کشمیر میں انسانی حقوق کے قتلِ عام پر سوالیہ نشان رانا بشارت علی خان
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ (IHRM) نے گزشتہ برسوں کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں ہزاروں کی تعداد میں احتجاجی مظاہروں، عالمی کانفرنسوں اور باضابطہ سفارتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے۔ یہ احتجاجی مظاہرے اور اجتماعات اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مرکزی دفاتر کے سامنے منعقد کیے گئے، جہاں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف باضابطہ یادداشتیں پیش کی گئیں اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی مسلسل کوشش کی گئی۔

مزید برآں، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری عوام کے حق میں یکجہتی کے مظاہروں، آگاہی مہمات اور بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھرپور شرکت کی۔ پاکستان میں ہونے والی ان سرگرمیوں میں ملک کے پندرہ بڑے شہروں بشمول اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، راولپنڈی، بہاولپور، سکھر، حیدرآباد، ایبٹ آباد اور مظفرآباد شامل ہیں، جہاں کشمیری عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
پاکستان سے باہر بھی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کی سرگرمیاں دنیا کے اہم عالمی مراکز تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان مظاہروں اور سفارتی سرگرمیوں میں اقوامِ متحدہ کے جنیوا دفتر، اقوامِ متحدہ نیویارک ہیڈکوارٹر، اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے مرکزی دفتر، متحدہ عرب امارات، امریکہ (نیویارک اور واشنگٹن ڈی سی)، اور برطانیہ سمیت دنیا کے مختلف دارالحکومت شامل ہیں، جہاں کشمیر کو ایک سنگین انسانی حقوق کے مسئلے کے طور پر عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا۔
یہ خیالات رانا بشارت علی خان، چیئرمین، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ، نے جنیوا میں انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ کے زیرِ اہتمام کشمیر سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیے۔
رانا بشارت علی خان نے کہا کہ کشمیر میں جاری انسانی المیہ اب محض ایک علاقائی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ عالمی انسانی حقوق کے نظام کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہریوں کی شہادت، ہزاروں بچوں کا قتل، تعلیمی اداروں کی بندش اور تباہی، اسکولوں پر حملے، اور خواتین و بچوں سمیت بے شمار افراد کی غیرقانونی گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کا منظم قتلِ عام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ 1989 سے اب تک 96,000 سے زائد کشمیری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ حالیہ برسوں میں آئینی حیثیت کی منسوخی کے بعد مزید ہزاروں افراد کو ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، اجتماعی قبروں اور طویل قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ آج بھی آٹھ ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں، ہزاروں سیاسی قیدی مختلف جیلوں میں بغیر شفاف عدالتی کارروائی کے قید ہیں، اور سینکڑوں بچے پیلٹ گنز اور اندھا کرنے والے ہتھیاروں کے باعث مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری قیادت، صحافیوں، طلبہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو منظم طریقے سے قید و بند، تشدد اور طبی سہولیات سے محرومی کا سامنا ہے، جو بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات اجتماعی سزا کے زمرے میں آتے ہیں اور شہری آبادی کو خوف میں مبتلا رکھنے کی دانستہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
رانا بشارت علی خان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادیں اور عالمی فیصلے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتے ہیں، مگر ان پر عملدرآمد میں مسلسل تاخیر عالمی انصاف کے نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ ایک غیرجانبدار، اصولی اور عالمی مینڈیٹ رکھنے والی تحریک ہے جو شواہد پر مبنی وکالت، متاثرین کی آواز کو عالمی فورمز تک پہنچانے، اور اقوامِ متحدہ، یورپی یونین، او آئی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ذریعے قانونی و سفارتی دباؤ کو مسلسل بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
آخر میں رانا بشارت علی خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کی آزادی، کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور انسانی وقار کی بحالی کے لیے جدوجہد ہر عالمی پلیٹ فارم پر پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی، اور انصاف کے تقاضے پورے ہونے تک خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔