
زندہ و مرحومین بھی مشکل میں ۔
چار دیواری نہ ہے ۔
شہری سراپا احتجاج، حکومت اور منتخب نمائندوں سے فوری توجہ کا مطالبہ
(رپورٹ: چوھدری احمد ڈیرہ غازی خان)
یارو کھوسہ کے قدیم قبرستان کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ قبرستان کے اندر جگہ جگہ گھنی جھاڑیاں، چھوٹے بڑے کیکر کے خطرناک نوکیلے کانٹے اور خود رو پودے اگ آئے ہیں جس کے باعث قبروں تک جانا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ قبرستان میں تقریباً 28 سو فٹ لمبائی قبرستان کے چاروں طرف لاکھوں روپے کی مٹی ڈالی گئ تاکہ کچھ راستہ بنے بلکہ بند باندھی گئیے
اور یہ سب اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں نے ثواب کی نیت سے کیا مگر اس پر نہ تو سولنگ کی گئی اور نہ ہی کوئی پکی سڑک موجود ہے۔ بارشوں اور گرمیوں میں سیلابی اور فصلاتی پانی قبرستان میں داخل ہو جاتا ہے جس سے قبریں متاثر ہوتی رہتی ہیں
افسوسناک امر یہ ہے کہ قبرستان کے گرد کوئی چار دیواری موجود نہیں جبکہ نہ ہی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں۔ شہر کے قریب واقع ہونے کے باعث صبح و شام لوگ اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لیے آتے ہیں، مگر موجودہ صورتحال میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں نے بتایا کہ یہ قدیم قبرستان ہے جہاں نہ صرف یارو کھوسہ بلکہ گردونواح کے شہروں اور قصبوں کے مرحومین بھی مدفون ہیں اور آج بھی تدفین کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کے باوجود قبرستان اور جنازہ گاہ کی دیکھ بھال پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔
جنازہ گاہ جو کبھی صاف ستھری ہوا کرتی تھی، آج جھاڑیوں، سرکنڈوں، کوڑا کرکٹ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ پانی کی فراہمی کے لیے کوئی انتظام موجود نہیں جبکہ صفائی ستھرائی کا نظام بھی مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔
علاقہ مکینوں نے صاف ستھرا پنجاب مہم اور حکومت سے شدید شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک اس قبرستان کے لیے کسی قسم کی عملی مدد فراہم نہیں کی گئی۔
شہری سراپا احتجاج ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت اور منتخب عوامی نمائندے فوری طور پر اس مقدس مقام کی طرف توجہ دیں۔
شہریوں کا کہنا تھا:
“یہ آخرت کا گھر ہے، مرنے کے بعد ہر امیر اور غریب نے یہی آنا ہے۔ یہاں قبر کی جگہ ملنا ہی بڑی بات ہے، کم از کم اس مقام کو باعزت اور محفوظ بنایا جائے۔”
اہل علاقہ نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر قبرستان کی صفائی، جھاڑیوں کی کٹائی، پکی سڑک کی تعمیر، نکاسی آب کا نظام، چار دیواری اور جنازہ گاہ کی مرمت کے اقدامات کیے جائیں تاکہ شہری سکون سے اپنے مرحومین کے لیے دعا کر سکیں۔