیل ٹیکسلا سے عوامی و صحافتی حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ جب اختیار موجود تھا تو متاثرہ بچیوں کو فوری سہولت کیوں فراہم نہ کی گئی؟ ایک ریٹائرڈ فوجی اور اس کی بیٹیوں کو دفاتر کے چکر لگوانا کیا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے؟
انسانی پہلو: قوم کی بیٹیاں
یہ کیس محض فائلوں، رپورٹس اور نوٹسز تک محدود نہیں۔ یہ ان بچیوں کا معاملہ ہے جن کے کپڑے، کتابیں اور بنیادی ضروریات دوسروں کے قبضے میں ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسے واقعات میں ریاستی اداروں کی خاموشی یا تاخیر اجتماعی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔
نتیجہ: تاریخ سوال کرے گی
تحقیقاتی تجزیہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اگر اختیار رکھنے والے بروقت مظلوم کی داد رسی نہ کریں تو یہ خاموشی بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ آج اختیار موجود ہے، کل شاید صرف وضاحتیں رہ جائیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا قوم کی یہ بیٹیاں واقعی لاوارث ہیں، یا انہیں لاوارث چھوڑ دیا گیا؟