ایران میں معروف دانشور ڈاکٹر فرج اللہ جاں بحق

تہران (اے بی این نیوز) معروف دانشور ڈاکٹر فراج اللہ شوشتری ایرانی شہر مشہد میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاک ہو گئے جس سے ملک میں پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید بڑھ گئی۔

ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر فراج اللہ شوشتری آئی آر جی سی کے سابق کمانڈر جنرل نور علی شوشتری کے صاحبزادے تھے جن کی موت کو بہت بڑا صدمہ قرار دیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں پرتشدد فسادات کو دو ہفتے گزر چکے ہیں، جو ابتدا میں دارالحکومت تہران سے شروع ہوئے تھے اور اب ملک کے 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ملک بھر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل کردی گئی ہے جب کہ کئی علاقوں سے مکمل بلیک آؤٹ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں۔

کشیدگی کے باعث غیر ملکی ایئر لائنز نے تہران کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں جس سے فضائی ٹریفک شدید متاثر ہے۔ تہران اور اصفہان میں مشتعل مظاہرین نے سرکاری اور نجی املاک کو آگ لگا دی جب کہ فردوس شہر میں مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ہنگاموں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 62 تک پہنچ گئی ہے جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

دوسری جانب تعلیمی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں، تہران یونیورسٹی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ 10 جنوری سے 14 جنوری تک تمام کلاسز آن لائن ہوں گی۔یونیورسٹی کے مطابق صرف وہی طلبہ کیمپس میں آئیں گے جن کے امتحانات شیڈول ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *