🔴 ڈی جی خان ٹیچنگ اسپتال: شفا خانہ یا موت خانہ؟ — مبینہ غفلت سے صحافی کی بھانجی جاں بحق، صحافی برادری سڑکوں پر نکل آئی۔

بروقت علاج نہ ملنے پر شہر بھر میں شدید احتجاج
مظفرگڑھ میں بھی ایمرجنسی میں ڈاکٹر نہ ہونے سے نوجوان دم توڑ گیا
سرکاری ہسپتالوں کے نظام پر سنگین سوالات
ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کا مطالبہ
ڈیرہ غازی خان (رپورٹ: احمد راجپوت)
ڈی جی خان ٹیچنگ اسپتال ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گیا ہے جہاں مبینہ طور پر ڈاکٹروں کی عدم توجہی اور غفلت کے باعث صحافی ملک مجاہد کی بھانجی جانبر نہ ہو سکی۔ اس واقعے کے بعد صحافی برادری اور سول سوسائٹی نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ سرکاری ہسپتال جو شفا کا مرکز ہونے چاہئیں وہاں بروقت علاج کا نہ ملنا انسانی وقار کی توہین ہے۔ شہریوں نے الزام لگایا کہ متعدد بار شکایات کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
اسی روز جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں بھی ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا جہاں ایک نوجوان کو ہارٹ اٹیک کی حالت میں ایمرجنسی منتقل کیا گیا مگر مبینہ طور پر تقریباً تیس منٹ تک کوئی ڈاکٹر موجود نہ تھا جس کے باعث وہ جان کی بازی ہار گیا۔
احتجاج کرنے والوں نے مطالبہ کیا کہ ان واقعات کی فوری اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں، غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی روسٹر پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔
مظاہرین نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کئی سینئر ڈاکٹر سرکاری اسپتالوں میں کم اور اپنے نجی کلینکس میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں، جس پر حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
عوامی حلقوں کے مطابق اگر فوری اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے سانحات معمول بنتے جائیں گے اور سرکاری نظامِ صحت سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔
جبکہ ایم پی اے محمد حنیف خان پتافی نے ایم ایس ہسپتال سے واقعہ کی رپورٹ مانگ لی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *